مرے آبلوں کا شمار کیسا حساب کیا
سو مری رہینِ نیاز راہگزر رہی
سو مری رہینِ نیاز راہگزر رہی
یہاں جائیں۔ اور بائیں جانب اوپر کی طرف "نئی لڑی ارسال کریں" پر کلک کریں۔اور اپنا تعارف لکھ کر "نئی لڑی بنائیں" پر کلک کر دیں
جناب عباد اللہ صاحب! محفل میں خوش آمدید! آپکو شاعری کا شوق ہے یہ بہت اچھی بات ہے۔ باذوق ہونا بھی بڑی نعمت ہے۔ اس شعر کے مصرعے وزن میں تو ہیں۔ ان کا وزن متفاعلن متفاعلن متفاعلن بن رہا ہے لیکن اس شعر کا مطلب کوئی نہیں۔ دوسرا مصرع مہمل ہے یعنی معنی سے خالی۔ اگر آپ اس میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ
کسی جگہ پڑھا کہ اگر آپ کی نیت شعر کہنے کی ہو اور کلامِ موزوں آپ کی زبان پر جاری ہو تو تب شعر ہوتا ہے وگرنہ نہیں ۔۔۔۔آگے چل کے مصنف فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم گو کہ کلامِ موزوں تو ھے لیکن چونکہ رب تعالی کی نیت شعر کہنے کی نہیں تھی سو قرآن شعر کی کتاب نہیں۔۔۔۔(حوالہ دینے سے قاصر ہوں میری یاداشت کے باب میں دعا فرمائیے) اگر یہ تعریف درست ھے تو صاحب پھر میں نے شعر کہا ہی نہیں ھے ۔۔۔اور نہ ہی میں شعر کے اسرار و رموز سے واقف ہوں البتہ تک بندیوں پر اصلاح ضرور لیا کروں گا۔۔
لہجہ بہت خوب لگا۔ شعر سے وہ کام ہوجاتا ہے جو بڑی تقریروں سے نہیں ہوتا۔ آپ ضرور لکھنا جاری رکھیں، اور اگر داد اور واہ واہی نہ ملے تو ہرگز دلبرداشتہ نہ ہوں۔ اصلاح کو ٹھنڈے دل سے قبول کریں۔
ظہیر بھائی ان کے تحریر کردہ مصرع کا مطلب" سو راہگزر میری رہینِ نیاز رہی" ٹھیک بن رہا ہے۔
سعیدالرحمن سعید بھائی آپ نے اچھا مصرع لگایا ہے عباداللہ صاحب کے مصرع پر ۔ لیکن عباد اللہ صاحب اپنی شعری کاوش میں کچھ اور کہنا چاہ رہے ہیں ۔