ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح کے ،'' دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے ''

محمد اظہر نذیر — مارچ 4، 2013 6:38 شام
دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے
دل میں عاشق کے جو مکیں ہوں گے
بزم جب جب سجے گی یاروں کی
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے
ہم نہ ہوں گے تو کیا نہیں ہو گا
دوست دشمن سبھی یہیں ہوں گے
داستاں کوئی لکھ رہو ہو گا
ہم ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے
جب اُٹھیں گے گماں سے کچھ پردے
ڈگمگاتے وہا ں یقیں ہوں گے
خاک سے ہی خمیر تھا اظہر
خاک میں ہی کہیں نشیں ہوں گے
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 4، 2013 7:23 شام
بزم جب جب سجے گی یاروں کی
:zabardast1:
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے
:great:
بہت خوب۔ ماشاءاللہ۔
داد قبول کیجیے۔
اصلاح اساتذہ کا کام ہے۔
محمد اظہر نذیر — مارچ 5، 2013 4:19 صبح
:zabardast1:
:great:
بہت خوب۔ ماشاءاللہ۔
داد قبول کیجیے۔
اصلاح اساتذہ کا کام ہے۔
بہت شکریہ جناب، نوازش
الشفاء — مارچ 5، 2013 4:57 صبح
داستاں کوئی لکھ رہا ہو گا
ہم ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے
واہ۔ بہت خوب۔۔۔
محمد اظہر نذیر — مارچ 5، 2013 11:36 صبح
داستاں کوئی لکھ رہا ہو گا
ہم ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے
واہ۔ بہت خوب۔۔۔
بہت شکریہ جی، بڑی نوازش
شوکت پرویز — مارچ 7، 2013 9:20 صبح
جناب محمد اظہر نذیر صاحب!
بہت اچّھی غزل ہے، خاص طور پر یہ شعر
جب اُٹھیں گے گماں سے کچھ پردے
ڈگمگاتے وہا ں یقیں ہوں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داستاں کوئی لکھ رہو ہو گا
ہم ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے
اسے ذرا تبدیل کر کے دیکھیں، جیسے
تذکرے میرے، تیرے قصّہ میں​
گر ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے​
حالانکہ دوسرا مصرعہ اب بھی صحیح نہیں لگ رہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسبِ معمول، کوئی عروضی یا تلفظی غلطی نہیں پائی ہم نے۔۔۔ شکریہ۔۔
محمد اظہر نذیر — مارچ 7، 2013 9:44 صبح
جناب محمد اظہر نذیر صاحب!
بہت اچّھی غزل ہے، خاص طور پر یہ شعر
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
اسے ذرا تبدیل کر کے دیکھیں، جیسے
تذکرے میرے، تیرے قصّہ میں​
گر ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے​
حالانکہ دوسرا مصرعہ اب بھی صحیح نہیں لگ رہا۔۔
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
حسبِ معمول، کوئی عروضی یا تلفظی غلطی نہیں پائی ہم نے۔۔۔ شکریہ۔۔
بہت شکریہ جناب ، میں سوچتا کچھ انشا اللہ
الف عین — مارچ 7، 2013 4:07 شام
ماشاء اللہ اب تم اس قابل ہو گئے ہو کہ یہیں آن لائن اصلاح کر دی جائے۔ کاپی پیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔
دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے​
دل میں عاشق کے جو مکیں ہوں گے​
÷÷درست​
بزم جب جب سجے گی یاروں کی​
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے​
÷÷
ہم جو زندہ رہے ، وہیں ہوں گے​
زیادہ بہتر ہو گا۔​
ہم نہ ہوں گے تو کیا نہیں ہو گا​
دوست دشمن سبھی یہیں ہوں گے​
÷÷درست​
داستاں کوئی لکھ رہو ہو گا​
ہم ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے​
÷÷شوکت کا مشورہ خوب ہے۔​
جب اُٹھیں گے گماں سے کچھ پردے​
ڈگمگاتے وہا ں یقیں ہوں گے​
÷÷’وہاں‘ اگر بدل سکو تو بہتر ہو گا​
’ہوئے‘ کر دیں تو کیسا رہے گا؟​
خاک سے ہی خمیر تھا اظہر​
خاک میں ہی کہیں نشیں ہوں گے​
÷÷’سے خمیر‘ درست نہیں، ’میں خمیر‘ ہونا چاہئے۔ ویسے اگر تخلص بدل دو یہاں تو زیادہ بہتر مصرع بن سکتا ہے​
خاک سے ہی خمیر اٹھا تھا نذیر​
محمد اظہر نذیر — مارچ 7، 2013 4:14 شام
ماشاء اللہ اب تم اس قابل ہو گئے ہو کہ یہیں آن لائن اصلاح کر دی جائے۔ کاپی پیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔
دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے​
دل میں عاشق کے جو مکیں ہوں گے​
÷÷درست​
بزم جب جب سجے گی یاروں کی​
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے​
÷÷​
ہم جو زندہ رہے ، وہیں ہوں گے​
زیادہ بہتر ہو گا۔​

ہم نہ ہوں گے تو کیا نہیں ہو گا​
دوست دشمن سبھی یہیں ہوں گے​
÷÷درست​
داستاں کوئی لکھ رہو ہو گا​
ہم ہوئے بھی، کہیں کہیں ہوں گے​
÷÷شوکت کا مشورہ خوب ہے۔​
جب اُٹھیں گے گماں سے کچھ پردے​
ڈگمگاتے وہا ں یقیں ہوں گے​
÷÷’وہاں‘ اگر بدل سکو تو بہتر ہو گا​
’ہوئے‘ کر دیں تو کیسا رہے گا؟​
خاک سے ہی خمیر تھا اظہر​
خاک میں ہی کہیں نشیں ہوں گے​
÷÷’سے خمیر‘ درست نہیں، ’میں خمیر‘ ہونا چاہئے۔ ویسے اگر تخلص بدل دو یہاں تو زیادہ بہتر مصرع بن سکتا ہے​
خاک سے ہی خمیر اٹھا تھا نذیر​
اگر یوں کہیں اُستاد محترم
خاک اپنا خمیر تھی اظہر
الف عین — مارچ 7، 2013 4:47 شام
نہیں، بات نہیں بنتی زیادہ!!
