]نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے یہ کب کے لے رہا ہے ہم سے اے چرخِ کہن بدلے بحر بتائیے؟
ایم اے راجا — مارچ 22، 2011 6:45 شام
میرا خیال ہیکہ یہ بحر ، بحرِ ھزج مثمن سالم ہے مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
2221 2221 2221 2221
خرم شہزاد خرم — مارچ 22، 2011 6:56 شام
میرے خیال میں بھی یہی بحر ہے راجا بھائی آپ نے درست فرمایا
الف عین — مارچ 23، 2011 4:34 صبح
راجا کی بات درست ہے
جیلانی — مارچ 28، 2011 7:53 شام
آکر بہار کو تو جو کرنا تھا کر گئی
الزام احتیاطِ گریباں کے سر گیا زنجیرِ ماتمی ہے تم اے عاقلانِ شہر
اب کس کو پوچھتے ہو دِوانہ تو مر گیا بحر بتائیے؟
محمد وارث — مارچ 29، 2011 7:28 صبح
بحر: بحر مضارع (مکمل نام: بحرِ مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف) افاعیل: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن تقطیع:
آکر بہار کو تو جو کرنا تھا کر گئی
آ کر ب - مفعول
ہار کو تُ - فاعلات
جُ کرنا تَ - مفاعیل
کر گئی - فاعلن
جیلانی — اپریل 2، 2011 6:27 صبح
فاعلاتن فاعلات
کیا یہ بحر درست ہے؟
جیلانی — اپریل 5، 2011 9:30 صبح
کیا جانے کون منزل ِ راحت نظر میں ہے غربت میں ہے سکون نہ آرام گھر میں ہے بحر کیا ہے؟
جیلانی — اپریل 5، 2011 9:32 صبح
کوئی عیش و مسرت کے طلبگاروں سے کہہ دیتا کہ گزرے تھے انہی راہوں سے پہلے غم کے مارے بھی بحر کیا ہے؟
جیلانی — اپریل 5، 2011 9:33 صبح
جانے والے آ، نہیں تاب ِ پشیمانی مجھے چھیڑی رہتی ہے میرے گھر کی ویرانی مجھے بحر کیا ہے؟
میرے خیال سے اس کے قریب یہ بحر ہے گو کچھ فرق ہے بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن (آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے) اشاری نظام - 122 1212 1221 212 (آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
اساتدہ بہتر جانتے جی
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)