وجدان شاہ — ستمبر 11، 2015 6:29 شام
اب تو چڑھتا ہی نہیں اور کسی جام کا رنگ
اِتنا گہرا ہے محبت ترے الزام کا رنگ
اپنے ہر خواب سے ہیں یاس کے سائے لپٹے
ایسے دھندلایا ہے جیون کی ہر اِک شام کا رنگ
زیست پہ جنگ کےمیداں کا گماں ہوتا ہے
اِس قدر لال ہوا گردشِ ایّام کا رنگ
ہم نے جب اپنے دلِ زار کا قصّہ چھیڑا
زرد پڑنے لگا یارو مرے گلفام کا رنگ
وقت کا شُکر بجا لاتا ہے دِل کا پنچھی
جو اُڑاتا ہی چلا جاتا ہے ہر دام کا رنگ
ہے وہی سال برہمن کی بشارت تھی جو
شوخ سا ہونے لگا ہے دلِ ناکام کا رنگ
وقت کی تیز نظر دیکھ رہی ہے وجدانؔ
آپ کے شعر پہ چڑھتا ہوا الہام کا رنگ
ابن رضا — ستمبر 11، 2015 6:35 شام
بہت خوب۔ بہت سی داد
وجدان شاہ — ستمبر 11، 2015 6:46 شام
سید عاطف علی — ستمبر 11، 2015 7:04 شام
بہت اچھی غزل ہے ۔واہ بہت خوب۔وجدا ن شاہ صاحب۔
جیون اور پنچھی جیسے الفاظ غزل میں اختیار کیےگئے لہجے اور آہنگ سے موافق نہیں لگ رہے یہ عموماً گانوں گیتوں کا سا تاثر دیتے ہیں ۔
نیز اسی نطر سے دیکھا جائے تو لال کی بجائے سرخ شاید لفظی طور سے بہتر ہو۔یہ ذاتی رائے ہے ۔
فاروق احمد بھٹی — ستمبر 11، 2015 7:09 شام
زیست پہ جنگ کےمیداں کا گماں ہوتا ہے
اِس قدر لال ہوا گردشِ ایّام کا رنگ
بہت خوب کیا کہنے خوبصورت ہے غزل یہ شعر مجھے زیادہ پسند آیا ۔
لال سے متعلق شاہ جی کی بات صائب معلوم ہوتی ہے۔۔باقی شعر آپ کا ہے۔
وجدان شاہ — ستمبر 11، 2015 8:06 شام
بہت اچھی غزل ہے ۔واہ بہت خوب۔وجدا ن شاہ صاحب۔
جیون اور پنچھی جیسے الفاظ غزل میں اختیار کیےگئے لہجے اور آہنگ سے موافق نہیں لگ رہے یہ عموماً گانوں گیتوں کا سا تاثر دیتے ہیں ۔
نیز اسی نطر سے دیکھا جائے تو لال کی بجائے سرخ شاید لفظی طور سے بہتر ہو۔یہ ذاتی رائے ہے ۔
بہت نوازش سرکار۔۔۔اساتذہ کی طرف سے مکمل اصلاح کے بعد نظر ثانی کرونگا
الف عین — ستمبر 12، 2015 10:21 صبح
اچھی غزل ہے، عاطف سے میں مکمل اتفاق رکھتا ہوں، بطور خاص جیون تو بالی ووڈ کی یاد دلاتا ہے۔
صرف مطلع کو دیکھ لیں، جام کا رنگ چڑھنا محاورے اور حقیقت کے خلاف ہے
محمد تابش صدیقی — ستمبر 12، 2015 10:42 صبح
بہت خوب، عمدہ
اساتذہ کی رائے اوپر آ چکی ہے۔ ایک نالائق طالب علم کی رائے
ایسے دھندلایا ہے جیون کی ہر اِک شام کا رنگ
میری رائے
ایسے دھندلایا ہے زیست کی ہر شام کا رنگ
سید عاطف علی — ستمبر 12، 2015 11:49 صبح
بہت خوب، عمدہ
اساتذہ کی رائے اوپر آ چکی ہے۔ ایک نالائق طالب علم کی رائے
ایسے دھندلایا ہے جیون کی ہر اِک شام کا رنگ
میری رائے
ایسے دھندلایا ہے زیست کی ہر شام کا رنگ
صدیقی صاحب ۔لیکن اس طرح مصرع وزن کی حدود میں نہیں رہتا۔
البتہ اس طرح کہہ سکتے ہیں ۔
اتنادھندلاگیا اس زیست کی ہر شام کا رنگ
تاہم صاحب شعر کا اختیا رہے۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 12، 2015 1:15 شام
صدیقی صاحب ۔لیکن اس طرح مصرع وزن کی حدود میں نہیں رہتا۔
جی درست فرمایا۔ اسی لیے والد محترم نے میری پہلی اور آخری کاوش پر نصیحت کی تھی کہ بیٹا کچھ لوگ ادب تخلیق کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور باقی پڑھنے کے لیے۔ تم اپنی توجہ آخر الذکر پر رکھو۔

وجدان شاہ — ستمبر 12، 2015 1:19 شام
اچھی غزل ہے، عاطف سے میں مکمل اتفاق رکھتا ہوں، بطور خاص جیون تو بالی ووڈ کی یاد دلاتا ہے۔
صرف مطلع کو دیکھ لیں، جام کا رنگ چڑھنا محاورے اور حقیقت کے خلاف ہے
جی بہتر۔۔۔۔صحیح سمت میں رہنمائی کا شکریہ
وجدان شاہ — ستمبر 12، 2015 1:23 شام
تمام مہربانوں کا ازحد شکریہ۔۔۔انشاءاللہ ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گا