ایک غزل: خراماں خراماں چلا جا رہا ہوں

سید ذیشان — مئی 21، 2012 2:17 شام
خِراماں خِراماں چلا جا رہا ہوں​
کہ الفت کی راہوں سے ناآشنا ہوں​
مِری خاک بننے کو یہ مر مٹے ہیں​
ستاروں، سیاروں کی میں ارتقا ہوں​
یہ صحرا کا بستر، وہ چھت آسماں کی​
فلک کی نوازش کا پیکر بنا ہوں​
میں نکلا تھا سورج کی منزل کو پانے​
پہ اس کی چمک میں مگن ہو گیا ہوں​
عصا، آبلے اور پوشاکِ خستہ​
یہ ساماں ہے باقی، پہ میں چل رہا ہوں​
تِرے دل کے تاروں کو پھر میں نے چھیڑا​
میں یادِ گزشتہ کی بھٹکی صدا ہوں​
میں تب تھا میں اب ہوں، یہاں بھی وہاں بھی​
فہم کی قفس سے تو میں ماورا ہوں​
زبیر مرزا — مئی 21، 2012 2:25 شام
واہ بہت عمدہ جناب
محمد بلال اعظم — مئی 21، 2012 2:30 شام
اصلاح تو استاذہ کرام ہی کریں گے البتہ میں لاجواب، بہت عمدہ تو کہہ ہی سکتا ہوں۔
لا جواب غزل جناب
سید ذیشان — مئی 21، 2012 3:31 شام
پسند کرنے کا شکریہ جناب :)
اصلاح تو استاذہ کرام ہی کریں گے البتہ میں لاجواب، بہت عمدہ تو کہہ ہی سکتا ہوں۔
لا جواب غزل جناب
بہت شکریہ بھائی پسند کرنے کا۔ ہم بھی اساتذہ کا انتظار کر رہے ہیں۔
نایاب — مئی 21، 2012 4:05 شام
بہت خوب zeesh, صاحب
یہ صحرا کا بستر، وہ چھت آسماں کی​
فلک کی نوازش کا پیکر بنا ہوں​
الف عین — مئی 21، 2012 4:55 شام
فی الحال اتنا تو کہہ دوں۔
ستاروں، سیاروں کی میں ارتقا ہوں​
÷÷ یہ سیاروں مفعولن ہونا چاہئے، فعولن جس طرح یہاں باندھا گیا ہے، وہ جانور سیار کا تلفظ ہے!!!​
فہم کی قفس سے تو میں ماورا ہوں​
÷÷ فہم کا تلفظ غلط ہے، یہاں ہ متحرک نظم ہوا ہے، جو ساکن ہے، بر وزن فعل۔ اس کے علاوہ قفس مذکر ہے، ’کی قفس‘ نہیں ’کا قفس‘ ہونا چاہئے۔​
سید ذیشان — مئی 21، 2012 6:28 شام
بہت خوب zeesh, صاحب
یہ صحرا کا بستر، وہ چھت آسماں کی​
فلک کی نوازش کا پیکر بنا ہوں​
بہت شکریہ نایاب بھائی :)
سید ذیشان — مئی 21، 2012 6:36 شام
فی الحال اتنا تو کہہ دوں۔
ستاروں، سیاروں کی میں ارتقا ہوں​
÷÷ یہ سیاروں مفعولن ہونا چاہئے، فعولن جس طرح یہاں باندھا گیا ہے، وہ جانور سیار کا تلفظ ہے!!!​
فہم کی قفس سے تو میں ماورا ہوں​
÷÷ فہم کا تلفظ غلط ہے، یہاں ہ متحرک نظم ہوا ہے، جو ساکن ہے، بر وزن فعل۔ اس کے علاوہ قفس مذکر ہے، ’کی قفس‘ نہیں ’کا قفس‘ ہونا چاہئے۔​
بہت شکریہ استادِ محترم اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کرنے کا۔
اس کو اسطرح کر دیا ہے۔
مِری خاک بننے کو یہ مر مٹے ہیں​
فلک کے کواکب کی میں ارتقا ہوں
آخری شعر کو یوں کر دیا ہے۔
میں تب تھا میں اب ہوں، یہاں بھی وہاں بھی​
عقل کے قفس سے تو میں ماورا ہوں
محمد وارث — مئی 22، 2012 6:02 صبح
عقل بھی قاف ساکن کے ساتھ ہے یعنی عق،ل۔
سید ذیشان — مئی 22، 2012 6:06 صبح
عقل بھی قاف ساکن کے ساتھ ہے یعنی عق،ل۔
شکریہ وارث صاحب۔ کیا یہ دونوں طرح مستعمل نہیں ہے؟
اب اسطرح کر دیا ہے:-
میں تب تھا میں اب ہوں، یہاں بھی وہاں بھی​
خرد کے قفس سے تو میں ماورا ہوں
سید ذیشان — مئی 22، 2012 6:13 صبح
محمد وارث صاحب
میرا ایک سوال بھی ہے جو اس دھاگے سے متعلق نہیں ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کہاں پوسٹ کروں۔
وہ یہ ہے کہ انگریزی کے الفاظ جو اردو میں رائج ہیں مثلاً آیسکریم، فریج، کمپیوٹر وغیرہ تو ان کی تزکیر و تانیث کے کیا قواعد ہیں۔ کیونکہ میں نے ان کو دونوں طرح سے سنا ہے۔ صحیح طریقہ کیا ہے؟
محمداحمد — مئی 22، 2012 6:20 صبح
بہت خوب بھائی۔۔۔۔!
آپ کب سے طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ ہمیں تو آج ہی پتہ چلا۔ اچھا لگی آپ کی غزل۔ باقی رہی اصلاح تو وہ تو اساتذہ کر ہی رہے ہیں۔
خوش رہیے، شاد آباد رہیے۔
محمداحمد — مئی 22، 2012 6:24 صبح
محمد وارث صاحب
میرا ایک سوال بھی ہے جو اس دھاگے سے متعلق نہیں ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کہاں پوسٹ کروں۔
وہ یہ ہے کہ انگریزی کے الفاظ جو اردو میں رائج ہیں مثلاً آیسکریم، فریج، کمپیوٹر وغیرہ تو ان کی تزکیر و تانیث کے کیا قواعد ہیں۔ کیونکہ میں نے ان کو دونوں طرح سے سنا ہے۔ صحیح طریقہ کیا ہے؟

