بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو

ابن رضا — اکتوبر 3، 2015 5:41 شام
ایک تازہ غزل احباب کی نذر
بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو
ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے
اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو
شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو
جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو
تب سے مینا ہے نہ ساغر ہے، مجھے رونے دو
یادِ رفتہ ہے، غمِ ہجر ہے، تنہائی ہے
ہر گھڑی ایک ہی منظر ہے، مجھے رونے دو
عُمرگُزری ہے
مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو
جو سجاتا تھا در و بام مِرے، پھولوں سے
اُس کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے، مجھے رونے دو
بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو
وقتِ رخصت جو دیا اُس نے رضاؔ عُذرِ جفا
وہ مجھے آج بھی اَزبر ہے، مجھے رونے دو

برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
فاتح — اکتوبر 3، 2015 5:50 شام
واہ کیا کہنے
یوسف سلطان — اکتوبر 3، 2015 5:50 شام
بہت خوب رضا بھائی
فاروق احمد بھٹی — اکتوبر 3، 2015 6:49 شام
بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو
بہت خوب کیا کہنے
ادب دوست — اکتوبر 3، 2015 6:51 شام
واہ، کیا کہنے ابن رضا بھائی۔ بہت خوب
آوازِ دوست — اکتوبر 3، 2015 7:22 شام
جو سجاتا تھا در و بام مِرے پھولوں سے
اُس کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے، مجھے رونے دو
اچھا ہے! :)
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2015 11:55 شام
مناسب ہے۔ پہلے سے بہتر ہے۔
آخری سے پہلے شعر میں "یہ آنکھیں میری" ۔۔ لفظ "یہ" کو نکال دیجئے۔
محمدظہیر — اکتوبر 4، 2015 3:48 صبح
بہت عمدہ ۔۔۔
اسی طرح کا فراز کا شعر یاد آیا
ضبط لازم ہے مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا!
خالد محمود چوہدری — اکتوبر 4، 2015 4:21 صبح
خوبصورت ہے داد قبول کیجئے
سید ذیشان — اکتوبر 4، 2015 5:55 صبح
بہت خوب ابن رضا بھائی
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:23 صبح
پسند آوری اور حوصلہ افزائی کے لیے سراپا سپاس ہوں جناب۔ آپ احباب کی صحبت کا فیضان ہےبس۔ سلامت رہیے۔
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:30 صبح
بہت نوازش بھائی ۔ خوش رہے
پسند اوری کا شکریہ یا حبیب
واہ، کیا کہنے ابن رضا بھائی۔ بہت خوب

نزیر بھائی بہت شکریہ۔ سلامت رہیے

ملتانی بھائی آپ کا کنایہ کافی غور طلب ہے۔ :sneaky:توجہ کے لیے نوازش:):flower:
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:32 صبح
مناسب ہے۔ پہلے سے بہتر ہے۔
آخری سے پہلے شعر میں "یہ آنکھیں میری" ۔۔ لفظ "یہ" کو نکال دیجئے۔
شکریہ سر ۔ تعمیل کرتا ہوں ۔ جزاکم اللہ خیرا سلامت رہیے
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:33 صبح
بہت عمدہ ۔۔۔
اسی طرح کا فراز کا شعر یاد آیا
ضبط لازم ہے مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا!
پسند اوری کا شکریہ دوست ۔ خوش رہیے
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:34 صبح
خوبصورت ہے داد قبول کیجئے
نوازش چوھدری صاحب ۔ خوش رہیے
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:34 صبح
بہت خوب ابن رضا بھائی
بہت نوازش شاہ جی ۔ سلامت باشید۔
سید عاطف علی — اکتوبر 4، 2015 7:41 صبح
بہت خوب رضا بھائی۔
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 4، 2015 7:42 صبح
واہ رضا بھائی۔ خوب
الف عین — اکتوبر 4، 2015 7:48 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل کہی ہے۔
اب کہ شاید یہی بہتر ہے
سے مراد؟ اسے اب کے÷یا اب کی ہونا چاہئے نا!
عُمرگُزری ہے صبا کہتے ہوئے جس کو مِری
÷÷الفاظ بدلے جائیں، ’مری‘ آخر میں اچھا نہیں لگ رہا۔
جو سجاتا تھا در و بام مِرے پھولوں سے
مرے پھول؟ مراد تو میرے در و بام سے ہے نا!!
بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
جیسا آسی بھائی کا خیال ہے، ’یہ‘ بھرتی کا ہے۔ اسے یوں کیا جا سکتا ہے
بات بے بات ہی بھر آتی ہیں آنکھیں میری
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:54 صبح
بہت خوب رضا بھائی۔
بہت نوازش سید بادشاہ ۔ سلامت رہیے
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%A8-%D8%B6%D8%A8%D8%B7-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1-%DB%81%DB%92%D8%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92-%D8%AF%D9%88.84968/