ایک شعر

محمد تابش صدیقی — اگست 29، 2016 10:06 صبح
بیٹھے بٹھائے غلطی سے ایک شعر لکھ دیا ہے.
اساتذہ اور دیگر شعراء ذرا پوسٹ مارٹم کر دیں.
لیا ہے فیض کسی نے تو زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
محمد تابش صدیقی — اگست 29، 2016 4:33 شام
اسی شعر کی ایک شکل اور کچھ یوں بنی ہے
لیا ہے درس کسی نے تو زندگی سے مری
کتابِ عشق کا تہہ دار اک ورق ہوں میں
اساتذہ اور شعراء سے توجہ کی درخواست. :)
محمدابوعبداللہ — اگست 29، 2016 5:56 شام
لیا ہے فیض کسی نے فقط سموسہ کھا کر
کسی کتاب کا آوارہ سا ورق ہوں میں
:laughing::laughing:
ظہیراحمدظہیر — اگست 30، 2016 3:21 صبح
بیٹھے بٹھائے غلطی سے ایک شعر لکھ دیا ہے.
اساتذہ اور دیگر شعراء ذرا پوسٹ مارٹم کر دیں.
لیا ہے فیض کسی نے تو زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
اسی شعر کی ایک شکل اور کچھ یوں بنی ہے
لیا ہے درس کسی نے تو زندگی سے مری
کتابِ عشق کا تہہ دار اک ورق ہوں میں
اساتذہ اور شعراء سے توجہ کی درخواست. :)

