بات بھی چلتی رہی، اور رابطہ ہوتا رہا
پیار تھا، بولے نہیں ، بس تجربہ ہوتا رہا
//’بولے نہیں‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سے شعر مبہم ہو رہا ہے۔
جی تبدیل کیے دیتا ہوں
بات بھی چلتی رہی، اور رابطہ ہوتا رہا
پیار کی باتوں میں لیکن مسئلہ ہوتا رہا
اسکی اُسکی چاہتوں پر تبصرے دن بھر کئے
یار اپنی بھی تو سوچو، مسخرہ ہوتا رہا
//شعر بے معنی محسوس ہوتا ہے۔
جی تبدیل کیے دیتا ہوں
اسکی اُسکی چاہتوں میں دم نہیں ہے، یا کہ ہے؟
پیت اپنی بھاڑ میں یہ تجزیہ ہوتا رہا
سوچتے تھے روز کچھ تو گفتگو آگے بڑھے
خاک ڈالو کیا محبت، فلسفہ ہوتا رہا
فیض کی غالب کی جیسے شاعری دیوار ہو
پیار کی باتیں نہیں بس تجزیہ ہوتا رہا
//دوسرے مصرع کا پہلے سے تعلق؟
جی اس طرح دیکیے تو جناب
فیض کی غالب کی جیسے شاعری دیوار ہو
روز وہ معشوق پڑھتی جائزہ ہوتا رہا
کیوں وہاں اُسکی طرف ہر بات لے جاتی رہی
بے وجہ بھی گفتگو میں تزکرہ ہوتا رہا
//وجہ کا تلفظ غلط باندھا ہے، اس کو سبب کر دو، باقی شعر درست۔
جی بہت بہتر ہے
کیوں وہاں اُسکی طرف ہر بات لے جاتی رہی
بے سبب بھی گفتگو میں تزکرہ ہوتا رہا
دل محبت سے بھرا تھا، بات بنتی ہی رہی
رنجشیں آئیں بہت پر تصفیہ ہوتا رہا
//درست
لوگ پاگل ہی سمجھتے تھے، سمجھتے ہی رہے
تجھ پہ اظہر جب بھی اُن کا تبصرہ ہوتا رہا
//درست
گویا اب صورتحال کچھ یوں بنی
بات بھی چلتی رہی، اور رابطہ ہوتا رہا
پیار کی باتوں میں لیکن مسئلہ ہوتا رہا
اسکی اُسکی چاہتوں میں دم نہیں ہے، یا کہ ہے؟
پیت اپنی بھاڑ میں یہ تجزیہ ہوتا رہا
سوچتے تھے روز کچھ تو گفتگو آگے بڑھے
خاک ڈالو کیا محبت، فلسفہ ہوتا رہا
فیض کی غالب کی جیسے شاعری دیوار ہو
روز وہ معشوق پڑھتی جائزہ ہوتا رہا
کیوں وہاں اُسکی طرف ہر بات لے جاتی رہی
بے سبب بھی گفتگو میں تزکرہ ہوتا رہا
دل محبت سے بھرا تھا، بات بنتی ہی رہی
رنجشیں آئیں بہت پر تصفیہ ہوتا رہا
لوگ پاگل ہی سمجھتے تھے، سمجھتے ہی رہے
تجھ پہ اظہر جب بھی اُن کا تبصرہ ہوتا رہا