اے رب کے پیاروۙ! (نظم)

محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 25، 2013 8:32 شام
تمام اولادِ آدم کی ہدایت کی کہانی ہے
یہ رب کی اپنے بندوں سے محبت کی کہانی ہے
بناتا ہے وہ جو بھی، اس پہ بے حد ناز کرتا ہے
وہ اس کی ہر برائی کونظر انداز کرتا ہے
نظر آئے کوئی خامی تو اس کو دور کرتا ہے
توجہ اس پہ دے کر پیار بھی بھرپور کرتا ہے
خدا ہم سب کا خالق ہے ، وہ ہم سے پیار کرتا ہے
اٹھا کر دیکھ لو قرآں وہ خود اقرار کرتا ہے
اے رب کے پیاروۙ رب قرآن میں کرتا ہے خود شکوہ
کہ بندے مجھ سے غافل ہیں ، محبت ہے یہ یک طرفہ
محبت ہم کو سکھلاتا ہے خود محبوب ہم سب کا
نماز و روزہ و حج و زکاۃ احسان ہے رب کا
نمازیں ہیں ذریعہ اپنے رب سے ہم کلامی کا
تکلم ہی تو پہلا زینہ ہے دل کی غلامی کا
زکاۃ و عشر و قربانی ، نہیں ہیں یہ سزا یارو!
کسی عاشق سے پوچھو خرچ کرنے کا مزہ یارو!
ہے دن بھر روزہ رکھ کر بھی تراویح اتنی کیوں پُرجوش
محبت میں کسے ہوتا ہے کھانے سونے کا کچھ ہوش
فقیرانہ لباسوں میں چمٹنا ملتزم سے یہ
دِوانوں میں ہی آتا ہے نظر منظر قسم سے یہ
اے پیارے رب! تو اپنے پیار سے ہر دل کو گرمادے
مرے ان سرسری جملوں سے الفت عام فرمادے
محمد علم اللہ — اکتوبر 25، 2013 8:37 شام
الہم زد فزد
سید عاطف علی — اکتوبر 25، 2013 8:39 شام
سرسری صاحب کچھ فرو گزاشتیں ہیں ۔ذرا کتابت پر نظر ثانی کر لیجئے۔
اے رب کے پیاروۙ! رب کرتا ہے خود شکوہ
کہ بندے مجھ سے غافل ہیں ، محبت ہے یہ یکطرفہ
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 25، 2013 8:44 شام
سرسری صاحب کچھ فرو گزاشتیں ہیں ۔ذرا کتابت پر نظر ثانی کر لیجئے۔
اے رب کے پیاروۙ! رب کرتا ہے خود شکوہ
کہ بندے مجھ سے غافل ہیں ، محبت ہے یہ یکطرفہ
جی بھائی ”قرآن میں“ چھوٹ گیا ہے، تدوین کیے دیتا ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 25، 2013 8:46 شام
توجہ فرمانے اور دعا دینے کا شکریہ۔
جزاکم اللہ خیرا۔
سید عاطف علی — اکتوبر 25، 2013 9:18 شام
جی بھائی ”قرآن میں“ چھوٹ گیا ہے، تدوین کیے دیتا ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
ابھی بھی کسر ہے ۔ بھائی جی۔
یہ رب کی اپنے بندوں سے محبت ۔کی۔کہانی ہے
سید عاطف علی — اکتوبر 25، 2013 9:21 شام
بناتا ہے جو جس شے کو وہ اس پر ناز کرتا ہے
کسی شے کو بنائے جو ، وہ اس پر ناز کرتا ہے
جس شے میں س ش کا ساتھساتھ استعمال بھی ذرا ثقالت لا رہا ہے۔دوبارہ ترتیب دے لیں ۔
الف عین — اکتوبر 26، 2013 5:54 صبح
بناتا ہے جو جس شے کو وہ اس پر ناز کرتا ہے
وہ ہر اک عیب کو اس کے نظر انداز کرتا ہے
کو یوں کر دیں
بناتا ہے وہ جو بھی، اس پہ بے حد ناز کرتا ہے
وہ اس کی ہر برائی کونظر انداز کرتا ہے
بہتری کے لئے ایک تجویز
یہ قرآنی علامت ’لا‘ کا کیا محل ہے عنوان اور ایک مصرع میں؟
شیرازخان — اکتوبر 26، 2013 5:34 شام
ہے دن بھر روزہ رکھ کر بھی تراویح اتنی کیوں پُرجوش
محبت میں کسے ہوتا ہے کھانے سونے کا کچھ ہوش
سبحان اللہ ۔۔۔۔۔!!!!
سید ذیشان — اکتوبر 26، 2013 5:50 شام
بہت خوب!
