ایک شعر کی اصلاح درکار ہے

فرحان محمد خان — مارچ 29، 2017 3:43 شام
خدا نے آنکھیں بھی دی ہیں ان کو
وہ کان سے پھر بھی دیکھتے ہیں
مَفاعلاتن مَفاعلاتن
سر الف عین
فرحان محمد خان — مارچ 29، 2017 3:48 شام
دیگر اساتذہءِ کرام
سر محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — مارچ 29، 2017 3:50 شام
درست ہے۔
فرحان محمد خان — مارچ 29، 2017 4:57 شام
سر کیا مفہوم بهی واضع کر سکا ہوں
La Alma — مارچ 29، 2017 5:04 شام
خدا نے آنکھیں بھی دی ہیں ان کو
وہ کان سے پھر بھی دیکھتے ہیں
مَفاعلاتن مَفاعلاتن
سر الف عین
یعنی کانوں کےکچے ہیں . جو جیسے بھی کان بھر دے انھیں ویسا ہی دکھائی دینے لگتا ہے ؟
محمد ریحان قریشی — مارچ 29، 2017 5:08 شام
سر کیا مفہوم بهی واضع کر سکا ہوں
دراصل اس کی تفسیر قاری خود کر سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ عوام کو یہ شعر بہت پسند آئے۔ نقاد البتہ اسے بے معنی قرار دے سکتے ہیں۔
فرحان محمد خان — مارچ 29، 2017 5:31 شام
یعنی کانوں کےکچے ہیں . جو جیسے بھی کان بھر دے انھیں ویسا ہی دکھائی دینے لگتا ہے ؟
میرا مطلب یہی تھا جو آپ نے لکھا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.95538/