ایک شعر ہے یوں اس کی اصلاح کی درخواست ہے
پھر نہ تقدیسِ ادب ہم سے قضا ہو جائے
آج یہ قرض بھی صدیوں کا ادا ہو جائے
پھر نہ تقدیسِ ادب ہم سے قضا ہو جائے
آج یہ قرض بھی صدیوں کا ادا ہو جائے
ادا کی رعایت سے قرض لائے ہیں تو قضا کی رعایت سے فرض بھی لایا جاسکتا ہے۔یہاں فرض کا مفہوم تقدیس سے کچھ وسیع تر ہے اور تقدیس کے عنصر پر محیط بھی۔
یہ اور بھی بہتر ہے۔ قضا اور قرضہ کی صوتی ہم آہنگی کی وجہ سے۔