اے عشقِ نامراد وفائیں کدھر گئیں - فرحان محمد خان

فرحان محمد خان — نومبر 21، 2017 6:49 شام
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
اے عشقِ نامراد وفائیں کدھر گئیں
ملتی تھیں جو تمہیں وہ دعائیں کدھر گئیں
ایماں بھری جو رات کو آتی تھیں یا خدا
مسجد سے وہ اذاں کی صدائیں کدھر گئیں
ہر لمحہ جن سے بے خود و سرشار ہم رہے
میخانے کی پرانی ٖہوائیں کدھر گئیں
ہر جام پہ جو کرتے رہے سجدہ شکر کا
ساقی وہ لوگ ویسی ادائیں کدھر گئیں
پینا تھا ایک جام کہ واعظ نے یہ کہا
ساقی مری تمام خطائیں کدھر گئیں
یارو کرے سوال کوئی کربلا سے یہ
بنتِ نبی کے سر کی ردائیں کدھر گئیں
فرحان محمد خان — نومبر 21، 2017 6:49 شام
سر الف عین
خالد محمود چوہدری — نومبر 22، 2017 3:34 صبح
کہاں جانی ہیں ادھر ہی کہیں ہوں گی
الف عین — نومبر 22، 2017 10:38 صبح
درست ہے غزل ۔ مسجد سے صرف رات کو ہی اذانوں کی آواز آتی تھی؟ کیا تہجد کی اذان ہوتی تھی؟
فرحان محمد خان — نومبر 22، 2017 11:33 صبح
درست ہے غزل ۔ مسجد سے صرف رات کو ہی اذانوں کی آواز آتی تھی؟ کیا تہجد کی اذان ہوتی تھی؟
شاید مفہوم واضع نہیں کر سکا دوبارا کوشش کرو گا اس پہ
سید ذیشان حیدر — نومبر 23، 2017 5:54 صبح
اچھی غزل ہے۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 23، 2017 6:23 صبح
کہاں جانی ہیں ادھر ہی کہیں ہوں گی
وفاؤں کے بجائے صرف وفا پر توجہ رکھی ہوتی تو گم نہ ہوتی۔
ربیع م — نومبر 23، 2017 8:14 صبح
فرحان محمد خان — نومبر 23، 2017 9:47 صبح
شکریہ بھائی :)
فرحان محمد خان — نومبر 23، 2017 9:49 صبح
وفاؤں کے بجائے صرف وفا پر توجہ رکھی ہوتی تو گم نہ ہوتی۔
عہد و پیمان زیادہ تھے :p

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D8%B9%D8%B4%D9%82%D9%90-%D9%86%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF-%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%A7%D9%86-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D8%A7%D9%86.99182/