احمد بلال — اکتوبر 13، 2013 8:57 صبح
ہائے وہ بے وفا کے طور، مجھ کو بلا کے خود ہی اور
لیتا ہے جائزہ بغور، کہتا ہے پھر نہیں نہیں
الف عین ،
محمد وارث ،@فاتح
مزمل شیخ بسمل
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 13، 2013 9:22 صبح
اچھا شعر ہے۔۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 13، 2013 9:44 صبح
ہائے وہ بے وفا کے طور، مجھ کو بلا کے خود ہی اور
لیتا ہے جائزہ بغور، کہتا ہے پھر نہیں نہیں
الف عین ،
محمد وارث ،@فاتح
مزمل شیخ بسمل
اچھا کہا۔ وہ بے وفا کے؟ یا اس بے وفا کے؟
خود ہی کے بعد لفظ "اور" بھی زائد ہے۔
دوسرا مصرع بہت خوب ہے۔
خیال کے لئے بہر حال داد۔

محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 13، 2013 10:34 صبح
اچھا کہا۔ وہ بے وفا کے؟ یا اس بے وفا کے؟
خود ہی کے بعد لفظ "اور" بھی زائد ہے۔
دوسرا مصرع بہت خوب ہے۔
خیال کے لئے بہر حال داد۔
چونکہ ”اور“ قافیہ ہے ، اگر ”بلائے“ کردیا جائے تو شاید ”اور“ زائد نہ رہے۔۔۔ یا پھر جیسے اساتذہ رہنمائی فرمائیں۔
الف عین — اکتوبر 14، 2013 3:01 صبح
میرے خیال میں تو مکمل شعر درست ہے۔ بے وفا کے وہ طور اور اس نے وفا کے طور الگ الگ ہین۔
احمد بلال — اکتوبر 14، 2013 8:22 صبح
میرے خیال میں تو مکمل شعر درست ہے۔ بے وفا کے وہ طور اور اس نے وفا کے طور الگ الگ ہین۔
آج میری خوشی کا کوئی جواب نہیں ہے کہ آپ نے میرے شعر کو درست قرار دیا ہے۔