سید اسد معروف — ستمبر 17، 2016 10:11 صبح
چراغوں کا نگر تھا، روشنی کے استعارے تھے
تمھارا نور تھا، چاروں طرف، سائے ھمارےتھے
الف عین — ستمبر 17، 2016 1:34 شام
خوب
محمد تابش صدیقی — ستمبر 17، 2016 1:37 شام
بہت خوب.
اب ایسے شعر لکھیں گے تو چکر کیسے لگیں گے؟
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 19، 2016 3:57 صبح
واہ وا!! کیا بات ہے
اسد بھائی ! کیا اچھا شعر ہے!!
ویسے آجکل آپ ہیں کہاں؟ مشاعرے میں بھی نظر نہیں آئے ۔ اللہ تعالٰی آسانیاں عطا فرمائے اور امن و امان مین رکھے! آمین۔
سید اسد معروف — ستمبر 19، 2016 10:35 صبح
سید اسد معروف — ستمبر 19، 2016 10:44 صبح
بہت خوب.
اب ایسے شعر لکھیں گے تو چکر کیسے لگیں گے؟
بہت شکریہ اس پذیرائی کا۔
واہ وا!! کیا بات ہے
اسد بھائی ! کیا اچھا شعر ہے!!
ویسے آجکل آپ ہیں کہاں؟ مشاعرے میں بھی نظر نہیں آئے ۔ اللہ تعالٰی آسانیاں عطا فرمائے اور امن و امان مین رکھے! آمین۔
واہ وا!! کیا بات ہے
اسد بھائی ! کیا اچھا شعر ہے!!
ویسے آجکل آپ ہیں کہاں؟ مشاعرے میں بھی نظر نہیں آئے ۔ اللہ تعالٰی آسانیاں عطا فرمائے اور امن و امان مین رکھے! آمین۔
بہت شکریہ ظہیر بھائی۔ غمِ روزگار میں!! آج کل ہمارا محکمہءِ صحت تبدیلیوں کی زد میں ہے۔