اے صنم، تیرا بدلنا دیکھا ۔ برائے اصلاح، تنقید، تبصرہ

سارہ بشارت گیلانی — جون 15، 2013 11:05 شام
آداب!
میری اپنے تخلص کے ساتھ لکھی گئی پہلی غزل
مزمل شیخ بسمل صاحب کی بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے لئے اس تخلص کا انتخاب کیا۔
I'm very grateful to you ji :)
اے صنم، تیرا بدلنا دیکھا​
آفریں، دل کا سنبھلنا دیکھا​
ہوا دن ڈوبتے سورج کی نذر​
رات پھر چاند کا جلنا دیکھا​
ایک اُس پیکرِبرفاب کا غم​
اور پھر اپنا پگھلنا دیکھا​
مجھے سرگشتہ و حیراں کر کے​
وہ ترے دل کا بہلنا دیکھا​
آئینہ تجھ کو بنا کر اپنا​
اک نئے روپ میں ڈھلنا دیکھا​
بیناؔ ، بے نور سی آنکھوں میں کبھی​
شوخ خوابوں کا مچلنا دیکھا؟​
اوشو — جون 15، 2013 11:57 شام
بہت خوب سارہ جی
محمد اظہر نذیر — جون 16، 2013 5:18 صبح
آداب!
میری اپنے تخلص کے ساتھ لکھی گئی پہلی غزل
مزمل شیخ بسمل صاحب کی بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے لئے اس تخلص کا انتخاب کیا۔
I'm very grateful to you ji :)
اے صنم، تیرا بدلنا دیکھا​
آفریں، دل کا سنبھلنا دیکھا​
ہوا دن ڈوبتے سورج کی نذر​
رات پھر چاند کا جلنا دیکھا​
ایک اُس پیکرِبرفاب کا غم​
اور پھر اپنا پگھلنا دیکھا​
مجھے سرگشتہ و حیراں کر کے​
وہ ترے دل کا بہلنا دیکھا​
آئینہ تجھ کو بنا کر اپنا​
اک نئے روپ میں ڈھلنا دیکھا​
بیناؔ ، بے نور سی آنکھوں میں کبھی​
شوخ خوابوں کا مچلنا دیکھا؟​

خوب ہے اور تخلص مبارک ہو سارہ
سارہ بشارت گیلانی — جون 16، 2013 6:16 صبح
خوب ہے اور تخلص مبارک ہو سارہ
بہت شکریہ جی!
شوکت پرویز — جون 17، 2013 7:39 صبح
اسقام کا خوبی میں بدلنا دیکھے
الفاظ کا اشعار میں ڈھلنا دیکھے
مانے نہ کہ اِصلاحِ سُخن میں ہے غزل
بینا کا سخن میں جو سنبھلنا دیکھے
(y)
سارہ بشارت گیلانی — جون 17، 2013 8:14 صبح
اسقام کا خوبی میں بدلنا دیکھے
الفاظ کا اشعار میں ڈھلنا دیکھے
مانے نہ کہ اِصلاحِ سُخن میں ہے غزل
بینا کا سخن میں جو سنبھلنا دیکھے
(y)

بہت بہت شکریہ جناب! :)
افسوس کہ تخلص یہاں پہلی اور آخری مرتبہ استعمال ہو رہا ہے.. کچھ وجوہات کی بنا پر اس کو آگے استعمال نہیں کر پاوں گی..
شوکت پرویز — جون 17، 2013 8:42 صبح
بہت بہت شکریہ جناب! :)
افسوس کہ تخلص یہاں پہلی اور آخری مرتبہ استعمال ہو رہا ہے.. کچھ وجوہات کی بنا پر اس کو آگے استعمال نہیں کر پاوں گی..
کوئی بات نہیں جی!
