ایک نظم

خورشیداحمدخورشید — جولائی 4، 2022 10:59 صبح
محترم اساتذہ کو اصلاح کی درخواست کے ساتھ:
الف عین ، ظہیراحمدظہیر ، سید عاطف علی ، محمّد احسن سمیع :راحل: ، یاسر شاہ
منافق نہیں بس وہ کمزور ہے
مگر دوغلا کوئی شہ زور ہے
کسی کی وہ دلہن بنائی گئی
دل و جاں پہ قابض کوئی اور ہے
تلاطم ہے جذبات کے بحر میں
مچا دھڑکنوں کا بہت شور ہے
بغاوت پہ مائل ہے گھائل یہ دل
تو دریائے نفرت بھی منہ زور ہے
ہے جکڑی وہ رشتوں کی زنجیر میں
یہی بے بسی قابلِ غور ہے
وفادار بیوی کا کردار ہی
اُسے اب نبھانا کسی طور ہے
عمر بھر ستائے گا احساس یہ
منافق ہے وہ ، دل میں بھی چور ہے
منافق نہیں بس وہ کمزور ہے
مگر دوغلا کوئی شہ زور ہے​
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 4، 2022 11:12 صبح
قوافی محل نظر ہیں.
غور، اور کے ساتھ زور اور شور درست نہیں.
الف عین — جولائی 5، 2022 4:35 صبح
اور، غور کے علاوہ طور قافیہ بھی غلط ہے، ان میں ا، غ اور ط پر زبر ہے جب کہ بقیہ قوافی میں نہیں۔
عمر بھر ستائے.....
عمر کا تلفظ غلط بندھا ہے
خورشیداحمدخورشید — جولائی 5، 2022 6:38 صبح
اور، غور کے علاوہ طور قافیہ بھی غلط ہے، ان میں ا، غ اور ط پر زبر ہے جب کہ بقیہ قوافی میں نہیں۔
عمر بھر ستائے.....
عمر کا تلفظ غلط بندھا ہے
قوافی محل نظر ہیں.
غور، اور کے ساتھ زور اور شور درست نہیں.
عمر بھر ستائے گا احساس یہ
منافق ہے وہ ، دل میں بھی چور ہے
ہمیشہ ستائے گا احساس یہ
منافق ہے وہ دل میں بھی چور ہے
الف عین — جولائی 6، 2022 5:10 صبح
عمر بھر ستائے گا احساس یہ
منافق ہے وہ ، دل میں بھی چور ہے
ہمیشہ ستائے گا احساس یہ
منافق ہے وہ دل میں بھی چور ہے
درست ہو گیا
خورشیداحمدخورشید — جولائی 6، 2022 8:33 صبح
بہت شکریہ سر!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85.118625/