تابش بھائی ، جب بیٹھے بٹھائے یوں ہی شعر ہونے لگیں تو سمجھئے کہ اب آپ گئے کام سے !



دوسرا والا ٹھیک نہیں لگ رہا ۔ چونکہ بات ورق کی ہے اس لئے یہاں تہہ دار کے بجائے تہہ شدہ کا محل ہے ۔ تہہ دار کے معنی تو کچھ اور ہیں جو آپ جانتے ہی ہیں ۔ اور اس میں دونوں مصرعے زیادہ مربوط نہیں ۔ پہلا شعر بہتر ہے ۔ فیض لینا ویسے تو ٹھیک ہے لیکن فیض اٹھانا یا فیض پانا فصیح ہے۔
ویسے آپ کے اس شعر سے ہمیں اپنی ایک پرانی غزل یاد آگئی جو مشاعرے کے بعد کئی اور بازیاب غزلیات کے ساتھ محفل پر پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ اس غزل کامطلع کچھ یوں ہے:
کب سے لگی ہےاُس کی نشانی کتاب میں
کاغذ مُڑا ہوا ہے پرانی کتاب میں
باقی پھر ۔

