ایک ناتمام غزل کے چند اشعار بغرضِ اصلاح

محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 10، 2013 3:03 صبح
ایک ناتمام غزل کے چند اشعار بغرضِ اصلاح پیشِ خدمت ہیں۔ کیا یہ قوافی درست ہیں؟
رات دن بس اِک تماشا چاہیے​
دِل کے بہلانے کو کیا کیا چاہیے​
اتفاقاً بھول جاتے ہیں تجھے​
التزاماً یاد رکھنا چاہیے​
کتنا زخمی آج انساں ہوگیا​
اس کو اب کوئی مسیحا چاہیے​
اجنبی ہیں راستے، تنہا سفر​
شکل کوئی اب شناسا چاہیے​
اِس بھری محفِل میں تنہا ہیں خلیل​
آج تو بس کوئی اپنا چاہیے​
فاتح — جنوری 10، 2013 3:17 صبح
اچھے اشعار ہیں خلیل بھائی اور قوافی بھی درست ہیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 10، 2013 3:22 صبح
جزاک اللہ فاتح بھائی ۔ پسندیدگی کا شکریہ
نورالباری مل — جنوری 10، 2013 4:52 صبح
بہت خوب
الف عین — جنوری 10، 2013 6:57 صبح
بہر خوب خلیل میاں، قوافی درست ہی ہیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 11، 2013 1:26 صبح
شکریہ اور جزاک اللہ نورالباری مل بھائی۔ اپنا تعارف بھی عنایت فرمائیے جناب۔
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 11، 2013 1:28 صبح
بہر خوب خلیل میاں، قوافی درست ہی ہیں۔
شکریہ اور جزاک اللہ استادِ محترم
امجد علی راجا — جنوری 11، 2013 11:12 صبح
محمد خلیل الرحمٰن بھائی، بہت عمدہ غزل ہے، مزہ آگیا۔
بھائی الف عین، آپ نے فرمایا کہ "قوافی درست ہی ہیں" میرے علم کے مطابق تو قوافی بلکل ٹھیک ہیں، اس کا مطلب ہے کہ مجھے اپنے علم میں اضافی کرنے کی سخت ضرورت ہے، میری گزارش ہے کہ آپ قوافی کے انتخاب کے بارے میں اپنی ماہرانہ رائے سے نوازیں تا کہ میں اور باقی محفلین مستفید ہو سکیں۔
محمد بلال اعظم — جنوری 11، 2013 11:24 صبح
واہ
خوبصورت غزل
الف عین — جنوری 11، 2013 5:09 شام
عزیزم یہ تو میری جاہلیت کا ثبوت ہے کہ میں نے لفظ ’ہی‘ استعمال کیا جس کی ضرورت نہیں تھی۔ در اصل یہاں اس قسم کے مجرد قوافی پر بحث ہو چکی ہے، اور میں مثال کے لئے اکثر بشیر بدر کی وہ غزل پیش کرتا ہوں، جس کا مصرع ہے ’وہ تو کہئے کہ ان کو ہنسی آ گئی، بچ گئے آج ہم ڈوبتے ڈوبتے‘ اس غزل کے دوسرے قوافی ہیں، جاگتے جاگتے، دیکھتے دیکھتے، سوچتے سوچتے (اس وقت مزید اشعار یاد نہیں، یہ مثالیں ہیں اس غزل کے قوافی کی قسم کی۔ تو یہ کہا تھا میں نے کہ اس قسم کے قوافی درست نہیں ہیں۔ یہاں ایسا نہیں، محض متحرک شا، یا، سا، نا، قوافی ہیں جو درست ہیں۔
محمد یعقوب آسی — جنوری 15، 2013 3:12 صبح
۔۔۔۔
یوں خیالوں کی تصویر قرطاس پر کیسے بن پائے گی​
لفظ کھو جائیں گے فن کی باریکیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے​
۔۔۔۔
کیا خبر کیسی کیسی بہشتیں نظر میں بسا لائے تھے​
مر گئے لوگ شہرِ بلا میں اماں ڈھونڈتے ڈھونڈتے​
۔۔۔۔
جنابِ الف عین کی بات پر یہ شعر یاد آ گئے، سو نقل کر دئے۔
جنابِ محمد خلیل الرحمٰن
امجد علی راجا — جنوری 15، 2013 5:49 صبح
الف عین بھائی، آپ نے اپنی گہری نظر کو جاہلیت کہہ کر مجھے شرمندہ ہی کردیا۔
خیر میں سوال کرنے سے باز نہیں آنے والا، پوچھوں گا نہیں تو سیکھوں گا کیسے؟
محمد حفیظ الرحمٰن — جنوری 17، 2013 9:47 صبح
ًمحترم خلیل صاحب۔ بہت اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجیے۔
مزمل شیخ بسمل — جنوری 24، 2013 6:28 شام
بہت اچھی غزل ہی خلیل بھائی۔ اور قافیہ تو درست ہی ہے۔ جب غالب نے اس قافیہ کو استعمال کر لیا تو کوئی کیا غلط کہے؟ پھر ایسا بھی کوئی کہ سب اچھا کہیں جسے؟:D
الف عین بھائی، آپ نے اپنی گہری نظر کو جاہلیت کہہ کر مجھے شرمندہ ہی کردیا۔
خیر میں سوال کرنے سے باز نہیں آنے والا، پوچھوں گا نہیں تو سیکھوں گا کیسے؟

تو ہاتھ ملائیں بھئی۔ ایک جاہل یہاں بھی موجود ہے۔ :cool:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%92-%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%BA%D8%B1%D8%B6%D9%90-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.58524/