محبت کے مباحث کا ذرا محور تو ہو جاوں
مرا دل چاہتا ہے اب کہ میں اظہر کا ہو جاوں
//مباحث کا محور؟ یہ دوسرا مصرع کون کہہ رہا ہے؟
جی درست فرمایا ابہام ہے اگر یوں کہوں تو؟
محبت کے مباحث کسی محور کا ہو جاوں
جنون عشق میں ڈوبے کسی منظر کا ہو جاوں
سبھی کے ساتھ چل پانا ، نہیں ممکن ، مگر یوں ہے
مرا احساس مر جاٴے، یا میں پتھر کا ہو جاوں
//پہلے مصرع سی دوسرے کا تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔ دوسرے مصرع میں ’یا میں‘ میں الف گرنا اچھا نہیں۔ اسکو یوں کیا جا سکتا ہے
مرا احساس مر جائے، یا پتھر کا میں ہو جاؤں
جی اسے تبدیل کیے دیتا ہوں
سدھر جانا نہیں ممکن تُمہارا گر تو پھر یوں ہے
مرا احساس مر جاٴے، یا میں پتھر کا ہو جاوں
میں چاہوں بھی کبھی تو اس جہاں کا ہو نہیں سکتا
فقط اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے گھر کا ہو جاوں
//درست
نوازشمجھے رغبت ذرا سی بھی نہیں ہے، مے سے، ساقی سے
مگر اب سوچتا ہوں ، پی ہی لوں ، ساغر کا ہو جاوں
//درست، شعر کا مفہوم اگرچہ سمجھ میں نہیں آیا۔
جی بہتر ہے اسے بھی تبدیل کرتا ہوں
مجھے رغبت ذرا سی بھی نہیں ہے، مے سے، ساقی سے
مگر اے درد دل تھم جا ،یا پھر ساغر کا ہو جاوں؟
چھڑا لوں جان ابتر سے، دعا کرتا ہوں میں اظہر
نہیں ممکن اگر اچھا، تو کچھ بہتر کا ہو جاوں
//’ابتر سے‘ اور ’بہتر کا‘ سے مطلب؟
جی وضاحت نہیں ہو رہی، درست فرمایا آپ نے، اگر یوں کہوں تو؟
سبھی کا بن کے بھی دیکھا، ملا کچھ بھی نہیں اب تک
مرا دل چاہتا ہے اب کہ میں اظہر کا ہو جاوں