ایک سوال رہنمائی کے لیے

محمد اظہر نذیر — دسمبر 2، 2012 2:51 شام
کیا
فاعلاتن فاعلاتن
استعمال کیا جا سکتا ہے، بحر کیا ہو گی، کیا یہ مروج ہے؟
جبکہ
رمل مسدس اور رمل مثمن یوں ہیں بالترتیب
فاعلاتن فاعلاتن فاعلُن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلُن
الف عین — دسمبر 3، 2012 6:32 صبح
مزمل شیخ بسمل
ویسے نامانوس بحریں بھی استعمال کی گئی ہیں، یہ تو اتنی بھی نا مانوس نہیں۔ میرے خیال میں اس کی اجازت تو ہونی چاہئے
مزمل شیخ بسمل — دسمبر 3، 2012 8:44 صبح
بالکل اجازت ہے۔ بلکہ اساتذہ کا کچھ کلام بھی ڈھونڈنے سے مل سکتا ہے اس بحر میں۔؎
بحر رمل مربع سالم۔
مثال کے لئے:
رنج اٹھا کر، دل پھنسا کر
جا ملا دشمن سے دلبر
ناصحا! مت کر نصیحت
ہو گیا دل مثل پتھر
ٹالتا ہے بات کو وہ
دیدہ و دانستہ سن کر
اچھی اور قدرے مترنم بحر ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92.56864/