تخلص کی خاطر جہاں اور بھی ہیں
عیاں کچھ ہوئے ہیں، نہاں اور بھی ہیں :)
مزمل شیخ بسمل — جون 17، 2013 6:56 شام
اچھا لکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔
اور ہمارا مشورہ تھا آپ نے اپنا لیا تو ہمارے لئے باعثِ مسرت ہوا۔ :)
عمر سیف — جون 17، 2013 7:26 شام
آئینہ تجھ کو بنا کر اپنا
اک نئے روپ میں ڈھلنا دیکھا
خوب
الف عین — جون 18، 2013 10:14 صبح
بہت خوب سارا، بینا بطور تخلص مجھے بھی پسند نہیں آیا۔ اگر مکمل نام نہ چاہو تو ’گیلانی‘ اڑا دو، محض سارہ بشارت لکھا کرو۔ اب غزل کی بات۔ صرف ایک سقم چھوڑ کر دوسرا نظر نہیں آیا پہلی نظر میں تو۔
ہوا دن ڈوبتے سورج کی نذر
رات پھر چاند کا جلنا دیکھا
’نذر‘ کا تلفظ غلط ہے، ذال پر جزم درست ہے، زبر نہیں جیسا تم نے باندھا ہے۔اس کا کچھ اور سوچو۔​
ہاں مقطع میں بینا کی جگہ سارہ بھی کر سکتی ہو، جب آئندہ اس تخلص کو استعمال نہیں کرنا ہے تو یہاں بھی کیا ضروری ہے؟​
الف عین — جون 21، 2013 4:49 شام
یہاں اپنی ایک غلطی کا اقبال کرنے آیا ہوں۔ میرے اوپر والے پیغام پر عزیزی شوکت پرویز نے یہ ذاتی مکالمہ ارسال کیا
"فاعلن فاعلتن مفعولن میں آخری رکن مفعولان بھی تو آ سکتا ہے نا انکل؛
اس لحاظ سے "ہوا دن ڈوبتے سورج کی نذر" نذر کے صحیح تلفظ کے ساتھ بھی اس بحر پر پورا اترتا ہے نا۔۔۔ ۔۔۔ ۔ :)‘‘
اور میں نے جواب دیا
’’مزید اس بات کا ثبوت کہ مجھے استاد بنا دیا گیا ہے، ہوں نہیں، اور نہ خود کو اس قابل سمجھتا ہوں۔ وہ تو بس مجبور کر دیا جاتا ہوں، یہاں تک کہ لائبریری کے کام میں خلل پڑتا ہے، ابھی تو آٹھ دن سے اس کام کو چھو بھی نہیں سکا، سفر، ہندوستان واپسی کے بعد، صفائی، سامان کا رکھنا اور پینڈنگ کاموں سے ہی فرصت نہیں ملی ہے۔
شکریہ بیٹا، مگر میں اسے پسند کرتا کہ تم محفل میں ہی یہ پوسٹ کرتے، تاکہ سب پر میری مشکوک استادی تو عیاں ہو جاتی!!!
میں نے یہ غور نہیں کیا تھا کہ ’کی‘ کو مکمل بھی تقطیع کی جا سکتی ہے‘‘
مزمل شیخ بسمل — جون 21، 2013 5:28 شام
یہاں اپنی ایک غلطی کا اقبال کرنے آیا ہوں۔ میرے اوپر والے پیغام پر عزیزی شوکت پرویز نے یہ ذاتی مکالمہ ارسال کیا
"فاعلن فاعلتن مفعولن میں آخری رکن مفعولان بھی تو آ سکتا ہے نا انکل؛
اس لحاظ سے "ہوا دن ڈوبتے سورج کی نذر" نذر کے صحیح تلفظ کے ساتھ بھی اس بحر پر پورا اترتا ہے نا۔۔۔ ۔۔۔ ۔ :)‘‘
اور میں نے جواب دیا
’’مزید اس بات کا ثبوت کہ مجھے استاد بنا دیا گیا ہے، ہوں نہیں، اور نہ خود کو اس قابل سمجھتا ہوں۔ وہ تو بس مجبور کر دیا جاتا ہوں، یہاں تک کہ لائبریری کے کام میں خلل پڑتا ہے، ابھی تو آٹھ دن سے اس کام کو چھو بھی نہیں سکا، سفر، ہندوستان واپسی کے بعد، صفائی، سامان کا رکھنا اور پینڈنگ کاموں سے ہی فرصت نہیں ملی ہے۔
شکریہ بیٹا، مگر میں اسے پسند کرتا کہ تم محفل میں ہی یہ پوسٹ کرتے، تاکہ سب پر میری مشکوک استادی تو عیاں ہو جاتی!!!
