ایک غزل ،'' کس طرح تجھ کو آنکھ میں بھر لوں ''

محمد اظہر نذیر — جولائی 15، 2012 2:41 شام
کس طرح تجھ کو آنکھ میں بھر لوں؟
تیرے کوچے، تری گلی گھر لوں؟
اپنی مرضی بتا سہی مجھ کو
زندہ رہ لوں، اگر کہے مر لوں
جان دے دوں؟ کسی کی جاں لے لوں
تُو کہے کام جو ، میں وہ کر لوں
اور مانگوں میں کس طرح معافی؟
لپٹوں چوکھٹ سے؟ کیا پکڑ در لوں؟
بول اظہر تجھے ستاتا ہے
کوئی الزام دوں؟ اُسے دھر لوں
احمد بلال — جولائی 15، 2012 8:32 شام
چوتھے شعر کے پہلے مصرعے میں معافی کو فعلن پر باندھنا غلط ہے۔ معافی کا ع نہیں گرا سکتے ۔اس کے علاوہ وزن کی غلطی نہیں ہے۔ باقی اصلاح اساتذہ ہی کریں گے۔
محمد اظہر نذیر — جولائی 15، 2012 9:14 شام
ایک تبدیلی
کس طرح تجھ کو آنکھ میں بھر لوں؟
تیرے کوچے، تری گلی گھر لوں؟
اپنی مرضی بتا سہی مجھ کو
زندہ رہ لوں، اگر کہے مر لوں
جان دے دوں؟ کسی کی جاں لے لوں
تُو کہے کام جو ، میں وہ کر لوں
معذرت اور کس طرح ہو گی
لپٹوں چوکھٹ سے؟ کیا پکڑ در لوں؟
بول اظہر تجھے ستاتا ہے
کوئی الزام دوں؟ اُسے دھر لوں
الف عین — جولائی 16، 2012 11:31 صبح
معافی والی غلطی تو دور ہو گئی، لیکن یہ بتاؤ مقطع میں پولس والاکون ہے؟؟؟
محمد اظہر نذیر — جولائی 16، 2012 12:15 شام
معافی والی غلطی تو دور ہو گئی، لیکن یہ بتاؤ مقطع میں پولس والاکون ہے؟؟؟
جی وہ میں خود ہوں :) محترم اُستاد
محمد اظہر نذیر — جولائی 20، 2012 1:28 شام
چند تبدیلیاں اور
کیا کروں کیسے آنکھ میں بھر لوں؟
تیری کھڑکی کے سامنے گھر لوں؟
زندگی ہاتھ میں ترے دے دی
رہ لوں زندہ ، اگر کہے مر لوں
تجھ کو میرا عدو بھی پیارا ہے
تُو کہے اُس سے دوستی کر لوں
اُڑ کے پہنچوں اگر بلائے تُو
کوئی پنچھی ملے، چُرا پر لوں
بول اظہر نے بھی ستاتا ہے
کوئی الزام دے، اُسے دھر لوں
الف عین — جولائی 21، 2012 11:07 صبح
کیا کروں کیسے آنکھ میں بھر لوں؟
تیری کھڑکی کے سامنے گھر لوں؟
//درست
زندگی ہاتھ میں ترے دے دی
رہ لوں زندہ ، اگر کہے مر لوں
//’مر لوں ‘اچھا نہیں لگتا، بہر حال زیادہ رواں سورت یوں بن سکتی ہے
زندگی تیرے ہاتھ میں دے دی
رہ لوں زندہ ، اگر کہے مر لوں
یا
زندگی تیرے ہاتھ ہے، جو کہہ
رہ لوں زندہ ، اگر کہے مر لوں
تجھ کو میرا عدو بھی پیارا ہے
تُو کہے اُس سے دوستی کر لوں
//دوسرا مصرع یوں بہتر ہوگا
کہے تو اُس سے دوستی کر لوں
اُڑ کے پہنچوں اگر بلائے تُو
کوئی پنچھی ملے، چُرا پر لوں
//’ چُرا پر لوں‘؟ یہ خلاقانہ استعمال نہیں، استادی ہے۔
بول اظہر نے بھی ستاتا ہے
کوئی الزام دے، اُسے دھر لوں
//پہلی شکل ہی بہتر تھی، تبدیل کرنے کی وجہ
بول اظہر تجھے ستاتا ہے
کوئی الزام دوں؟ اُسے دھر لوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%8C-%DA%A9%D8%B3-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D8%AA%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%D9%84%D9%88%DA%BA.52709/