ایک نظم، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے،'' خواب''

محمد اظہر نذیر — اکتوبر 1، 2013 5:38 صبح
خواب
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
خواب سارے سویر سے پہلے
اور نصیبوں کے پھیر سے پہلے
بُلبُلے تھے، ہوا میں پھوٹے ہیں
ایک کے بعد ایک ٹوٹے ہیں
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
یہ حقائق سبھی ادھورے ہوں
ایک خواہش ہے خواب پورے ہوں
حسرتوں سے بنے ہیں کیوں بخئیے
کوئی کروٹ قرار بھی لے لے
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
کوئی امید کا ہی ہو دھاگہ
یا مرا بد نصیب ہو جاگا
اب کوئی خواب بُن نہ پاؤں گا
ایسا دھاگہ کہاں سے لاؤں گا
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں​
غلام ربانی فدا — اکتوبر 1، 2013 5:49 صبح
قدردانو!مہربانو! ابھی جلد ہی اردوادب کے عظیم اساتذہ تشریف لانے والے ہیں۔وہی اس نظم کے حوالے سے آپنے اپنے فیصلے دیں گے
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 1، 2013 5:54 صبح
قدردانو!مہربانو! ابھی جلد ہی اردوادب کے عظیم اساتذہ تشریف لانے والے ہیں۔وہی اس نظم کے حوالے سے آپنے اپنے فیصلے دیں گے
ویسے قدغن تو نہیں کچھ آپ پر بھی :angel:
الف عین — اکتوبر 2، 2013 5:21 صبح
کم از کم میں تو ابھی حاضر نہیں ہو سکتا۔ بعد میں۔
الف عین — اکتوبر 4، 2013 3:28 صبح
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
کوئی امید کا ہی ہو دھاگہ
یا مرا بد نصیب ہو جاگا
اب کوئی خواب بُن نہ پاؤں گا
ایسا دھاگہ کہاں سے لاؤں گا
//بد نصیب تو صفت ہوتی ہے کسی شخص کی۔
یا نصیبہ ہو نیند سے جاگا
بہتر ہوگا
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 6، 2013 6:35 صبح
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں​
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
کوئی امید کا ہی ہو دھاگہ
یا مرا بد نصیب ہو جاگا
اب کوئی خواب بُن نہ پاؤں گا
ایسا دھاگہ کہاں سے لاؤں گا
//بد نصیب تو صفت ہوتی ہے کسی شخص کی۔
یا نصیبہ ہو نیند سے جاگا
بہتر ہوگا
جی بہت بہتر جناب
گویا اب نظم یوں ہوئی
خواب
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
خواب سارے سویر سے پہلے
اور نصیبوں کے پھیر سے پہلے
بُلبُلے تھے، ہوا میں پھوٹے ہیں
ایک کے بعد ایک ٹوٹے ہیں
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
یہ حقائق سبھی ادھورے ہوں
ایک خواہش ہے خواب پورے ہوں
حسرتوں سے بنے ہیں کیوں بخئیے
کوئی کروٹ قرار بھی لے لے
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں
کوئی امید کا ہی ہو دھاگہ
یا نصیبہ ہو نیند سے جاگا
اب کوئی خواب بُن نہ پاؤں گا
ایسا دھاگہ کہاں سے لاؤں گا
خواب بُنتا تھا روز آنکھوں میں
پر اُترتا تھا سوز، آنکھوں میں​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85%D8%8C-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92%D8%8C-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8.68137/