یہ سوال بھی آپ نے خوب پوچھا۔
فی الوقت تو جو ہمارے ہاں رائج ہیں۔ اُن میں فریج اور کمپیوٹر مذکر شمار ہوتے ہیں اور آئسکریم کھائی جاتی ہے۔ :p
ہمارے دفتر کے ایک صاحب اکثر کہتے نظر آتے ہیں "میری فیکس تو نہیں آئی"۔ ہمیں تو ہنسی آتی ہے اس بات پر ۔ کیا پتہ وہ ہی صحیح ہوں اور ہم غلط۔ :D
محمد وارث — مئی 22، 2012 6:36 صبح
محمد وارث صاحب
میرا ایک سوال بھی ہے جو اس دھاگے سے متعلق نہیں ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کہاں پوسٹ کروں۔
وہ یہ ہے کہ انگریزی کے الفاظ جو اردو میں رائج ہیں مثلاً آیسکریم، فریج، کمپیوٹر وغیرہ تو ان کی تزکیر و تانیث کے کیا قواعد ہیں۔ کیونکہ میں نے ان کو دونوں طرح سے سنا ہے۔ صحیح طریقہ کیا ہے؟

بھائی میں اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں، ذاتی طور پر میں تو یہی کرتا ہوں کہ جو رائج ہے اسی کو استعمال کیا جائے۔
محمد وارث — مئی 22، 2012 6:38 صبح
یہ سوال بھی آپ نے خوب پوچھا۔
فی الوقت تو جو ہمارے ہاں رائج ہیں۔ اُن میں فریج اور کمپیوٹر مذکر شمار ہوتے ہیں اور آئسکریم کھائی جاتی ہے۔ :p
ہمارے دفتر کے ایک صاحب اکثر کہتے نظر آتے ہیں "میری فیکس تو نہیں آئی"۔ ہمیں تو ہنسی آتی ہے اس بات پر ۔ کیا پتہ وہ ہی صحیح ہوں اور ہم غلط۔ :D

