بارش آئی
بچوں کے لیے ایک نظم از محمد خلیل الرحمٰن بادل گرجا بارش آئی ٹپ، ٹپ، ٹپ، ٹپ، ٹپ
ہم بچوں نے دھوم مچائی تھپ، تھپ، تھپ، تھپ، تھپ تیز ہوئی جب بارش، برسی چھم، چھم، چھم، چھم، چھم
کھیلے اور آنگن میں نہائے سب بچے اور ہم بادل ٹوٹ کے برسے، نالے بہنے لگے بھل ، بھل
سڑکیں، گلیاں اور میدان بھی ہوگئے سب جل تھل بارش نے کھیتوں، کھلیانوں کو سیراب کیا
سڑکوں اور میدانوں کو بھی زیر آب کیا بارش میں جب بھیگی بلی، بولی میاؤں، میاؤں
خشک کیا تب بھی بھی یوں بولی ، میاؤں، میاؤں، میاؤں
بہت دلچسپ
خلیل بھیا ابھی میکائیل کو سنائی گو اُنکو اردو بولنا کم کم آتی ہے ۔ساتھ ساتھ ترجمہ کر کر کے بتاتے رہے بہت خوش ہوئے پر سنگاپور میں بھی بارش سے پریشان ہوتے ہیں کہتے ہیں ۔۔
Rain, rain, go away
Come again some other day
شمشاد — جولائی 25، 2022 5:44 شام
خلیل بھائی کچھ خدا خوفی کریں، پہلے ہی بارش کی وجہ کراچی ڈوبا ہوا ہے اور آپ اور بارش کے لیے کہہ رہے ہیں۔ بہت داد قبول فرمائیں۔
بہت دلچسپ
خلیل بھیا ابھی میکائیل کو سنائی گو اُنکو اردو بولنا کم کم آتی ہے ۔ساتھ ساتھ ترجمہ کر کر کے بتاتے رہے بہت خوش ہوئے پر سنگاپور میں بھی بارش سے پریشان ہوتے ہیں کہتے ہیں ۔۔
Rain, rain, go away
Come again some other day
اگر اس معصوم نے احتجاجاً میاؤں میاؤں کیا تو یہ مت کہئیے گا ہماری بلی ہمیں سے میاؤں۔
یہ تو دھلنے اور سوکھنے کے بعد بھی آنکھیں کھولے ہوئے ہے۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔
محمد عبدالرؤوف — جولائی 26، 2022 6:52 صبح
بہت خوب خلیل بھائی!
نظم تو خوب ہے ہی، ترنم بھی خوب تر ہے