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 26، 2013 8:06 شام
بہتری کے لئے ایک تجویز
یہ قرآنی علامت ’لا‘ کا کیا محل ہے عنوان اور ایک مصرع میں؟
استاد جی! یہ تجویز میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی، وضاحت فرمادیں تو نوازش ہوگی۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 26، 2013 8:07 شام
ہے دن بھر روزہ رکھ کر بھی تراویح اتنی کیوں پُرجوش
محبت میں کسے ہوتا ہے کھانے سونے کا کچھ ہوش
سبحان اللہ ۔۔۔ ۔۔!!!!
بھائی پسند فرمانے کا بہت شکریہ۔
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 26، 2013 8:07 شام
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 26، 2013 8:08 شام
سرسری صاحب کچھ فرو گزاشتیں ہیں ۔ذرا کتابت پر نظر ثانی کر لیجئے۔
اے رب کے پیاروۙ! رب کرتا ہے خود شکوہ
کہ بندے مجھ سے غافل ہیں ، محبت ہے یہ یکطرفہ
استاد جی کی تجویز کے مطابق تدوین کردی ہے۔ جزاکم اللہ خیرا۔
سید عاطف علی — اکتوبر 26، 2013 8:10 شام
استاد جی! یہ تجویز میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی، وضاحت فرمادیں تو نوازش ہوگی۔
الف عین صاحب نے مندرجہ ذیل علامت ۔لا۔ کتابت کی جانب اشارہ کیا ہے ۔جو پیارو اور رب کے درمیان ہے ۔اور غیر ضروری ہے۔
اے رب کے پیاروۙ ! رب قرآن میں کرتا ہے خود شکوہ
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 26، 2013 8:13 شام
الف عین صاحب نے مندرجہ ذیل علامت ۔لا۔ کتابت کی جانب اشارہ کیا ہے ۔جو پیارو اور رب کے درمیان ہے ۔اور غیر ضروری ہے۔
اے رب کے پیاروۙ ! رب قرآن میں کرتا ہے خود شکوہ
میں اپنے رسالے میں بھی اس علامت کو منادی کے لیے استعمال کرتا ہوں، تاہم مصرع میں تدوین کا اختیار تھا تو وہاں سے یہ علامت حذف کردی ہے، عنوان میں اب اختیار نہیں رہا۔ البتہ علامت ”!“ اور قرآنی علامت ”لا“ کا جوڑ اب بھی سمجھ میں نہیں آیا۔
سید عاطف علی — اکتوبر 26، 2013 8:20 شام
میں اپنے رسالے میں بھی اس علامت کو منادی کے لیے استعمال کرتا ہوں، تاہم مصرع میں تدوین کا اختیار تھا تو وہاں سے یہ علامت حذف کردی ہے، عنوان میں اب اختیار نہیں رہا۔ البتہ علامت ”!“ اور قرآنی علامت ”لا“ کا جوڑ اب بھی سمجھ میں نہیں آیا۔
منادی یا تخاطب کے لیے ایکس کلے میشن مارک ۔۔!۔۔میں تو خیر تو کوئی حرج نہیں تھا ۔البتّہ یہ ۔لا ۔ واقعی عجیب لگ رہا ہے۔!!!۔ جو ابھی تک موجود ہے۔o_O
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 26، 2013 8:22 شام
منادی یا تخاطب کے لیے ایکس کلے میشن مارک ۔۔!۔۔میں تو خیر تو کوئی حرج نہیں تھا ۔البتّہ یہ ۔لا ۔ واقعی عجیب لگ رہا ہے۔!!!۔ جو ابھی تک موجود ہے۔o_O
کہیں ایسا تو نہیں کہ فونٹ کی تبدیلی کے باعث جو مجھے علامتِ استعجابیہ(!) نظر آرہا ہے وہ آپ حضرات کو ”لا“ نظر آرہا ہے۔
الف عین — اکتوبر 27، 2013 7:01 صبح
جمیل نستعلیق میں اب بھی ’لا‘ ہی نظر آ رہا ہے، استمراری نشان ہٹا دیا گیا ہے، جب کہ استمراری نشان کی ضرورت تھی، اور ’لا‘ کی نہیں
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 27، 2013 7:08 صبح
جمیل نستعلیق میں اب بھی ’لا‘ ہی نظر آ رہا ہے، استمراری نشان ہٹا دیا گیا ہے، جب کہ استمراری نشان کی ضرورت تھی، اور ’لا‘ کی نہیں
استاد جی یہ فونٹ کا ہی کوئی مسئلہ لگ رہا ہے، اب تو تدوین کا اختیار ختم ہوگیا ہے۔ البتہ عنوان میں مجھے اب بھی صرف استمراری نشان نظر آرہا ہے یعنی الٹا آئی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D8%B1%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DB%99-%D9%86%D8%B8%D9%85.68727/