ایک نظم،'' مجھے مت جلانا''

محمد اظہر نذیر — مارچ 25، 2012 8:37 شام
مجھے مت جلانا
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں
خدا نے بناٗی تھی، اچھی بھلی ہوں
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں
مجھے چھاوں میں آنچ لگتی تھی لیکن
تُمھارے لیے دھوپ تک میں جلی ہوں
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں
میں غنچہ دہن ہوں، میں کومل بدن ہوں
میں رنگین تتلی، میں نازک کلی ہوں
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں
کسی کی میں بیٹی، کسی کی بہن ہوں
محبت کے سانچے میں دیکھو ڈھلی ہوں
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں
نیلم — مارچ 25، 2012 10:30 شام
Great
محمد اظہر نذیر — مارچ 26، 2012 9:54 صبح
شکریہ محترمہ نیلم صاحبہ
محمد اظہر نذیر — مارچ 26، 2012 9:55 صبح
شکریہ محترم وارث صاحب
حسن — مارچ 26، 2012 10:01 صبح
خوب
محمد اظہر نذیر — مارچ 26، 2012 10:03 صبح
بہت شکریہ جناب حسن صاحب
الف عین — مارچ 26، 2012 5:10 شام
اچھی نظم ہے مگر کچھ تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ بطور خاص تین مصرعوں کے بعد ٹیپ کا مصرع آ جائے تو بہتر رہے۔
مثلا
میں رنگین تتلی، میں نازک کلی ہوں​
خدا نے بنائی تھی، اچھی بھلی ہوں​
۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں​

میں غنچہ دہن ہوں، میں کومل بدن ہوں​
کسی کی میں بیٹی، کسی کی بہن ہوں​
محبت کے سانچے میں دیکھو ڈھلی ہوں​

تیسرے بند میں مفہوم نظم کے مجموعی جذبے سے میل نہیں کھاتا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85%D8%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%85%D8%AA-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7.50472/