ایک غزل اصلاح کے لیے،''

محمد اظہر نذیر — نومبر 27، 2011 9:57 صبح
قافلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
راستہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
عکس بھیتر کا تھا، اور دیکھ تسلی نہ ہوئی​
آئنہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
بجھ گئے دیر میں تھوڑی ہی، اُمیدوں کے چراغ​
ولولہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
شوق منزل نے مجھے چین سے رہنے نہ دیا​
مرحلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
یہ حقیقت ہے نہیں اُس کا اثر کچھ باقی​
واقعہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
گو کہ اسلاف کی حشمت تھی بیاں سے باہر​
سلسلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
دیر سے زخم بھرے، درد رہا بھی اظہر​
حادثہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا​
محمد اظہر نذیر — دسمبر 6، 2011 8:39 صبح
کچھ تبدیلیاں کہ ہیں
قافلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
راستہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
عکس بھیتر کا تھا، اور دیکھ تسلی نہ ہوئی
آئنہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
بجھ گئے سارے، بہت جلد، اُمیدوں کے چراغ
ولولہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
یاد آیا ہے، مگر بھول چکا تھا یارو
مرتبہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
سچ تو یہ ہے کہ نہیں اُس کا اثر کچھ باقی
واقعہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
گو کہ اسلاف کی حشمت تھی بیاں سے باہر
سلسلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
ثانیے کو ہی سہی، مل تو لیے تھے اظہر
حادثہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
ایم اے راجا — دسمبر 7، 2011 6:02 شام
بہت خوقب اظہر صاحب
محمد اظہر نذیر — دسمبر 8، 2011 3:52 صبح
بہت خوقب اظہر صاحب
بہت شکریہ جناب راجہ صاحب شاد رہیے
ایم اے راجا — دسمبر 8، 2011 11:29 صبح
بہت شکریہ جناب راجہ صاحب شاد رہیے
آمین۔ بہت شکریہ
مغزل — دسمبر 9، 2011 11:22 صبح
رسید حاضر ہے دوست۔ مجھے مقدور نہیں وگرنہ میں کچھ عرض کرتا۔ محمد وارث صاحب اور بابا جانی الف عین آتے ہی ہوں گے۔۔
محمد اظہر نذیر — دسمبر 11، 2011 11:48 صبح
قافلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
راستہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
عکس باطن کا تھا، اور اُس نے دکھایا مجھ کو
آئنہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
بجھ گئے سارے، بہت جلد، اُمیدوں کے چراغ
ولولہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
وقت آیا تو وہی ساتھ مرا چھوڑ گیا
مرتبہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
سچ تو یہ ہے کہ نہیں اُس کا اثر کچھ باقی
واقعہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
گو کہ اسلاف کی حشمت تھی بیاں سے باہر
سلسلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
ثانیے کو ہی سہی، مل تو لیے تھے اظہر
حادثہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہ
مغزل — دسمبر 11، 2011 12:24 شام
بھائی جی رسید حاضر ہے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ بابا جانی اور وارث صاحب کا انتظار کرتے ہیں۔۔
محمد اظہر نذیر — دسمبر 13، 2011 10:26 صبح
کچھ تبدیلیاں اور
قافلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
راستہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
عکس باطن کو مرے سامنے روشن کرکے
آئینہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
بجھ گئے سارے، بہت جلد، اُمیدوں کے چراغ
ولولہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
وقت آیا تو وہی ساتھ مرا چھوڑ گیا
مرتبہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
سچ تو یہ ہے کہ نہیں اُس کا اثر کچھ باقی
واقعہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
گو کہ اسلاف کی حشمت تھی بیاں سے باہر
سلسلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
ثانیے کو ہی سہی، مل تو لیے تھے اظہر
حادثہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہ
الف عین — دسمبر 15، 2011 4:53 شام
تیسری شکل کاپی کر لی ہے، لگتا ہے کئی دن لگ جائیں گے اصلاح کرتے کرتے۔
الف عین — دسمبر 21، 2011 1:39 شام
قافلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
راستہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
// درست، قافلہ اور راستہ واقعی ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔
عکس باطن کو مرے سامنے روشن کرکے
آئینہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
//درست، لیکن بعد میں آئینہ کس نے چھین لیا؟ یہ واضح نہیں۔
بجھ گئے سارے، بہت جلد، اُمیدوں کے چراغ
ولولہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
// درست، یہاں ’ساتھ رہا‘ چل سکتا ہے۔
وقت آیا تو وہی ساتھ مرا چھوڑ گیا
مرتبہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
// یہاں ’مرتبہ‘ سے کیا مراد ہے؟ قافیہ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کو نکال دو یا شعر بدل دو۔
سچ تو یہ ہے کہ نہیں اُس کا اثر کچھ باقی
واقعہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
//واقعہ ساتھ کس طرح چھوڑ سکتا ہے، یہ قافیہ بھی محض برائے قافیہ لگ رہا ہے، اسے بھی بدل دو۔
گو کہ اسلاف کی حشمت تھی بیاں سے باہر
سلسلہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
//ایضاً
ثانیے کو ہی سہی، مل تو لیے تھے اظہر
حادثہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
//ایضاً
محمد اظہر نذیر — دسمبر 22، 2011 3:32 صبح
وقت آیا تو وہی ساتھ مرا چھوڑ گیا
مرتبہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
// یہاں ’مرتبہ‘ سے کیا مراد ہے؟ قافیہ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کو نکال دو یا شعر بدل دو۔
مرتبہ سے مراد رتبہ ہے، انسان کا معاشرے میں مقام، شہرت، عزت، دولت، رتبہ۔ مقصود یہ ہے کہ جب وقت پڑتا ہے تو یہ سبھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
سچ تو یہ ہے کہ نہیں اُس کا اثر کچھ باقی
واقعہ تھا بھی تو کچھ دیر مرے ساتھ رہا
//واقعہ ساتھ کس طرح چھوڑ سکتا ہے، یہ قافیہ بھی محض برائے قافیہ لگ رہا ہے، اسے بھی بدل دو۔
واقعہ اگر وقوع پزیر ہوا بھی تھا اور اُس نے قرار واقع اثر چھوڑا فوری طور پر، پھر بھی فطرت انسانی کے عین مطابق کچھ ہی عرصی میں اُس کا اثر ذایل ہو جاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں
پھر بھی اگر آُپ کا حکم ہو تو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92%D8%8C.48785/