ایک پینڈو نظم،'' پیڑ میرے گاؤں کا''

محمد اظہر نذیر — اکتوبر 15، 2012 4:25 شام
پیڑ میرے گاوں کا
پیڑ میرے گاوں کا
مول کوئی دے نہ پایا
ٹھنڈی ٹھنڈی چھاوں کا
پیڑ میرے گاوں کا
پانی بھرتی ناریں ہوں گی
اور کنویں پر ڈاریں ہوں گی
چھپ کہ دیکھیں گے وہ لڑکے
سینیما ، بن پیسے کڑکے
باگ لے پکڑا جو بھی جائے
چھوڑ جوتا پاوں کا
پیڑ میرے گاوں کا
ابے حقہ پیتے ہوں گے
ماں کی سُن کر جیتے ہوں گے
دیر سے کھانا بھی مل جائے
ہونٹ اپنے سیتے ہوں گے
بوڑھے بچے ہوں جواں
رعب سب پر ماوں کا
پیڑ میرے گاوں کا
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 15، 2012 4:29 شام
گزارش ہے کہ کھل کر تنقید کی جائے
نایاب — اکتوبر 15، 2012 4:41 شام
بہت اعلی
" ابے " حقہ پیتے ہوں گے
ماں کی سُن کر جیتے ہوں گے
شمشاد — اکتوبر 15، 2012 5:25 شام
گاوں کی بجائے گاؤں، باقی بھی جہاں جہاں و ہے وہاں ؤ کر لیں۔
سینما، بن پیسے کڑکے
بھاگ لے پکڑا جو بھی جائے
یہ تو املاء کی معمولی غلطیاں تھیں۔
لیکن نظم اپنی جگہ بہت اچھی ہے۔ بہت داد قبول فرمائیں۔
حسیب نذیر گِل — اکتوبر 15، 2012 5:52 شام
بندہ تو پینڈو ہوتا ہے لیکن نظم کے بارے میں آج سنا ہے کہ نظم بھی پینڈو ہوتی ہے
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 15، 2012 6:27 شام
بہت اعلی​
" ابے " حقہ پیتے ہوں گے
ماں کی سُن کر جیتے ہوں گے
بہت شکریہ جی :)
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 15، 2012 6:28 شام
گاوں کی بجائے گاؤں، باقی بھی جہاں جہاں و ہے وہاں ؤ کر لیں۔
سینما، بن پیسے کڑکے
بھاگ لے پکڑا جو بھی جائے
یہ تو املاء کی معمولی غلطیاں تھیں۔
لیکن نظم اپنی جگہ بہت اچھی ہے۔ بہت داد قبول فرمائیں۔
جی درست کیے دیتا ، شکریہ پسندیدگی کا
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 15، 2012 6:30 شام
بندہ تو پینڈو ہوتا ہے لیکن نظم کے بارے میں آج سنا ہے کہ نظم بھی پینڈو ہوتی ہے
جناب شائد آپ نے سُنا نہیں کہ سائیں کا نوکر بھی سائیں، سائیں دی گڈی وی سائیں
تو پھر
پینڈو کی نظم بھی پینڈو ہوئی نہ؟:)
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 15، 2012 6:34 شام
پیڑ میرےگاؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
مول کوئی دے نہ پایا
ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
پانی بھرتی ناریں ہوں گی
اور کنویں پر ڈاریں ہوں گی
چھپ کہ دیکھیں گے وہ لڑکے
سینما ، بن پیسے کڑکے
بھاگ لے پکڑا جو بھی جائے
چھوڑ جوتا پاؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
ابے حقہ پیتے ہوں گے
ماں کی سُن کر جیتے ہوں گے
دیر سے کھانا بھی مل جائے
ہونٹ اپنے سیتے ہوں گے
بوڑھے بچے ہوں جواں
رعب سب پر ماؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
حسیب نذیر گِل — اکتوبر 16، 2012 3:17 صبح
جناب شائد آپ نے سُنا نہیں کہ سائیں کا نوکر بھی سائیں، سائیں دی گڈی وی سائیں
تو پھر
پینڈو کی نظم بھی پینڈو ہوئی نہ؟:)
بالکل جی اس حساب سے تو آپکی نظم پینڈو ہی ہے
