RAZIQ SHAD — ستمبر 23، 2016 12:54 شام
اساتذہ کرام ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
مری لوحِ دل پہ جو ثَبت تھے وہ نُقوش سارے مٹا گیا
مرے چارہ گر نے غضب کیا مجھے مُشتِ خاک بنا گیا
وُہ مرے سُخن کی اساس ہے وہ لباس ہے مرے شعر کا
وُہ اُتر کے بامِ فلک نشاں سے مِری غزل میں سما گیا
کوئی جوگ کوئی بَجوگ ہو کوئی آس کوئی نِراس ہو
یہ جو سلسلہ ہے قرار کا مری بے قراری بڑھا گیا
دلِ مضطرب تجھے تھی خبر کہ ہے بے وفا تِرا ہم سفر
اسے یاد کرتا ہے کس لئے تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا
نہیں شادؔ لائقِ آرزُو وہ زمانے بھر کا بہانہ جُو
اُسے تو بھی دل سے نکال دے جو تجھے نظر سے گرا گیا
عبدالرازق شادؔ
اَبُو مدین — ستمبر 23، 2016 3:07 شام
واہ واہ واہ کیا خوب کہی صاحب۔ اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے لیکن ہمارے دل کو بھا گئی آپ کی غزل۔
RAZIQ SHAD — ستمبر 23، 2016 3:42 شام
واہ واہ واہ کیا خوب کہی صاحب۔ اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے لیکن ہمارے دل کو بھا گئی آپ کی غزل۔
میں اس محبت اور پزیرائی کیلئے سپاس گزار ہوں۔ سلامت رہیں
الف عین — ستمبر 24، 2016 6:58 صبح
واہ اچھی غزل ہے۔ بظاہر اصلاح کی تو ضرورت نہیں۔ بہتری کے لیے ایک مشورہ
وُہ مرے سُخن کی اساس ہے وہ لباس ہے مرے شعر کا
کو
وُہ مری غزل کی اساس ہے وہ مرے سخن کا لباس ہے
کر دیں تو!!
RAZIQ SHAD — ستمبر 24، 2016 7:05 شام
واہ اچھی غزل ہے۔ بظاہر اصلاح کی تو ضرورت نہیں۔ بہتری کے لیے ایک مشورہ
وُہ مرے سُخن کی اساس ہے وہ لباس ہے مرے شعر کا
کو
وُہ مری غزل کی اساس ہے وہ مرے سخن کا لباس ہے
کر دیں تو!!
محترم الف عین صاحب آپ کا بے حد ممنون ہوں سلامت رہیں آباد رہیں
ادب دوست — ستمبر 24، 2016 7:45 شام
اساتذہ کرام ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
مری لوحِ دل پہ جو ثَبت تھے وہ نُقوش سارے مٹا گیا
مرے چارہ گر نے غضب کیا مجھے مُشتِ خاک بنا گیا
وُہ مرے سُخن کی اساس ہے وہ لباس ہے مرے شعر کا
وُہ اُتر کے بامِ فلک نشاں سے مِری غزل میں سما گیا
کوئی جوگ کوئی بَجوگ ہو کوئی آس کوئی نِراس ہو
یہ جو سلسلہ ہے قرار کا مری بے قراری بڑھا گیا
دلِ مضطرب تجھے تھی خبر کہ ہے بے وفا تِرا ہم سفر
اسے یاد کرتا ہے کس لئے تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا
نہیں شادؔ لائقِ آرزُو وہ زمانے بھر کا بہانہ جُو
اُسے تو بھی دل سے نکال دے جو تجھے نظر سے گرا گیا
عبدالرازق شادؔ
بھئی کوئی ہماری طرف سے پسندیددے
ادب دوست — ستمبر 24، 2016 7:47 شام
اچھی غزل ہے رازق شاد صاحب ،
RAZIQ SHAD — ستمبر 25، 2016 1:59 صبح
اچھی غزل ہے رازق شاد صاحب ،
اِس عزت افزائی پر میں آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں ۔
سلامت رہیں ۔ آباد رہیں
ادب دوست — ستمبر 25، 2016 9:56 صبح
اِس عزت افزائی پر میں آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں ۔
سلامت رہیں ۔ آباد رہیں
دوستانہ ، دوستانہ


بھائی معذرت کوئی تمغہ نہیں پیش کرسکتا ، دستی تحریر حاضر ہے


محمد جمیل اعجاز — ستمبر 25، 2016 10:00 صبح
RAZIQ SHAD — ستمبر 25، 2016 10:42 صبح
سلامتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آباد رہیں
RAZIQ SHAD — ستمبر 26، 2016 2:04 شام
وُہ مری غزل کی اساس ہے وہ مرے سخن کا لباس ہے
محترم الف عین صاحب
وُہ مری غزل کی اساس ہے وہ لباس ہے مرے شعر کا
وُہ اُتر کے بامِ فلک نشاں سے مِرے سُخن میں سما گیا
اسے یوں کر لیا ہے
آپ کا بے حد ممنون ہوں سلامت رہیں آباد رہیں
الف عین — ستمبر 26، 2016 5:57 شام
محترم الف عین صاحب
وُہ مری غزل کی اساس ہے وہ لباس ہے مرے شعر کا
وُہ اُتر کے بامِ فلک نشاں سے مِرے سُخن میں سما گیا
اسے یوں کر لیا ہے
آپ کا بے حد ممنون ہوں سلامت رہیں آباد رہیں
لباس اور اساس قوافی ہونے کی وجہ سے میں نے ’ہے‘ ردیف کے ساتھ وہ مصرع تجویزکیا تھا۔ ورنہ بدلنے کی ضرورت نہیں۔
RAZIQ SHAD — ستمبر 27، 2016 4:52 صبح
لباس اور اساس قوافی ہونے کی وجہ سے میں نے ’ہے‘ ردیف کے ساتھ وہ مصرع تجویزکیا تھا۔ ورنہ بدلنے کی ضرورت نہیں۔
اللہ پاک آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے آپ کے لئے ڈھیر ساری دعائیں
خوش رہیں آباد رہیں
کاشف اسرار احمد — ستمبر 27، 2016 12:29 شام
ماشا اللہ۔ عمدہ کلام ہے بھائی۔
RAZIQ SHAD — ستمبر 27، 2016 9:27 شام
ماشا اللہ۔ عمدہ کلام ہے بھائی۔
کاشف بھائی میں آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کی محبتوں کا قرض دار ہوں۔ سلامت رہیں ، آباد رہیں
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 27، 2016 11:03 شام
واہ واہ! بہت خوب شاد صاحب!
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 27، 2016 11:06 شام
ادب دوست ! آپ کی اور اپنی دونوں طرف سے میں نے ریٹنگ دیدی ہے ۔

RAZIQ SHAD — ستمبر 28، 2016 6:21 صبح
واہ واہ! بہت خوب شاد صاحب!
ظہیر احمد ظہیر صاحب آپکی داد اور پزیرائی کیلئے بہت شکر گزار ہوں۔ سلامت رہیں ،آباد رہیں
شہنواز نور — اکتوبر 2، 2016 7:39 صبح
عمدہ غزل کیلئے مبارکباد سر