عشق اب ہو گیا، کروں بھی تو کیا؟
اِس سے بڑھ کر خطا، کروں بھی تو کیا؟
۔÷درست
پاس ہوتے ہوئے بھی دور ہے وہ
اب اُسے میں جدا کروں بھی تو کیا؟
÷÷درست
کچھ بھی کر لوں، اُسے نہیں بھاتا
میرے مالک بتا، کروں بھی تو کیا؟
۔۔درست
دل مجھے کھینچتا ہی لے جائے
کچھ نہیں مانتا،کروں بھی تو کیا؟
÷÷شاہد کی اصلاح درست تو ہے، لیکن یوں بہتر ہو گا۔
کھنچتا ہی جاؤں اس کی جانب میں (اس کی کچھ بہتر صورت بھی سوچو)
دل نہیں مانتا کروں بھی تو کیا (دوسرا مصرع مجھے بہتر لگ رہا ہے)
ابتدا بھی اُسی سے آخر بھی
اور اُس کے سوا، کروں بھی تو کیا؟
۔۔ اس سے کیا مطلب؟
کوئی صورت کہ مان جائے وہ
اسقدر ہے خفا، کروں بھی تو کیا؟
÷÷شاہد کی اصلاح قبول کی جا سکتی ہے۔
زخم دِل کا اُسے دکھاؤں میں
کیا یہ ہو گا بُرا، کروں بھی تو کیا؟
÷÷دوسرا مصرع بدل دو۔ پہلے کی ترمین شاہد کی مناسب ہے۔
میں تو خود کا رہا نہیں اظہر
اب میں اپنا بھلا کروں بھی تو کیا؟
÷÷واضح نہیں