میں نے یہ غور نہیں کیا تھا کہ ’کی‘ کو مکمل بھی تقطیع کی جا سکتی ہے‘‘

استاد محترم دنیا میں کوئی استاد کامل نہیں، نہ کوئی شاگرد مکمل طور پر جاہل ہے۔
استاد اس لئے استاد ہے کہ وہ باقیوں سے بہتر تجربہ رکھتا ہے۔ اور بہتر علم رکھتا ہے۔
غلطی پھر بھی سرزد ہو جاتی ہے، اور اختلاف رائے کا ہر کوئی مکمل حق رکھتا ہے۔ :)
اسی طرح لگے ہاتھوں ایک بات عرض کردوں، صاحبِ بحر الفصاحت فاضل مصنف نجم الغنی رامپوری اپنی کتاب بحر الفصاحت (جو عروض پر اس پچھلی صدی میں لکھی گئی کتابوں میں سب سے اونچا درجہ رکھتی) میں ایک جگہ میرؔ کے شعر کے پہلے مصرعے کی تقطیع کیسے کرتے ہیں
شعر:
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
جی کا جانا ٹھہر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا
تقطیع:
فعلُ :::: عشق
فعولن :::: ہمارے
فعلُ :::: خال
فعولن :::: پڑا ہے
فعلُ :::: خواب
فعولن :::: گئی آ
فعلُ :::: رام
فعَل :::: گیا
حالانکہ لفظ خیال میں جو ی ہے اس کا تلفظ بالاتفاق فعول کے برابر ہے۔ یعنی ی شمار ہوتی ہے۔ یہ یائے مخلوط التلفظ ہرگز نہیں۔ مگر انہوں نے اس کی تقطیع اسی طرح کردی ہے۔ :)
اس پر لطیفہ یہ کہ سید قدرت نقوی جو خود ایک عروضی ہیں، صاحبِ بحر الفصاحت کے اس طریقے پرحاشیہ لکھتے ہیں کہ خیال کا تلفظ تو ی کے ساتھ ہی شمار ہوتا ہے۔ یہاں یہ فعلن کے وزن پر آیا ہے۔ اور فعلن بسکون عین اور بکسر عین دونوں طرح آسکتا ہے۔ :) (اور ظاہر ہے کہ قدرت نقوی صاحب بھی غلطی کر گئے ہیں)
طبع سوم 2012 تک میں یہ غلطی موجود ہے یعنی 86 برس گزرنے کے بعد بھی اس غلطی کا ازالہ نہ ہو سکا۔ :) اب کیا کہئے گا؟
تو مقصود یہ ہے کہ غلطی ہونے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا۔ اس کی قدر کم نہیں ہو جاتی۔ جس طرح نجم الغنی رامپوری کی اس غلطی سے انکی قدر و منزلت کم نہیں ہوئی اس طرح استاد محترم کی قدر و منزلت ہمارے دل میں کبھی کم نہیں ہوتی۔ اعتراضات تو آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔:)
شوکت پرویز — جون 21، 2013 7:27 شام
یہاں اپنی ایک غلطی کا اقبال کرنے آیا ہوں۔ میرے اوپر والے پیغام پر عزیزی شوکت پرویز نے یہ ذاتی مکالمہ ارسال کیا
"فاعلن فاعلتن مفعولن میں آخری رکن مفعولان بھی تو آ سکتا ہے نا انکل؛
اس لحاظ سے "ہوا دن ڈوبتے سورج کی نذر" نذر کے صحیح تلفظ کے ساتھ بھی اس بحر پر پورا اترتا ہے نا۔۔۔ ۔۔۔ ۔ :)‘‘
اور میں نے جواب دیا
’’مزید اس بات کا ثبوت کہ مجھے استاد بنا دیا گیا ہے، ہوں نہیں، اور نہ خود کو اس قابل سمجھتا ہوں۔ وہ تو بس مجبور کر دیا جاتا ہوں، یہاں تک کہ لائبریری کے کام میں خلل پڑتا ہے، ابھی تو آٹھ دن سے اس کام کو چھو بھی نہیں سکا، سفر، ہندوستان واپسی کے بعد، صفائی، سامان کا رکھنا اور پینڈنگ کاموں سے ہی فرصت نہیں ملی ہے۔
شکریہ بیٹا، مگر میں اسے پسند کرتا کہ تم محفل میں ہی یہ پوسٹ کرتے، تاکہ سب پر میری مشکوک استادی تو عیاں ہو جاتی!!!
