ایک سوال اساتذہ سے خصوصاً عروضیوں سے

عمران سرگانی — جنوری 18، 2020 11:17 صبح
السلام علیکم!
یہ کچھ اشعار ہیں تہذیب حافی صاحب کے۔۔۔
بظاہر بحر خفیف فاعلاتن مفاعلن فعلن میں معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں اشعار مصرعہ ثانی فاعلاتن مفاعلن مفعولن کے اوزان پر چلا گیا ہے۔۔۔
کیا ایسا کرنا جائز ہے یعنی اخفا کر کے آخری ہجائے بلند کو ہجائے کوتاہ بنانا؟؟؟
اتنی گرہیں لگی ہیں اس دل پر
کوئی کھولے تو کھولتا رہ جائے
کوئی کمرے میں آگ تاپتا ہو
کوئی بارش میں بھیگتا رہ جائے
تہذیب حافی
یا ان اشعار کے افاعیل کچھ اور ہیں۔۔۔
سید عاطف علی — جنوری 18، 2020 11:23 صبح
لیکن دونوں اشعار مصرعہ ثانی فاعلاتن مفاعلن مفعولن کے اوزان پر چلا گیا ہے
یہ دراصل فاعلاتن مفاعلن فعلان پر ہیں جو جائز ہے۔
یہ عام اصول ہے کہ کسی بھی بحر کے ہر آخری فعلن کو فعلان کیا جاسکتا ہے ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 18، 2020 12:46 شام
ویسے تہذیب حافی کے بارے میں محفلین اور اساتذہ کی کیا رائے ہے؟؟؟ :)
ایک بار یوٹیوب پر ایک وڈیو دیکھی جس کا عنوان تھا
Jon Elia vs Ali Zaryoun vs Tehzeeb Hafi, who is Better
:mad:
محمداحمد — جنوری 18، 2020 1:46 شام
ویسے تہذیب حافی کے بارے میں محفلین اور اساتذہ کی کیا رائے ہے؟؟؟ :)
ایک بار یوٹیوب پر ایک وڈیو دیکھی جس کا عنوان تھا
Jon Elia vs Ali Zaryoun vs Tehzeeb Hafi, who is Better
:mad:

پھر کا نتیجہ برامد ہوا، ویڈیو سے؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 18، 2020 1:59 شام
پھر کا نتیجہ برامد ہوا، ویڈیو سے؟
حضرت ہم ایسے واہیات عنوانات والی وڈیو پر کلک کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں :)
عمران سرگانی — جنوری 18، 2020 2:59 شام
یہ دراصل فاعلاتن مفاعلن فعلان پر ہیں جو جائز ہے۔
یہ عام اصول ہے کہ کسی بھی بحر کے ہر آخری فعلن کو فعلان کیا جاسکتا ہے ۔
و اللہ اعلم میں نے فعلان کا اس طرح استعمال نہیں دیکھا۔۔۔
سید عاطف علی — جنوری 18، 2020 3:17 شام
و اللہ اعلم میں نے فعلان کا اس طرح استعمال نہیں دیکھا۔۔۔
یہ تو بہت عام ہے بھئی ۔ آپ نے شاید غور نہیں کیا ہوگا ۔ یہ نہ صرف فعلن بلکہ فاعلن مفعولن مستفعلن فعولن ۔ الغرض ہر لُن پہ استعمال ہوتا آیا ہے۔
الف عین — جنوری 19، 2020 5:15 صبح
فاعلن کو فاعلان میں تبدیل ہونا کہا جائے یا فاعلات میں، بات ایک ہی ہے۔ اسی طرح فعلن کو فعلان. فعلات یا مفعول میں تبدیل کیا جانا بھی ایک ہی بات ہے
انیس جان — جنوری 23، 2020 8:00 صبح
و اللہ اعلم میں نے فعلان کا اس طرح استعمال نہیں دیکھا۔۔۔
آج دیکھ لو
غالب و اقبال کے مصرع ہیں
درد سے میری ہے تجھ کو بیقراری ہائے ہائے
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%D8%B3%DB%92-%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%8B-%D8%B9%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92.110038/