ایک گیت اصلاح کا طالب ہے

اظہرالحق — مارچ 11، 2006 5:07 صبح
مسافر ہوں یارو ، سفر پہ چلا ہوں
ساتھی بہت ہیں ، مگر اکیلا ہوں
بستیاں ہیں کتنی میرے راستوں میں
مگر کوئی بھی میری منزل نہیں ہے
طوفاں بہت ہیں ، جیون کے ساگر میں
کسی موج کا کوئی بھی ساحل نہیں ہے
کھویا ہے میں نے ، ہر ہم سفر کو
یونہی چلتے چلتے جو کسی سے ملا ہوں
میرے رات اور دن کا نہیں کوئی مطلب
میرے اس سفر کا نہیں ہے ٹھکانہ
گرد یہ کہتی ہے اڑ کہ راستوں کی
چلتے رہنا ہے مجھے چلتے رہنا
کبھی موڑ مڑتا ہوں ، خوشی کی طرف تو
کبھی آنسوؤں کے پانی سے دھلا ہوں
مسافر ہوں یارو سفر پہ چلا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
دائم — اکتوبر 23، 2018 3:58 صبح
بسم اللہ!
آپ کا یہ گیت عروضی اعتبار سے ابھی بہت کمزور ہے، بحر ہزج کے مختلف زحافات بغیر کسی قاعدے کلیے کے یہاں پیوست کر دئیے ہیں، کبھی فعولن فعولن، کبھی فعلن فعولن، کبھی فعولن فعلن ........ الخ،
معنوی اعتبار سے گیت گیت نہیں ہے، مضامین رونے دھونے کی غمازی کر رہے ہیں، عُلُوّ چاہیے یہاں، اور مصارع بھی ازروئے بندش نہایت سست روی کا شکار ہیں ، مزید بہتری کا متقاضی ہے
الف عین — اکتوبر 23، 2018 5:34 صبح
فلمی گانے اصلاح سے ماورا ہوتے ہیں
دائم — اکتوبر 23، 2018 6:17 صبح
فلمی گانے اصلاح سے ماورا ہوتے ہیں
جی ہاں بالکل !
اس کی کثیر امثلہ ملتی ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%AF%DB%8C%D8%AA-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%D8%A7-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8-%DB%81%DB%92.1500/