ایک نعت بغرض اصلاح و تنقید

حسن نظامی — جنوری 21، 2013 5:46 شام
السلام علیکم! ایک نعت پیش خدمت ہے ! امید ہے نقد و نظر سے نوازتے ہوئے اصلاح فرمائی جائے گی۔
پرنور دل فروز فضائے حجاز ہے
آقا کا در ہے اور جبینِ نیاز ہے
خون حسین پوچھ رہا ہے یزید سے
کیسا معاملہ تھا یہ اور کیا جواز ہے؟
محشرکا دل میں خوف ہے نہ موت کا خطر
آقا مرا کریم ہے بندہ نواز ہے
میلاد، نعت خوانیاں، اشکوں کی یہ جھڑی
یادِ نبی میں اشک رواں دل گداز ہے
نایاب — جنوری 21، 2013 6:20 شام
سبحان اللہ
الف نظامی — جنوری 21، 2013 6:23 شام
پرنور ، دل فروز فضائے حجاز ہے
آقا کا در ہے اور جبینِ نیاز ہے

خونِ حسین پوچھ رہا ہے یزید سے
کیسا معاملہ تھا یہ اور کیا جواز ہے؟

محشرکا دل میں خوف ہے نہ موت کا خطر
آقا مرا کریم ہے ، بندہ نواز ہے

میلاد، نعت خوانیاں، اشکوں کی یہ جھڑی
یادِ نبی میں اشک رواں ، دل گداز ہے
الف عین — جنوری 22، 2013 6:20 صبح
شاکرالقادری بھائی سو رہے ہیں کیا؟
بس، مجھے ’نہ‘ بطور دو غرفی پسند نہیں۔ اس کی جگہ ’نے‘ استعمال کیا جا سکتا ہے
محشرکا دل میں خوف ہے نے موت کا خطر
شاکرالقادری — جنوری 22، 2013 10:34 صبح
شاکرالقادری بھائی سو رہے ہیں کیا؟
بس، مجھے ’نہ‘ بطور دو غرفی پسند نہیں۔ اس کی جگہ ’نے‘ استعمال کیا جا سکتا ہے
محشرکا دل میں خوف ہے نے موت کا خطر
بالکل درست فرمایا آپ نے اس طرح مصرعہ زیادہ رواں اور مترنم ہو جاتا ہے
حسن نظامی ۔۔۔۔!
پرنور دل فروز فضائے حجاز ہے
آقا کا در ہے اور جبینِ نیاز ہے

آقا کا۔۔۔ ۔۔
اس مصرعہ میں " قا ۔۔۔ اور ۔۔۔ کا" دونوں کی یکجائی مصرعے کی روانی، ترنم اور موسیقیت کو متاثر کر رہی ہے اور مصرعہ مجروح ہو رہا ہے اس کو ٹھیک کریں
شاکرالقادری — جنوری 22، 2013 10:36 صبح
خون حسین پوچھ رہا ہے یزید سے
کیسا معاملہ تھا یہ اور کیا جواز ہے؟

یہ شعر ابہام لیے ہوئے ہے ۔۔۔ جو کچھ آپ کہنا چاہ رہے ہیں اس کا ابلاغ نہیں ہو رہا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B9%D8%AA-%D8%A8%D8%BA%D8%B1%D8%B6-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.59075/