محمد بلال اعظم — اپریل 16، 2012 12:21 شام
اس ایک شعر کی تقطیع کر رہا ہوں، مگر یہ سیٹ نہیں ہو رہی ہے
رنگ بھی، روشنی، صبا بھی
12212121221
سب میں موجود وہ خدا بھی
2222111221
ایم اے راجا — اپریل 16، 2012 1:05 شام
میرا خیال ہے یہ یوں ہے شاید
فاعلن فاعلن فعولن
الف عین — اپریل 16، 2012 4:06 شام
پہلا مصرع تو معلوم نہیں، دوسرا مصرع
مفعول مفاعلن فعولن
میں تقطیع ہوتا ہے۔ مزید اشعار ہوں تو درست اندازہ ہوتا ہے کہ الفاظ کا تلفظ، احذاف وغیرہ سے بحور بدل جاتی ہیں۔
محمد بلال اعظم — اپریل 16، 2012 4:59 شام
پہلا مصرع تو معلوم نہیں، دوسرا مصرع
مفعول مفاعلن فعولن
میں تقطیع ہوتا ہے۔ مزید اشعار ہوں تو درست اندازہ ہوتا ہے کہ الفاظ کا تلفظ، احذاف وغیرہ سے بحور بدل جاتی ہیں۔
جی استاد محترم، میں خود بھی باقی اشعار کی کوشش کرتا ہوں اور مزید اشعار یہاں پوسٹ کروں گا۔
محمد بلال اعظم — اپریل 17، 2012 9:24 صبح
پہلا مصرع اگر اس طرح کر دیا جائے تو
بادل ہے، سمندر ہے، صبا ہے
سب میں موجود وہ خدا ہے
پھر اس کی بحر یہ ہو جائے گی
مفعول مفاعلن فعول
کیا یہ ٹھیک ہے، اور باقی اشعار اسی بحر پہ ہوں گے یا کسی اور بحر پہ، ایک حمد لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
الف عین — اپریل 17، 2012 3:46 شام
پہلا مصرع خارج از بحر ہو رہا ہے۔ محض ’سمند‘ تقطیع ہو رہا ہے۔
بادل ہ۔ مفعول
مفاعلن سمند ہے
فعولن۔ ہوا ہے
اس کی جگہ کوئی اور لفظ کر دیں۔
خیال رہے کہ سمندر میں نون ساکن اور دال متحرک، بالفتح ہیں۔