ایم اے راجا — مارچ 7، 2013 8:11 شام
اچھی غزل ہے، بہت خوب
محمد اظہر نذیر — مارچ 9، 2013 7:36 شام
اچھی غزل ہے، بہت خوب
بہت شکریہ جناب راجہ صاحب
محمد اظہر نذیر — مارچ 9، 2013 7:38 شام
نہیں، بات نہیں بنتی زیادہ!!
اس طرح دیکھ لیجیے جناب
دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے
دل میں عاشق کے جو مکیں ہوں گے
بزم جب جب سجے گی یاروں کی
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے
ہم نہ ہوں گے تو کیا نہیں ہو گا
دوست دشمن سبھی یہیں ہوں گے
جب اُٹھیں گے گماں سے کچھ پردے
ڈگمگاتے ہوئے یقیں ہوں گے
خاک سے ہی خمیر تھا اٹھا تھا
خاک میں ہی کہیں نشیں ہوں گے
داستاں کوئی لکھ رہو ہو گا
ہم بھی اظہر، کہیں کہیں ہوں گے
الف عین — مارچ 10، 2013 4:38 صبح
خاک سے ہی خمیر اٹھا تھا
درست ہے۔
اور مقطع بھی درست ہے، بس تائپو ہے، ’لکھ رہا ہو گا‘ درست ہے
محمد اظہر نذیر — مارچ 10، 2013 6:12 صبح
دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے
دل میں عاشق کے جو مکیں ہوں گے
بزم جب جب سجے گی یاروں کی
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے
ہم نہ ہوں گے تو کیا نہیں ہو گا
دوست دشمن سبھی یہیں ہوں گے
جب اُٹھیں گے گماں سے کچھ پردے
ڈگمگاتے ہوئے یقیں ہوں گے
خاک سے ہی خمیر اٹھا تھا
خاک میں ہی کہیں نشیں ہوں گے
داستاں کوئی لکھ رہا ہو گا
ہم بھی اظہر، کہیں کہیں ہوں گے
شوکت پرویز — مارچ 11، 2013 9:49 صبح
بزم جب جب سجے گی یاروں کی
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے
جناب محمد اظہر نذیر صاحب!
اگر کوئی خاص وجہ نہیں ہے "ہوئے" رکھنے کی، تو اسے بھی استاد صاحب کے مشورہ کے مطابق بدل دیجئے۔
بزم جب جب سجے گی یاروں کی
ہم جو زندہ ہوئے ، وہیں ہوں گے​
÷÷​
ہم جو زندہ رہے ، وہیں ہوں گے​
زیادہ بہتر ہو گا۔​
محمد اظہر نذیر — مارچ 11، 2013 10:15 صبح
جناب محمد اظہر نذیر صاحب!
اگر کوئی خاص وجہ نہیں ہے "ہوئے" رکھنے کی، تو اسے بھی استاد صاحب کے مشورہ کے مطابق بدل دیجئے۔
بہت خوب رائے جی ابھی لیجیے
محمد اظہر نذیر — مارچ 11، 2013 10:15 صبح
دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے
دل میں عاشق کے جو مکیں ہوں گے
بزم جب جب سجے گی یاروں کی
ہم جو زندہ رہے ، وہیں ہوں گے
ہم نہ ہوں گے تو کیا نہیں ہو گا
دوست دشمن سبھی یہیں ہوں گے
جب اُٹھیں گے گماں سے کچھ پردے
ڈگمگاتے ہوئے یقیں ہوں گے
خاک سے ہی خمیر اٹھا تھا
خاک میں ہی کہیں نشیں ہوں گے
داستاں کوئی لکھ رہا ہو گا
ہم بھی اظہر، کہیں کہیں ہوں گے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D8%8C-%D8%AF%D9%84%D8%B1%D9%8F%D8%A8%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AF%D9%84%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DA%AF%DB%92.60664/