ایک نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح

نور وجدان — مئی 10، 2015 10:29 صبح
چاند کو میں نے ڈوبتے دیکھا ۔
خواب کو آنکھیں موندتے دیکھا ۔
رات اندھیری میں چھایا سناٹا۔
اور جنگل کا سا سماں بھی تھا۔
چاند آجا ! سمیٹ تاریکی۔
ِریت تم سے وفا کی ہے پھیلی۔
حسن کے گیت جگ ہے گاتا۔
تم پہ رہتا حسین اک دیوتا۔
جو محبت پری سے ہے کرتا۔
تم اماوس کی رات لاتے ہو۔
سوگ اک دن کا تم مناتے ہو۔
ایک عرصہ بھی آس میں بیتا۔
کیوں نہ پھر آس کا دیا توڑا ۔ ؟
چاند پھر خواب میں تھا جو دیکھا
وہ حسیں ، مست سا اک نظارا ۔
آنکھ میری نہ کھل سکی تب سے
''داستاں میری گنجلک سی ہے''
چاند نے یہ کہا تھا مجھ ہی سے
''خواب کو میں نے ڈوبتے دیکھا ۔
پل میں جگ کو بدلتے ہےپایا۔''
آ کہ سورج نے لی جو انگڑائی۔
چاند سے دور ہو کے گھبرائی۔
خواب میں سب ہی پھر سے تھا بدلا۔
چاند بھی مجھ سے کیوں پھر تھا روٹھا۔
الف عین محترم
فاروق احمد بھٹی — مئی 10، 2015 10:48 صبح
نظم اچھی ہے پسند آئی اب اصلاحی نظر تو اساتذہ ہی ڈال سکتے ہیں۔
Mystic Enigma — مئی 10، 2015 12:04 شام
نظم بہت اچھی ہے . داد حاضر
نور وجدان — مئی 10، 2015 3:45 شام
شکریہ بھٹی صاحب ۔۔۔ شکریہ''مس ٹک''
مزمل شیخ بسمل — مئی 10، 2015 5:09 شام
گڑیاؤں والی نظم ہوگئی یہ تو۔ :):):):unsure:
نور وجدان — مئی 10، 2015 5:11 شام
گڑیاؤں والی نظم ہوگئی یہ تو۔ :):):):unsure:
اچھی نہیں لگی :disapointed::sidefrown:
میں بھی تو گڑہا ہوں۔۔۔ہی ہی
:weep:
مزمل شیخ بسمل — مئی 10، 2015 5:35 شام
اچھی نہیں لگی :disapointed::sidefrown:
میں بھی تو گڑہا ہوں۔۔۔ہی ہی
:weep:

نہیں ایسی بات نہیں۔ ایسا کب کہا میں نے؟ اچھی ہے۔ ڈُن وری۔ :) :) :)
الف عین — مئی 11، 2015 7:10 صبح
روانی کی سخت کمی ہے
خطاب چاند سے ہے تو اسے ایک ہی طرح تخاطب ہونا چاہئے، چاہے ’تو‘ سے ہو یا ’تم‘ سے۔@نور سعدیہ شیخ تقطیع بھی سیکھ لیں تو بہتر ہو
فاعلاتن مفاعلن فعلن
آخری مصرع دیکھو
چاند بھی مجھ۔ فاعلاتن
سِ کیو پھر تھا۔مفاعلن نہیں ہے
روٹھا۔ فعلن
نور وجدان — جنوری 21، 2017 9:33 صبح
چاند کو میں نے ڈوبتے دیکھا
خواب کو آنکھیں موندتے دیکھا
گہری سنسان رات کی باتیں
چاند سے جب ہوئیں ملاقاتیں
''چاند اندھیرے سمیٹنے آجا !''
''تم نے کب کس کو ہے دیا دھوکا؟''
''حسن کا تم سے ہے الگ ناتا''
''تم پہ دیوتا کبھو کا ہے رہتا ''
''جل پَری کے وہ بھی ہے گن گاتا''
''تم اماوس کی رات لاتے ہو''
''سوگ دن بھر کا تم مناتے ہو ''
''اس چکر میں بھی عرصہ بیت گیا''
''کیوں نہ پھر آس کا دیا توڑا ؟''
رات جھولی میں چاند تھا اترا
چاند جگمگ جو خواب میں دیکھا
پاس آکے کی اُس نے سرگوشی
''داستاں تو ہےگنجلک میری''
''خواب کو میں نے ڈوبتے دیکھا ''
پل میں جگ کو بدلتے دیکھا ہے''
اسنے جونہی جب مجھے یہ کہا
چار سو پھر اندھیرا چھاتا گیا
خواب پھر سے مرا بدلتا گیا
چاند پھر سے اداس کرتا گیا
آ کے سورج نے لی جو انگڑائی۔
چاند سے دور ہو کے گھبرائی۔
خواب سے میرا رشتہ پھر ٹوٹا
چاند بھی میرا مجھ سے پھر روٹھا
ٓ
الف عین — جنوری 21، 2017 10:01 صبح
نہیں بھئی مزا نہیں یا۔ کچھ مصرعے اب بھی بحر سے خارج ہیں۔اور روانی تو دور سے ہی بھاگ گئی ہے!!
یہ مصرعے بحر میں نہیں۔
''تم پہ دیوتا کبھو کا ہے رہتا ''
''جل پَری کے وہ بھی ہے گن گاتا''
''اس چکر میں بھی عرصہ بیت گیا''

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.81875/