ایک نظم "خواب" برائے اصلاح پیش خدمت ھے

احمد وصال — جولائی 25، 2016 7:37 صبح
‏تمھیں کچھ یاد ھے جاناں
وہ جو اک "خواب" دیکھا تھا
پھر اس کے بعد خوابوں کے!
کچھ ان دیکھے عذابوں کے
بنے کچھ سلسلے ایسے
کہ وہ اب تک ادھورے ہیں
ادھورا چاند ہے اور ہیں ستارے بھی
افق پر دور سورج ڈوبنے کے نظارے بھی
ادھورا میں، میری ہر بات
اور آدھا ادھورا ھے تمھارا ساتھ
وہ خوشبو میرے آنگن کی
وہ آ ھٹ تیرے آنے کی
تری پلکوں کے جھکنے کی
ترے جانے میں رکنے کی
پلٹ کے لوٹ آنے کی
ادائیں سب ادھوری ہیں
تم آکر دیکھ تو لو ناں !
تری تصویر ادھوری ھے
مری تقدیر ادھوری ھے
مری باتیں ادھوری ہیں
مری راتیں ادھوری ہیں
بنا تیرے مرا سب کچھ
کہیں کچھ بھی نہ پورا ھے
مرا سب کچھ ادھورا ھے
بس اک وہ "خواب" پورا ھے
ظہیراحمدظہیر — جولائی 26، 2016 12:43 صبح
بہت خوب ! اچھی نظم ہے ۔ ان سطروں مین وزن کا مسئلہ لگ رہا ہے :
افق پر دور سورج ڈوبنے کے نظارے بھی
ادھورا میں، میری ہر بات
اور آدھا ادھورا ھے تمھارا ساتھ
اس کے علاوہ نظم کے آخر میں شترگربہ ہے۔
وصال احمد صاحب ، محفل میں خوش آمدید!
احمد وصال — جولائی 26، 2016 8:53 صبح
محترم ظہیر احمد ظہیر اگر وزن کی کمی بیشی کی بھی نشاندہی فرمائیں تو نوازش ھوگی۔
بہت خوب ! اچھی نظم ہے ۔ ان سطروں مین وزن کا مسئلہ لگ رہا ہے :
اس کے علاوہ نظم کے آخر میں شترگربہ ہے۔
وصال احمد صاحب ، محفل میں خوش آمدید!
اگر وزن کی کمی بیشی کی نشاندہی فرما دیں تو نوازش ھوگی ۔مبتدی ھوں اس لئے وزن پر عبور نہیں ھے
دوسری بات آخر میں شتر گربہ ھے" کی سمجھ نہی آئی۔۔
احمد وصال — جولائی 27، 2016 7:33 شام
محترم محمد خلیل الرحمن،محترم الف عین اور دیگر اساتذہ کی توجہ کا مشتاق ھوں کہ اس نظم پر رھنمائی کریں
ظہیراحمدظہیر — جولائی 29، 2016 11:41 شام
محترم ظہیر احمد ظہیر اگر وزن کی کمی بیشی کی بھی نشاندہی فرمائیں تو نوازش ھوگی۔
اگر وزن کی کمی بیشی کی نشاندہی فرما دیں تو نوازش ھوگی ۔مبتدی ھوں اس لئے وزن پر عبور نہیں ھے
دوسری بات آخر میں شتر گربہ ھے" کی سمجھ نہی آئی۔۔
آپ کی نظم کا وزن مفاعیلن کی تکرار پر ہے ۔لیکن مذکورہ تین سطور میں وزن گڑبڑ ہے ۔
آپ نے مخاطب کے لئے کہیں تم اور کہیں تو کا استعمال کیا ہے ۔ اسے شترگربہ کہتے ہیں ۔ جیسے
تم آکر دیکھ تو لو ناں !
تری تصویر ادھوری ھے

اگر عروض آپ کے لئے نئی ہے تو اس محفل میں بے تحاشہ تعلیمی مواد موجود ہے ۔ تلاش کرنے پر بہ آسانی مل جائے گا۔ :):):)
احمد وصال — اگست 12، 2016 5:48 صبح
آپ کی نظم کا وزن مفاعیلن کی تکرار پر ہے ۔لیکن مذکورہ تین سطور میں وزن گڑبڑ ہے ۔
آپ نے مخاطب کے لئے کہیں تم اور کہیں تو کا استعمال کیا ہے ۔ اسے شترگربہ کہتے ہیں ۔ جیسے
تم آکر دیکھ تو لو ناں !
تری تصویر ادھوری ھے

اگر عروض آپ کے لئے نئی ہے تو اس محفل میں بے تحاشہ تعلیمی مواد موجود ہے ۔ تلاش کرنے پر بہ آسانی مل جائے گا۔ :):):)
محترم اس میں کچھ تدوین کی ھے اگر فراغت ھو تو دیکھ لیں اور اپنی قیمتی رائے سے نوازیں
‏تمھیں کچھ یاد ھے جاناں
وہ جو اک "خواب" دیکھا تھا
پھر اس کے بعد خوابوں کے!
سرابوں کے..
کچھ ان دیکھے
عذابوں کے بنے کچھ سلسلے ایسے
کہ وہ اب تک ادھورے ہیں
ادھورا چاند ہے اور ہیں ستارے بھی
سورج ڈوبنے کے ہیں نظارے بھی
ادھورا میں، مری ہر بات
اور آدھا ادھورا ہے ترا یہ ساتھ
وہ خوشبو میرے آنگن کی
وہ آ ھٹ تیرے آنے کی
تری پلکوں کے جھکنے کی
ترے جانے میں رکنے کی
پلٹ کر لوٹ آنے کی
ادائیں سب ادھوری ہیں
تری تصویر ادھوری ھے
مری تقدیر ادھوری ھے
مری باتیں ادھوری ہیں
مری راتیں ادھوری ہیں
بنا تیرے مرا سب کچھ
کہیں کچھ بھی نہ پورا ھے
مرا سب کچھ ادھورا ھے
بس اک وہ "خواب" پورا ھے
الف عین — اگست 12، 2016 6:33 صبح
سورج ڈوبنے کے ہیں نظارے بھی
میں سکتہ محسوس ہوتا ہے
وزن کے افاعیل مکمل نہیں
تو سورج۔۔۔۔۔۔۔ کرنے سے یہ خامی دور ہو سکتی ہے
احمد وصال — اگست 13، 2016 7:39 شام
سورج ڈوبنے کے ہیں نظارے بھی
میں سکتہ محسوس ہوتا ہے
وزن کے افاعیل مکمل نہیں
تو سورج۔۔۔۔۔۔۔ کرنے سے یہ خامی دور ہو سکتی ہے
محبتوں اور رھنمائی کا مشکور محترم " الف عین "

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA-%DA%BE%DB%92.91135/