ملک عدنان احمد — فروری 25، 2013 8:28 شام
بیٹھے بیٹھے ایک مطلع ذہن میں آیا، شاعری کی رو سے تبصرہ کیجیے گا، کس حد تک درست ہے، اور اس میں بہتری کی جائے تو کیا؟
شام ہوتے ہی جلنے لگتے ہیں
داغ دل کے، چراغ جیسے ہیں
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 25، 2013 8:37 شام
بیٹھے بیٹھے ایک مطلع ذہن میں آیا، شاعری کی رو سے تبصرہ کیجیے گا، کس حد تک درست ہے، اور اس میں بہتری کی جائے تو کیا؟
شام ہوتے ہی جلنے لگتے ہیں
داغ دل کے، چراغ جیسے ہیں
بجھتے بجھتے بھی ہیں یہ جل جاتے
یہ دیے دل کے داغ جیسے ہیں
ملک عدنان احمد — فروری 25، 2013 8:42 شام
بجھتے بجھتے بھی ہیں یہ جل جاتے
یہ دیے دل کے داغ جیسے ہیں
ایسے نہ کیجیے اسامہ بھائی، یہ موتی چرا لینے ہیں میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الف عین — فروری 26، 2013 4:39 صبح
بیٹھے بیٹھے ایک مطلع ذہن میں آیا، شاعری کی رو سے تبصرہ کیجیے گا، کس حد تک درست ہے، اور اس میں بہتری کی جائے تو کیا؟
شام ہوتے ہی جلنے لگتے ہیں
داغ دل کے، چراغ جیسے ہیں
اچھا مطلع ہے، مکمل غزل کہو، قوافی تو مجرد ہیں اس لئے بہت آسان ہے
محمد وارث — فروری 26، 2013 12:28 شام
رات دن جلتے ہی تو رہتے ہیں
داغِ دل کب چراغ جیسے ہیں
ملک عدنان احمد — فروری 26، 2013 2:17 شام
رات دن جلتے ہی تو رہتے ہیں
داغِ دل کب چراغ جیسے ہیں
ارے واہ، آپکے دل کے داغ تو کچھ زیادہ ہی منچلے نکلے۔۔۔۔

محمد بلال اعظم — فروری 26، 2013 2:39 شام
عمدہ کہا ہے عدنان بھائی
محمداحمد — فروری 26، 2013 2:41 شام
بیٹھے بیٹھے ایک مطلع ذہن میں آیا، شاعری کی رو سے تبصرہ کیجیے گا، کس حد تک درست ہے، اور اس میں بہتری کی جائے تو کیا؟
شام ہوتے ہی جلنے لگتے ہیں
داغ دل کے، چراغ جیسے ہیں
خوب ہے بھیا۔۔۔! غزل کہیے۔
محمد وارث — فروری 26، 2013 4:12 شام
ارے واہ، آپکے دل کے داغ تو کچھ زیادہ ہی منچلے نکلے۔۔۔ ۔
منچلے بھی ہیں اور عزیز بھی ہیں
داغ دل کے بھی تیرے جیسے ہیں

ملک عدنان احمد — فروری 26، 2013 8:10 شام
منچلے بھی ہیں اور عزیز بھی ہیں
داغ دل کے بھی تیرے جیسے ہیں
آپکی بات ہے بجا
وارث
آپ بھی خیر میرے جیسے ہیں