تابش بھائی ، جب بیٹھے بٹھائے یوں ہی شعر ہونے لگیں تو سمجھئے کہ اب آپ گئے کام سے ! :):):)
دوسرا والا ٹھیک نہیں لگ رہا ۔ چونکہ بات ورق کی ہے اس لئے یہاں تہہ دار کے بجائے تہہ شدہ کا محل ہے ۔ تہہ دار کے معنی تو کچھ اور ہیں جو آپ جانتے ہی ہیں ۔ اور اس میں دونوں مصرعے زیادہ مربوط نہیں ۔ پہلا شعر بہتر ہے ۔ فیض لینا ویسے تو ٹھیک ہے لیکن فیض اٹھانا یا فیض پانا فصیح ہے۔
ویسے آپ کے اس شعر سے ہمیں اپنی ایک پرانی غزل یاد آگئی جو مشاعرے کے بعد کئی اور بازیاب غزلیات کے ساتھ محفل پر پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ اس غزل کامطلع کچھ یوں ہے:
کب سے لگی ہےاُس کی نشانی کتاب میں
کاغذ مُڑا ہوا ہے پرانی کتاب میں
باقی پھر ۔ :):):)
محمد وارث — اگست 30، 2016 3:53 صبح
پہلا شعر بہتر ہے۔ تہہ شدہ ورق کو کھولنا یقینی اور حتمی طور پر اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ کسی نے واقعی ہی فیض پایا ہے یا درس لیا ہے۔ لیکن کتاب کا صفحہ موڑنا حتمی طور پر اس بات کی نشانی ہے کہ کوئی کتاب پڑھ رہا تھا یعنی فیض اٹھا رہا تھا اور اس نے صفحہ موڑا، دوبارہ فیض پانے کے لیے۔
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 4:24 صبح
تابش بھائی ، جب بیٹھے بٹھائے یوں ہی شعر ہونے لگیں تو سمجھئے کہ اب آپ گئے کام سے ! :):):)
دوسرا والا ٹھیک نہیں لگ رہا ۔ چونکہ بات ورق کی ہے اس لئے یہاں تہہ دار کے بجائے تہہ شدہ کا محل ہے ۔ تہہ دار کے معنی تو کچھ اور ہیں جو آپ جانتے ہی ہیں ۔ اور اس میں دونوں مصرعے زیادہ مربوط نہیں ۔ پہلا شعر بہتر ہے ۔ فیض لینا ویسے تو ٹھیک ہے لیکن فیض اٹھانا یا فیض پانا فصیح ہے۔
ویسے آپ کے اس شعر سے ہمیں اپنی ایک پرانی غزل یاد آگئی جو مشاعرے کے بعد کئی اور بازیاب غزلیات کے ساتھ محفل پر پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ اس غزل کامطلع کچھ یوں ہے:
کب سے لگی ہےاُس کی نشانی کتاب میں
کاغذ مُڑا ہوا ہے پرانی کتاب میں
باقی پھر ۔ :):):)
جزاک اللہ ظہیر بھائی خصوصی توجہ کا.
مجھے خود کھٹک رہا تھا دوسرا شعر. اب اطمینان ہو گیا.
پہلے مصرع کی یہ صورتیں بھی ہو سکتی ہیں
ہے پایا فیض کسی نے تو زندگی سے مری
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
لیا ہے درس کسی نے تو زندگی سے مری
کون سی صورت بہتر رہے گی؟
آپ کے مزید کلام کا انتظار رہے گا. :)
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 4:26 صبح
پہلا شعر بہتر ہے۔ تہہ شدہ ورق کو کھولنا یقینی اور حتمی طور پر اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ کسی نے واقعی ہی فیض پایا ہے یا درس لیا ہے۔ لیکن کتاب کا صفحہ موڑنا حتمی طور پر اس بات کی نشانی ہے کہ کوئی کتاب پڑھ رہا تھا یعنی فیض اٹھا رہا تھا اور اس نے صفحہ موڑا، دوبارہ فیض پانے کے لیے۔
جزاک اللہ وارث بھائی.
پہلے مصرع جی کچھ مزید صورتیں مندرجہ بالا پوسٹ میں لکھی ہیں، آپ کے نزدیک کون سی مناسب رہے گی؟
محمد وارث — اگست 30، 2016 4:37 صبح
جزاک اللہ وارث بھائی.
پہلے مصرع جی کچھ مزید صورتیں مندرجہ بالا پوسٹ میں لکھی ہیں، آپ کے نزدیک کون سی مناسب رہے گی؟
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
یہ مصرع زیادہ رواں لگ رہا ہے، حشو اور تعقید لفظی سے بھی صاف ، اب اس کو مصرع ثانی کے ساتھ دیکھیں تو
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
یہاں کسی کی تکرار ہو گئی ہے لیکن بری نہیں لگ رہی :)
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 4:55 صبح
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
یہ مصرع زیادہ رواں لگ رہا ہے، حشو اور تعقید لفظی سے بھی صاف ، اب اس کو مصرع ثانی کے ساتھ دیکھیں تو
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
یہاں کسی کی تکرار ہو گئی ہے لیکن بری نہیں لگ رہی :)
اگر کسی کتاب کی جگہ "کتابِ ہست" کر دوں تو کیا یہ ترکیب درست ہے؟
محمد وارث — اگست 30، 2016 5:14 صبح
اگر کسی کتاب کی جگہ "کتابِ ہست" کر دوں تو کیا یہ ترکیب درست ہے؟
پھر اس سے بہتر" کتابِ زیست" ہے۔
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 5:26 صبح
پھر اس سے بہتر" کتابِ زیست" ہے۔
بہت بہتر
یعنی اس طرح کر دیا جائے تو بہتر رہے گا.
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کتابِ زیست کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 5:28 صبح
ایک لجھن ہے یہاں پر.
کتابِ زیست ایک فرد کی زندگی کو کہا جاتا ہے نہ کہ دنیا کو؟
میں یہاں کتاب کو دنیا سے تشبیہ دینا چاہ رہا ہوں.
الف عین — اگست 30، 2016 5:39 صبح
ایک لجھن ہے یہاں پر.
کتابِ زیست ایک فرد کی زندگی کو کہا جاتا ہے نہ کہ دنیا کو؟
میں یہاں کتاب کو دنیا سے تشبیہ دینا چاہ رہا ہوں.
تو یہ تو کسی کتاب سے بھی مطلب نہیں نکلتا
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 5:44 صبح
تو یہ تو کسی کتاب سے بھی مطلب نہیں نکلتا
آپ کی رائے آ گئی ہے. تو اب کسی ہی رہنے دیتا ہوں. :)
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 5:54 صبح
کسی کتاب ذرا عمومی مفہوم لئے ہوئے ہے.
La Alma — اگست 30، 2016 3:32 شام
بہت خوب .خیال بہت عمدہ ہے .
کتابِ عشق کا تہہ دار اک ورق ہوں م

کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں

کسی کتاب ذرا عمومی مفہوم لئے ہوئے ہے.
یوں کر کے دیکھ لیں "کسی " کی تکرار سے بھی بچ جائیں گے اور عمومیت بھی ختم ہو جائے گی .
شعر کی موجودہ صورت بھی ٹھیک ہے .
کسی نے فیض اٹھایا ہے میرے لفظوں سے
کتاب ِ عشق کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 3:44 شام
بہت خوب .خیال بہت عمدہ ہے .
یوں کر کے دیکھ لیں "کسی " کی تکرار سے بھی بچ جائیں گے اور عمومیت بھی ختم ہو جائے گی .
شعر کی موجودہ صورت بھی ٹھیک ہے .
کسی نے فیض اٹھایا ہے میرے لفظوں سے
کتاب ِ عشق کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
جزاک اللہ بہن.
ابھی تو موجودہ صورت ہی بہتر لگ رہی ہے.
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 1، 2016 4:12 صبح
آپ کے مزید کلام کا انتظار رہے گا. :)

تابش بھائی ، مشاعرہ ختم ہوجائے تو انشاءاللہ حکم کی تعمیل ہوگی ۔ مشاعرے کے دوران کلام لگانا کچھ مناسب نہیں لگ رہا مجھے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B4%D8%B9%D8%B1.91667/