اے ماں! تڑپ رہا ہوں

توصیف یوسف مغل — مئی 4، 2014 8:17 صبح
ﻏﺰﻝ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺍﺻﻼﺡ ...........
(ماں )
اے ماں! تڑپ رہا ہوں
مجھے گود میں اٹھا لے
میرے پاس تو ہے سب کچھ
خود ہاتھوں سے کھلا دے
دنیا کی کشمکش میں
میں کب سے تشنہ لب ہوں
مجھے پھر سے زندہ کر دے
خود ہاتھوں سے پلا کے
گرتا، سنبھلتا، پھرتا
کھاتا ہوں ٹھوکریں میں
میرے سارے زخم بھر کے
اپنے ہاتھوں سے شفا دے
میں کھبی جو رویا کرتا
مجھے دیکھ کر خفا تھی
وہ جو قطرہ تھا سمندر
زرہ پھر سے اک بہا دے
تیرا چہرہ دیکھنے سے
ہوئی بندگی خدا کی
تو جو نظر بھر کے دیکھے
تو خدا سے بھی ملا دے
توصیف کیوں خفا ہو
جنت کی آرزو میں
ارے ماں کے قدم چومو
تجھے جنتی بنا دیں
الف عین — مئی 11، 2014 8:09 صبح
یہ غزل تو نہیں!! اسے نظم کہا جا سکتا ہے جس میں قوافی اور ردیف کا التزام رکھا گیا ہے۔
بحر البتہ۔۔ کچھ مصرع مفعول فاعلاتن دو بار، ہیں تو کچھ متفاعلن فعولن، دو بار میں۔ مزمل شیخ بسمل
توصیف یوسف مغل — اکتوبر 14، 2014 7:09 صبح
یہ غزل تو نہیں!! اسے نظم کہا جا سکتا ہے جس میں قوافی اور ردیف کا التزام رکھا گیا ہے۔
بحر البتہ۔۔ کچھ مصرع مفعول فاعلاتن دو بار، ہیں تو کچھ متفاعلن فعولن، دو بار میں۔
مزمل شیخ بسمل
کیا نظم کے لیے بھی بحر ضروری ہے؟
الف عین — اکتوبر 14، 2014 8:15 صبح
نثری نظم کے لئے نہیں، لیکن آزاد نظم کے لئے ہاں۔ اس کے افاعیل یا اردکان کی تعداد مقرر نہیں ہوتی۔
توصیف یوسف مغل — اکتوبر 14، 2014 8:18 صبح
نثری نظم کے لئے نہیں، لیکن آزاد نظم کے لئے ہاں۔ اس کے افاعیل یا اردکان کی تعداد مقرر نہیں ہوتی۔
بہت شکریہ اور میں مزید گوگل سے نثری نظم اور آزاد نظم کے بارے میں پڑھ لیتا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%AA%DA%91%D9%BE-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.74039/