میں نے یہ غور نہیں کیا تھا کہ ’کی‘ کو مکمل بھی تقطیع کی جا سکتی ہے‘‘

اور پھر میں نے یہ جواب دیا تھا:
میں نے خود اوزان کے بارے میں اصلاحِ سخن کے دھاگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اور یہ تو محفل میں کم آنے والے بھی بتا دیں گے کہ اصلاحِ سخن میں سب سے زیادہ اور مؤثر اصلاح آپ ہی کی ہیں۔ :)
تو انکل آپ استادی سے کترائیں تو آپ کو بجا ہے لیکن محفلین کے لئے تو آپ یقیناً استاد ہیں​
(y)
۔۔۔۔
تو انکل، ہم تو آپ کو اپنا استاد مانتے ہیں، اگر آپ خود کو ہمارا استاد نہیں مانتے تو یہ ہماری طالبعلمی کی بد قسمتی ہے :(
محمد اسامہ سَرسَری — جون 21، 2013 7:55 شام
بہت عمدہ غزل ہے۔
عمراعظم — جون 21، 2013 7:59 شام
مجھے سرگشتہ و حیراں کر کے
وہ ترے دل کا بہلنا دیکھا
واہ ! بہت خوبصورت کلام۔
سید اِجلاؔل حسین — جون 22، 2013 11:03 صبح
"اے صنم، تیرا بدلنا دیکھا"
واہ! جی چاہ رہا ہے یہ مصرع چرا لوں!
شاہد شاہنواز — جولائی 18، 2013 12:33 شام
بلا شبہ ہر جاننے والے سے اوپر ایک اور جاننے والا ہے۔۔
اسی طرح ہر سیکھنے والے سے آگے سیکھنے والے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ کون کس درجے پر ہے ۔۔۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔۔۔
رئیس خان — مئی 10، 2018 8:27 شام
یہاں اپنی ایک غلطی کا اقبال کرنے آیا ہوں۔ میرے اوپر والے پیغام پر عزیزی شوکت پرویز نے یہ ذاتی مکالمہ ارسال کیا
"فاعلن فاعلتن مفعولن میں آخری رکن مفعولان بھی تو آ سکتا ہے نا انکل؛
اس لحاظ سے "ہوا دن ڈوبتے سورج کی نذر" نذر کے صحیح تلفظ کے ساتھ بھی اس بحر پر پورا اترتا ہے نا۔۔۔ ۔۔۔ ۔ :)‘‘
اور میں نے جواب دیا
’’مزید اس بات کا ثبوت کہ مجھے استاد بنا دیا گیا ہے، ہوں نہیں، اور نہ خود کو اس قابل سمجھتا ہوں۔ وہ تو بس مجبور کر دیا جاتا ہوں، یہاں تک کہ لائبریری کے کام میں خلل پڑتا ہے، ابھی تو آٹھ دن سے اس کام کو چھو بھی نہیں سکا، سفر، ہندوستان واپسی کے بعد، صفائی، سامان کا رکھنا اور پینڈنگ کاموں سے ہی فرصت نہیں ملی ہے۔
شکریہ بیٹا، مگر میں اسے پسند کرتا کہ تم محفل میں ہی یہ پوسٹ کرتے، تاکہ سب پر میری مشکوک استادی تو عیاں ہو جاتی!!!
میں نے یہ غور نہیں کیا تھا کہ ’کی‘ کو مکمل بھی تقطیع کی جا سکتی ہے‘‘
معذرت کے ساتھ .اس وزن کے ارکان ہیں
فا علاتن فعلاتن فعلن
بحر رمل

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D8%B5%D9%86%D9%85%D8%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%A8%D8%AF%D9%84%D9%86%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%8C-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.64920/