ایک غزل ،''دیدہ دل بھی فرش راہ کیے''

محمد اظہر نذیر — جولائی 22، 2012 1:57 شام
ایک غزل ہوی ہے، مطلع میں شک ہے کہ بحر میں ہے کہ نہیں؟ بادی النظر میں تو لگتا
دیدہ دل بھی فرش راہ کیے
دوست پھر بھی کہ آہ، آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی وہ منزل
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے
خود تو اُجڑے مگر ستم اُس پر
گلُ گلزار بھی تباہ کیے
کیسے لاوں میں شاھد الفت؟
چاند تاروں کو ہم گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر ہی سہی، گناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ تھا تری ہی چاہ کیے
مزمل شیخ بسمل — جولائی 22، 2012 2:29 شام
مطلع پہلا مصرعہ "فرش" گڑبڑ کر رہا ہے. کچھ اور سوچیں شاید حل نکل آئے.
باقی تو سب ٹھیک ہے.
استاد محترم بھی آتے ہوں شاید.
محمد اظہر نذیر — جولائی 22، 2012 2:37 شام
یہ در اصل دیدہ و دل ہے
دی ۔۔د۔۔۔او۔۔دل ،،،،،، ب۔۔فر۔۔ش۔۔را،،،،،، ہ۔۔ک۔۔یے
فاعلاتن،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،مفاعلن،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،فعلن
محمد اظہر نذیر — جولائی 22، 2012 2:38 شام
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے
دوست پھر بھی کہ آہ، آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی وہ منزل
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے
خود تو اُجڑے مگر ستم اُس پر
گلُ گلزار بھی تباہ کیے
کیسے لاوں میں شاھد الفت؟
چاند تاروں کو ہم گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر ہی سہی، گناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ بس تری ہی چاہ کیے
مزمل شیخ بسمل — جولائی 22، 2012 2:45 شام
عروضی تو کوئی غلطی نہیں اب. میری ناقص عقل کے مطابق.
الف عین — جولائی 23، 2012 10:44 صبح
عروضی تو کوئی غلطی نہیں اب. میری ناقص عقل کے مطابق.
تمہاری بات درست ہے، تفصیلی رائے بعد میں۔
محمد اظہر نذیر — جولائی 25، 2012 8:12 صبح
ایک تبدیلی
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے
دوست پھر بھی کہ آہ، آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی وہ منزل
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے
خود تو اُجڑے مگر ستم اُس پر
گلُ گلزار بھی تباہ کیے
کیسے لاوں میں شاھد الفت؟
چاند تاروں کو ہم گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر گو کہ ہم، گناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ بس تری ہی چاہ کیے
الف عین — جولائی 31، 2012 12:08 شام
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے
دوست پھر بھی کہ آہ، آہ کیے
// پہلے مصرع میں بات مکمل نہیں ہوتی۔ دیدہ و دل میں سے دیدہ نکال دو، دوسرا مصرع بھی ربط نہیں رکھتا۔ یوں ممکن ہے:
ہم تو تھے دل کو فرش راہ کیے
لوگ بیٹھے تھے آہ، آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی وہ منزل
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے
//درست، بس ’مری بھی‘ اچھا نہیں لگتا
اور کھوٹی بھی میری راہ کیے
خود تو اُجڑے مگر ستم اُس پر
گلُ گلزار بھی تباہ کیے
//ستم کس پر؟
کیسے لاوں میں شاھد الفت؟
چاند تاروں کو ہم گواہ کیے
//مفہوم؟ پہلے مصرع میں صیغہ میں‘ کا ہے، دوسرے میں ’ہم‘ کا
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر ہی سہی، گناہ کیے
// تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر ہم رہے گناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ بس تری ہی چاہ کیے
//درست

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%8C%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81-%D8%AF%D9%84-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D8%B4-%D8%B1%D8%A7%DB%81-%DA%A9%DB%8C%DB%92.52910/