الف عین — اکتوبر 16، 2012 5:23 صبح
مجھ کو تو پینڈو لفظ ہی نہیں معلوم، میں اس پر کیا اصلاح دے سکتا ہوں۔ ذرا جانکار لوگ آ کر میری مدد کریں یہاں۔ مجھے تو یہ گیت جیسا لگتا ہے، لیکن ٹیپ کے مصرع سے کسی بند کا تعلق نظر نہیں آیا۔
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 16، 2012 5:52 صبح
مجھ کو تو پینڈو لفظ ہی نہیں معلوم، میں اس پر کیا اصلاح دے سکتا ہوں۔ ذرا جانکار لوگ آ کر میری مدد کریں یہاں۔ مجھے تو یہ گیت جیسا لگتا ہے، لیکن ٹیپ کے مصرع سے کسی بند کا تعلق نظر نہیں آیا۔
جی گاٴوں والے کو کہتے ہیں پینڈو، نظم کا عنوان میرا گاٴوں ہے لکھا نہیں
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 16، 2012 8:51 صبح
میرا گاؤں
پیڑ میرےگاؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
مول کوئی دے نہ پایا
ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
پانی بھرتی ناریں ہوں گی
اور کنویں پر ڈاریں ہوں گی
چھپ کہ دیکھیں گے وہ لڑکے
منڈوہ زندہ، پھوکٹ، کڑکے
پھوٹ لے جو دیکھا جائے
چھوڑ جوتا پاؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
ابا حقہ پیتے ہوں گے
ماں کی سُن کر جیتے ہوں گے
دیر سے کھانا بھی مل جائے
ہونٹ اپنے سیتے ہوں گے
بوڑھے بچے ہوں جواں
رعب سب پر ماؤںکا
پیڑ میرےگاؤںکا
الف عین — اکتوبر 17، 2012 3:17 صبح
لیکن وہ سوال تو باقی ہے کہ گاؤں کے پیڑ سے باقی مصرعوں کا کیا تعلق؟
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 17، 2012 5:39 صبح
لیکن وہ سوال تو باقی ہے کہ گاؤں کے پیڑ سے باقی مصرعوں کا کیا تعلق؟
محترم اُستاد
گاوں میں چند ایک چیزیں سمبالک ہوتی ہیں (معذرت کہ اس کی اُردو مجھے معلوم نہیں ) یعنی ہر گاوں کا خاصہ ہوتیں ، یہ نظم انہی کے بارے ہے،
گاوں کے پیڑ جیسی چھاوں کہیں بھی نہیں ہے
گاوں کے کنویں کا جیسا نظارہ بھی کہیں نہیں ہے
گاوں کی ماوں جیسا اثر رسوخ بھی کہیں نہیں ہے (یا شائد صرف میرے گاوں میں ایسا ہوتا ہو) :angel:
نظم اسی کے ارد گرد گھومتی ہے یعنی گاوں کے سمبلز
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 17، 2012 7:54 صبح
ایک تبدیلی اور
میرا گاؤں
پیڑ میرےگاؤں کا
پیڑ میرےگاؤں کا
مول کوئی دے نہ پایا
ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں کا
پیڑ میرےگاؤں کا
پانی بھرتی ناریں ہوں گی
اور کنویں پر ڈاریں ہوں گی
چھپ کہ دیکھیں گے وہ لڑکے
بانکی ناریں، پھوکٹ، کڑکے
پھوٹ لے جو دیکھا جائے
چھوڑ جوتا پاؤں کا
پیڑ میرےگاؤں کا
ابا حقہ پیتے ہوں گے
ماں کی سُن کر جیتے ہوں گے
دیر سے کھانا بھی مل جائے
ہونٹ اپنے سیتے ہوں گے
بوڑھے بچے ہوں جواں
رعب سب پر ماؤں کا
پیڑ میرےگاؤں کا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%BE%DB%8C%D9%86%DA%88%D9%88-%D9%86%D8%B8%D9%85%D8%8C-%D9%BE%DB%8C%DA%91-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%DA%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DA%A9%D8%A7.55415/