نقاب
کچھ ارادہ نہیں تھا قاتل کا
قتل ہونا مرا مقدر تھا
شام بس ذور سے چلی پروا
اُس کے رُخ سے نقاب اُٹھا تھا
اُستاد محترم صبح صبح ایک کلو خون بڑھ گیا
ارے جناب شمشاد صاحب، کتھے مہر علی کتھے تیری سناء گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں
جی اُستاد محترم یہی مشکل مجھے بھی پیش آتی ہے، تدوین میں بھی پیرا بریک نہیں ہوتا
واہ، شمشاد بھائی یہ شعر میں نے بھی نصرت فتح علی خان مرحوم کی زبانی، تمہیں دللگی بھول جانی پڑے گی، میں سنا ہے مگر شاعر کا نام معلوم نہیں
بہت شکریہ جناب کاشف صاحب