احمد صاحب، فیکس تو میں بھی مونث ہی استعمال کرتا ہوں بلکہ پندرہ سال سے مونث ہی سن رہا ہوں، فیکس آیا میں نے کبھی نہیں سنا :)
محمد وارث — مئی 22، 2012 6:40 صبح
شکریہ وارث صاحب۔ کیا یہ دونوں طرح مستعمل نہیں ہے؟
اب اسطرح کر دیا ہے:-
میں تب تھا میں اب ہوں، یہاں بھی وہاں بھی​
خرد کے قفس سے تو میں ماورا ہوں

عقل، متحرک قاف کے ساتھ غلط ہے اور مستعمل نہیں ہے۔
خرد آپ نے بالکل صحیح باندھا ہے۔
محمداحمد — مئی 22، 2012 6:55 صبح
یہ سوال بھی آپ نے خوب پوچھا۔
فی الوقت تو جو ہمارے ہاں رائج ہیں۔ اُن میں فریج اور کمپیوٹر مذکر شمار ہوتے ہیں اور آئسکریم کھائی جاتی ہے۔ :p
ہمارے دفتر کے ایک صاحب اکثر کہتے نظر آتے ہیں "میری فیکس تو نہیں آئی"۔ ہمیں تو ہنسی آتی ہے اس بات پر ۔ کیا پتہ وہ ہی صحیح ہوں اور ہم غلط۔ :D

احمد صاحب، فیکس تو میں بھی مونث ہی استعمال کرتا ہوں بلکہ پندرہ سال سے مونث ہی سن رہا ہوں، فیکس آیا میں نے کبھی نہیں سنا :)

پھر تو ہم نے آخری جملہ لکھ کر اپنی بچت کر لی۔ ;) ویسے شاید ہم فیکس کو 'خط' یا 'لیٹر' پر قیاس کر کے مذکر پکارا کرتے ہیں۔:D
اس کے علاوہ کچھ اردو کے لفظ بھی ایسے ہیں جن کی سندھ سے پنجاب اور پنجاب سے سندھ آتے آتے صنف بدل جاتی ہے۔ جیسے 'تار رکھا ہوا ہے' اور 'تار رکھی ہوئی ہے'۔
سید ذیشان — مئی 22، 2012 7:09 صبح
بہت خوب بھائی۔۔۔ ۔!
آپ کب سے طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ ہمیں تو آج ہی پتہ چلا۔ اچھا لگی آپ کی غزل۔ باقی رہی اصلاح تو وہ تو اساتذہ کر ہی رہے ہیں۔
خوش رہیے، شاد آباد رہیے۔
بہت شکریہ بھائی۔ بس یہ پارٹ ٹائم تک بندی تو چلتی رہتی ہے۔
سید ذیشان — مئی 22، 2012 7:16 صبح
پھر تو ہم نے آخری جملہ لکھ کر اپنی بچت کر لی۔ ;) ویسے شاید ہم فیکس کو 'خط' یا 'لیٹر' پر قیاس کر کے مذکر پکارا کرتے ہیں۔:D
اس کے علاوہ کچھ اردو کے لفظ بھی ایسے ہیں جن کی سندھ سے پنجاب اور پنجاب سے سندھ آتے آتے صنف بدل جاتی ہے۔ جیسے 'تار رکھا ہوا ہے' اور 'تار رکھی ہوئی ہے'۔
یہی تو مسئلہ ہے۔ صحیح تلفظ کے لئے کوئی خاص قوانین شائد نہیں ہیں۔ ٹی وی پر آپ دیکھیں تو ہر انگریزی لفظ کو مزکر بھی استعمال کیا جا رہا ہوتا ہے اور مونث بھی۔
سید ذیشان — مئی 22، 2012 7:26 صبح
بھائی میں اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں، ذاتی طور پر میں تو یہی کرتا ہوں کہ جو رائج ہے اسی کو استعمال کیا جائے۔
رائج ہی کا تو مسئلہ ہے۔ کہیں پر کچھ رائج ہے اور کہیں پر کچھ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA-%DA%86%D9%84%D8%A7-%D8%AC%D8%A7-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.51596/