ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنُمائی کے لیے،'' ترے جمال سے بڑھ کر جمال کیا ہو گا''

محمد اظہر نذیر — مئی 12، 2013 10:08 شام
ترے جمال سے بڑھ کر جمال کیا ہو گا
ترا جواب نہیں ہے، سوال کیا ہو گا
قرار چھین گیا ہے ترا تصور ہی
حضور حسن میں جانے یہ حال کی ہو گا
ترے خیال کا ہجراں میں لطف اتنا ہے
میں سوچتا ہوں کہ آخر وصال کیا ہو گا
کمال اُس کا بنایا ہے تُجھ کو فرصت سے
غرور جس پہ اُسے ہو، کمال کیا ہو گا
وہ آ گئے ہیں عیادت کو اور کیا مانگوں
مریض اس سے زیادہ نہال کیا ہو گا
شریک میری وہ خوشیوں میں جب نہیں ہوتے
مجھے ہے رنج، تو اُن کو ملال کیا ہو گا
سرور قرب سے بڑھتا ہے اور بڑھ جائے
ذرا بھی خود کو نہ اظہر سنبھال، کیا ہو گا
الف عین — مئی 13، 2013 8:00 صبح
واہ اظہر، پہلی نظر میں تو کوئی خامی نظر نہیں آ سکی۔مبارک ہو
شوکت پرویز — مئی 13، 2013 10:57 صبح
شریک میری وہ خوشیوں میں جب نہیں ہوتے
شریک خوشیوں میں میری وہ جب نہیں ہوتے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84%D8%8C-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%8F%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92%D8%8C-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%91%DA%BE-%DA%A9%D8%B1-%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A7.63789/