السلام علیکم ۔۔۔۔ ایک تازہ غزل پیش کر رہا ہوں اساتذہ سے اِصلاح کی درخواست ہے شکرگزار رہوں گا
غزل
خدا کا شکر ہے ہر شخص کو پہچان لیتے ہیں
لفافہ دیکھ کر مضمون کیا ہے جان لیتے ہیں
بظاہر تو کبھی روتے ہوئے دیکھا نہیں تم کو
محبت تم بھی کرتے ہو چلو ہم مان لیتے ہیں
یہ بازار محبت ہے یہاں غم خوب ملتا ہے
چلو دل دے کے ہم یہ قیمتی سامان لیتے ہیں
محبت کا یہ کاروبار ہم سے اب نہیں ہوتا
کبھی جو دل لیا کرتے تھے اب وہ جان لیتے ہیں
گماں ہوتا ہے جب سایہ نہیں سر پہ کوئی اپنے
خدا کے نام کی ہم لوگ چادر تان لیتے ہیں
کہیں بھوکے فقیروں کا بھی ہوتا ہے کوئی فرقہ
جو ہم سے بھیک لیتے ہیں وہ تم سے دان لیتے ہیں
عقیدت خوب ہے ان کی تلاوت کر نہیں سکتے
قسم کھاتے ہیں جب تو ہاتھ میں قرآن لیتے ہیں بہت مصروف رہتے ہیں ہم اپنی فاقہ مستی میں
حکومت سے ملی خیرات کب سلطان لیتے ہیں
وفا کی ہم کوئی امید انساں سے نہیں کرتے
جہاں میں نور بس اللّہ کا احسان لیتے ہیں
شہواز نور