ایک پابند نظم بغرضِ اصلاح

احسن مرزا — اگست 12، 2012 9:52 شام
عشق
عشق بیباک نگاہوں کو ردائیں بخشے​
عشق خشبو سا بکھرنے کی ادائیں بخشے​
عشق جذبات کی دولت کو وفائیں بخشے​
عشق صحرا کی تپش میں بھی گھٹائیں بخشے​
عشق بیباک نگاہوں میں نہاں ہوتا ہے​
عشق لپٹا بھی ہو پردوں میں عیاں ہوتا ہے​
عشق شاہوں کو گدائی پہ لگا سکتا ہے​
عشق خوابیدہ نگاہوں کو جگا سکتا ہے​
عشق قسمت کے سفینے کو ڈبا سکتا ہے​
عشق تسخیر جہاں پل میں کرا سکتا ہے​
عشق طاقت کا نشہ چور بھی کرسکتا ہے​
عشق منزل کا نشاں دور بھی کرسکتا ہے​
عشق خاکِ درِ جانانہ بنا کر رکھ دے​
عشق اطفال سا مستانہ بنا کر رکھ دے​
عشق انجام سے بیگانہ بنا کر رکھ دے​
عشق عاقل کو بھی دیوانہ بنا کر رکھ دے​
عشق ہر درد کی شدت کو گھٹا دیتا ہے​
عشق بس اپنی پرستش پہ لگا دیتا ہے​
عشق شہباز کی پرواز اڑائے اکثر​
عشق ظلمت میں نئی شمع جلائے اکثر​
عشق میدان میں بےتیغ لڑائے اکثر​
عشق بگڑی ہوئی تقدیر بنائے اکثر​
عشق آتش کو بھی گلزار بنا سکتا ہے​
عشق عاشق کو سرِ دار بھی لا سکتا ہے​
احسن مرزا
نایاب — اگست 12، 2012 10:06 شام
بہت خوب بیان عشق
الف عین — اگست 13، 2012 8:26 صبح
کاپی کر لی ہے، ویسے بہت ممکن ہے کہ اصلاح کی ضرورت نہ ہو۔ اچھی نظم ہے
محمد وارث — اگست 13، 2012 12:02 شام
خوب نظم ہے جناب احسن مرزا صاحب
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 13، 2012 3:53 شام
بہت عمدہ نظم ہے جناب۔ داد قبول فرمائیے
محمد بلال اعظم — اگست 13، 2012 4:20 شام
بہت ہی خوب احسن صاحب۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 13، 2012 4:30 شام
خوب نظم ہے احسن بھائی۔ داد قبول فرمائیں۔
میر انیس — اگست 13، 2012 6:26 شام
واقعی بہت زبردست نظم ہے۔ ماشاللہ
احسن مرزا — اگست 13، 2012 6:38 شام
کاپی کر لی ہے، ویسے بہت ممکن ہے کہ اصلاح کی ضرورت نہ ہو۔ اچھی نظم ہے

ہمت افزائی پر ممنون ہوں قبلہ۔۔۔۔۔ مجھے انتظار رہے گا کسی بھی جانب نشاندہی کا۔۔۔۔۔
احسن مرزا — اگست 13، 2012 6:39 شام
باقی تمام احباب کا بھی ہمت بڑھانے پر تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں۔۔۔۔۔ یونہی ساتھ بنائے رکھئیے گا۔۔۔۔۔
شاہد شاہنواز — اگست 17، 2012 8:20 صبح
داد میری طرف سے بھی قبول کیجئے۔ بہت اچھی نظم ہے۔۔۔ اختلاف ہے تو پرستش والے مصرع سے ہے اور جہاں تک غلبی کا سوال ہے تو جناب من مجھے جو غلطی نظر آئی وہ ڈبا سکتا ہے کی ہے۔۔۔ شاید اسے ڈبو سکتا ہے ہونا چاہئے۔۔۔ اگر میں غلط ہوں تو میری اصلاح کی جائے۔۔۔ شکریہ۔
الف عین — ستمبر 8، 2012 11:22 صبح
عشق بیباک نگاہوں کو ردائیں بخشے
عشق خوشبو سا بکھرنے کی ادائیں بخشے
عشق جذبات کی دولت کو وفائیں بخشے
عشق صحرا کی تپش میں بھی گھٹائیں بخشے
عشق بیباک نگاہوں میں نہاں ہوتا ہے
عشق لپٹا بھی ہو پردوں میں عیاں ہوتا ہے
// کچھ سوال اٹھتے ہیں۔ نگاہوں کی ردائیں کیسی ہوتی ہیں، جذبات کی دولت کو وفائیں کس طرح بخشی جا سکتی ہیں۔ آخری مصرع بہر حال بدلا جا سکتا ہے، اگر باقی تمہارے حساب سے درست بھی مان لئے جائیں تو
اور نہاں پردوں میں ہو بھی تو عیاں ہوتا ہے
عشق شاہوں کو گدائی پہ لگا سکتا ہے
عشق خوابیدہ نگاہوں کو جگا سکتا ہے
عشق قسمت کے سفینے کو ڈبا سکتا ہے
عشق تسخیر جہاں پل میں کرا سکتا ہے
عشق طاقت کا نشہ چور بھی کرسکتا ہے
عشق منزل کا نشاں دور بھی کرسکتا ہے
//پہلے دونوں مصرعوں میں لگا اور جگا قافیہ ایطا پیدا کرتا ہے۔ یہاں فاصلہ کر د، یعنی دوسرے کو چوتھا مصرع بنا دو۔’ڈبا‘ کا قافیہ بلکہ لفظ ہی غلط ہے۔ صحیح ’ڈبو‘ ہے۔ پھر ٹیپ کے مصرعوں میں دوبارہ ’سکتا ہے‘ کا استعمال بھی احسن نہیں۔ اس بند کی اصلاح نہیں کر رہا ہوں فی الحال
عشق خاکِ درِ جانانہ بنا کر رکھ دے
عشق اطفال سا مستانہ بنا کر رکھ دے
عشق انجام سے بیگانہ بنا کر رکھ دے
عشق عاقل کو بھی دیوانہ بنا کر رکھ دے
عشق ہر درد کی شدت کو گھٹا دیتا ہے
عشق بس اپنی پرستش پہ لگا دیتا ہے
//خاک در جانانہ کس کو بنا کر رکھ دے؟
باقی مصرع درست ہیں۔
عشق شہباز کی پرواز اڑائے اکثر
عشق ظلمت میں نئی شمع جلائے اکثر
عشق میدان میں بےتیغ لڑائے اکثر
عشق بگڑی ہوئی تقدیر بنائے اکثر
عشق آتش کو بھی گلزار بنا سکتا ہے
عشق عاشق کو سرِ دار بھی لا سکتا ہے
//پرواز اڑائے‘ سے مراد؟ اس کے علاوہ ’نئی‘ شمع کی ضرورت؟ باقی درست

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A8%D8%BA%D8%B1%D8%B6%D9%90-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.53495/