ZIA KHAN — اکتوبر 19، 2012 1:52 صبح
ھو رھی ھو گی حجو، خیر کوی بات نھیں
مسلک ع
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 19، 2012 2:13 صبح
دوبارہ کوشش کیجیے جناب
ZIA KHAN — اکتوبر 19، 2012 2:28 صبح
ہو رہی ہو گی ہجو، خیر کوئی بات نہیں
مسلک عشق میں اس کی کوئی اوقات نہیں۔۔
لذتِ وصل ہو یا کربِ فراقِ جاناں۔۔
ہم کو قسمت سے میسر کوئی سوغات نہیں۔۔
تشنگی جب بھی بڑھی ریت نچوڑی ہم نے
کیا ہوا سیلِ رواں کی جو مدارات نہیں۔۔۔
اس قدرکھوے ہوتم لذتِ دنیا میں ضیاؔ
کیا سمجھتے ہو کہ اس دن کی کوئی رات نہیں۔۔۔
ضیاؔ الحق خاں
ZIA KHAN — اکتوبر 19، 2012 2:34 صبح
محترم خلیل الرحمٰن صاحب سے خصو صی درخواست۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 19، 2012 2:43 صبح
جزاک اللہ بھائی!
کیا اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجیے
(ٹائیپوز کی تدوین کردی ہے۔اصلاحِ سخن کے لیے اساتذہ کا انتظار کیجیے، تشریف لاتے ہی ہوں گے)
ZIA KHAN — اکتوبر 19، 2012 2:56 صبح
شکریھ۔۔ جزاک اللہ خیر۔۔
آملا درصت نھیں ھے۔ ابھی سیکھ راھا ھوں۔
اساتذہ سے املا درست کرنے کی بھی درخواست ھے۔

باقی ابھی ٹائیپوز پر بھی command نھیں ھوی ھے۔۔
براے محربانی بتایں
"ش" کیسے لکھتے ھیں۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 19، 2012 2:59 صبح
ش کے لیے انگریزی حرف ایکس استعمال کیجیے
الف عین — اکتوبر 19، 2012 4:12 صبح
خوش آمدید ضیا الحق۔ غزل تو اچھی ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں عروض کے سلسلے میں۔ البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ سوغات دی جاتی ہے، میسر نہیں ہوتی
ZIA KHAN — اکتوبر 19، 2012 5:32 صبح
شکر یہ، دوا کی درخواست۔۔۔
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 19، 2012 11:23 صبح
واہ کیا خوب ہے ضیاء صاحب
الف عین — اکتوبر 20، 2012 3:36 صبح
شکر یہ، دوا کی درخواست۔۔۔
؟؟؟
دعائیں تو ضرور دی جا سکتی ہیں۔
ZIA KHAN — اکتوبر 22، 2012 12:23 صبح
شکریہ۔ زرہ نوازی۔۔
براے
"ایک نظم برائے اصلاح و تنقید- تری یاد یں" پر بھی نظر عنایت فرمایں۔۔
ZIA KHAN — اکتوبر 22، 2012 12:30 صبح
شکریہ۔ زرہ نوازی۔۔
براے محربانی "ایک نظم برائے اصلاح و تنقید- تری یاد یں" پر بھی نظر عنایت فرمایں۔۔