ایک غزل

GULLFAM SOHAIB ASLAM — مئی 17، 2020 10:07 صبح
ہر حال میں مرتے ہیں
ہم عشق سے ڈرتے ہیں
دو روز سوا ان کے
مشکل سے گزرتے ہیں
اب چشم سے آنسو کئی
ہر روز بکھرتے ہیں
ہے واسطہ کسی سے گر
کیوں اس سے مکرتے ہیں
ہم لفظِ محبت کی
آواز سے ڈرتے ہیں
ہم اسم سے ان کے ہی
ہر سانس کو بھرتے ہیں
برہم ہو کے شکوہ بھی
گلفام سے کرتے ہیں
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 17، 2020 10:25 صبح
یہ غزل بہتر ہے اور بحر میں ہے۔ البتہ کچھ اشعار میں مسئلہ ہے
اب چشم سے آنسو کئی
ہر روز بکھرتے ہیں

اس مصرع کو یوں کرسکتے ہیں
اب آنکھ سے آنسو بھی
ہر روز بکھرتے ہیں
ہے واسطہ کسی سے گر
کیوں اس سے مکرتے ہیں
پہلے مصرع کو یوں کرسکتے ہیں
ہے واسطہ ان سے گر
ہم اسم سے ان کے ہی
ہر سانس کو بھرتے ہیں
بہتر ہوتا کہ اسم کے بجائے "نام" استعمال کرلیتے
GULLFAM SOHAIB ASLAM — مئی 17، 2020 11:06 صبح
یہ غزل بہتر ہے اور بحر میں ہے۔ البتہ کچھ اشعار میں مسئلہ ہے
اس مصرع کو یوں کرسکتے ہیں
اب آنکھ سے آنسو بھی
ہر روز بکھرتے ہیں
پہلے مصرع کو یوں کرسکتے ہیں
ہے واسطہ ان سے گر
بہتر ہوتا کہ اسم کے بجائے "نام" استعمال کرلیتے
کافی اچھی رہنمائی فرمائی ہے محترم آپ نے بھیت بھیت شکریہ .اللہ آپ کو عزت و برکت عطا فرماے
GULLFAM SOHAIB ASLAM — مئی 17، 2020 12:49 شام
غزل
بحر:حزج مربع اخرب سالم
ہر حال میں مرتے ہیں
ہم عشق سے ڈرتے ہیں
دو روز سوا ان کے
مشکل سے گزرتے ہیں
اب چشم سے آنسو بھی
ہر روز بکھرتے ہیں
ہے واسطہ کسی سے وہ
کیوں اس سے مکرتے ہیں
ہم لفظِ محبت کی
آواز سے ڈرتے ہیں
ہم نام سے ان کے ہی
ہر سانس کو بھرتے ہیں
برہم ہو کے شکوہ بھی
گلفام سے کرتے ہیں
کافی اچھی رہنمائی فرمائی ہے محترم آپ نے بھیت بھیت شکریہ .اللہ آپ کو عزت و برکت عطا فرماے
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 17، 2020 3:05 شام
ہے واسطہ کسی سے وہ
کیوں اس سے مکرتے ہیں
اس شعر میں اب بھی سقم ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84.111823/