بحر بتائیے

جیلانی — فروری 26، 2011 1:48 شام
ان کے غم کی خلش مگر صادق
]طاق دل بر اٹھا کے رکھ لی ہے
محمد اظہر نذیر — فروری 27، 2011 5:48 صبح
فاعلاتن مفاعلن فعلن ہے شاید جی بحر خفیف ویسے محترم استاد کا انتظار کرتے ہیں میں بھی دیکھوں میرا اندازہ ٹھیک ہے کیا؟
الف عین — فروری 27، 2011 6:47 صبح
اظہر کی بات درست ہے۔ یہ بحر خفیف ہی ہے۔
جیلانی — مارچ 1، 2011 6:29 شام
دنیا میں جب آئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
حق کی روشنی لائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
بحر بتائیے؟
الف عین — مارچ 2، 2011 4:41 صبح
بحر متقارب، فعلن آٹھ بار، یا فعل فعولن 4 بار
جیلانی — مارچ 4، 2011 4:00 صبح
کیا یہ بحر ہے؟
فاعلاتن فاعلات۔۔۔۔۔۔ ایک مصرع میں دو بار
خرم شہزاد خرم — مارچ 4، 2011 6:38 صبح
جیلانی بھائی غزل اور اس کی بحر کے نام سے یہ سلسلہ پہلے لے شروع ہے آپ وہاں جا کر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?15183-غزل-اور-اس-کی-بحر
جیلانی — مارچ 22، 2011 3:10 شام
]نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے
یہ کب کے لے رہا ہے ہم سے اے چرخِ کہن بدلے
بحر بتائیے؟
ایم اے راجا — مارچ 22، 2011 6:45 شام
میرا خیال ہیکہ یہ بحر ، بحرِ ھزج مثمن سالم ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
2221 2221 2221 2221
خرم شہزاد خرم — مارچ 22، 2011 6:56 شام
میرے خیال میں بھی یہی بحر ہے راجا بھائی آپ نے درست فرمایا
الف عین — مارچ 23، 2011 4:34 صبح
راجا کی بات درست ہے
جیلانی — مارچ 28، 2011 7:53 شام
آکر بہار کو تو جو کرنا تھا کر گئی
الزام احتیاطِ گریباں کے سر گیا
زنجیرِ ماتمی ہے تم اے عاقلانِ شہر

اب کس کو پوچھتے ہو دِوانہ تو مر گیا
بحر بتائیے؟
محمد وارث — مارچ 29، 2011 7:28 صبح
بحر: بحر مضارع (مکمل نام: بحرِ مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
افاعیل: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
تقطیع:
آکر بہار کو تو جو کرنا تھا کر گئی
آ کر ب - مفعول
ہار کو تُ - فاعلات
جُ کرنا تَ - مفاعیل
کر گئی - فاعلن
جیلانی — اپریل 2، 2011 6:27 صبح
فاعلاتن فاعلات
کیا یہ بحر درست ہے؟
جیلانی — اپریل 5، 2011 9:30 صبح
کیا جانے کون منزل ِ راحت نظر میں ہے
غربت میں ہے سکون نہ آرام گھر میں ہے
بحر کیا ہے؟
جیلانی — اپریل 5، 2011 9:32 صبح
کوئی عیش و مسرت کے طلبگاروں سے کہہ دیتا
کہ گزرے تھے انہی راہوں سے پہلے غم کے مارے بھی
بحر کیا ہے؟
جیلانی — اپریل 5، 2011 9:33 صبح
جانے والے آ، نہیں تاب ِ پشیمانی مجھے
چھیڑی رہتی ہے میرے گھر کی ویرانی مجھے
بحر کیا ہے؟
محمد اظہر نذیر — اپریل 5، 2011 10:53 صبح
کیا جانے کون منزل ِ راحت نظر میں ہے
غربت میں ہے سکون نہ آرام گھر میں ہے
بحر کیا ہے؟

میرے خیال سے اس کے قریب یہ بحر ہے گو کچھ فرق ہے
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
اساتدہ بہتر جانتے جی
محمد اظہر نذیر — اپریل 5، 2011 10:58 صبح
کوئی عیش و مسرت کے طلبگاروں سے کہہ دیتا
کہ گزرے تھے انہی راہوں سے پہلے غم کے مارے بھی
بحر کیا ہے؟

بحر - بحر ہزج مثمن سالم
افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن
اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
محمد اظہر نذیر — اپریل 5، 2011 11:01 صبح
جانے والے آ، نہیں تاب ِ پشیمانی مجھے
چھیڑی رہتی ہے میرے گھر کی ویرانی مجھے
بحر کیا ہے؟
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)
صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.33189/