بحر خفیف میں ایک کوشش،،اصلاح فرمائیے

صبیح الدین شعیبی — اپریل 22، 2009 9:40 صبح
ایک کوشش کی ہے،،،،،،،،سب دوستوں سے مددکی درخواست ہے
راہ بہت مشکل
دوربہت منزل
چاند نہیں نکلا
ڈوب چلا یہ دل
جھیل سی گہری آنکھ
آنکھ میں بھوراتل
آنکھ کے تیروں سے
چھلنی ہوگیادل
دیکھ لے میراحال
آکے مجھ سے مل
مرنے کو ہے اب
یہ تیرا بسمل
تو ہی کرانصاف
اے میرےقاتل
کشتی جب ڈوبی
سامنے تھاساحل
خرم شہزاد خرم — اپریل 22، 2009 10:02 صبح
اصلاح کے لیے اساتذہ اکرام کا انتظار کرنا ہو گا
محمد وارث — اپریل 22، 2009 4:51 شام
اچھی غزل ہے صبیح صاحب آپ کی!
میرے خیال میں یہ بحر خفیف نہیں ہے، بلکہ اسے میر کی بحرِ ہندی کہا جاتا ہے!
مختصر بحر کو خوبصورتی سے استعمال کرنا ہی اسکی خوبصورتی ہوتی ہے، کئی اچھے اشعار ہیں آپ کے
چاند نہیں نکلا
ڈوب چلا یہ دل
جھیل سی گہری آنکھ
آنکھ میں بھورا تل
واہ واہ واہ۔
الف عین — اپریل 22، 2009 6:25 شام
اشعار تو سارے ہی بحر و وزن میں پورے اترتے ہیں۔
اس کی بحر میں بڑی لچک ہے، ویسے تفصیل تو وارث ہی دے سکتے ہیں، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ
فعلن فعلن فعل
بنیادی ارکان ہیں، جب کہ آخری رکن فع بھی ہو سکتا ہے، اور اسی طرح ، بلکہ ہر جگہ ہی ’فعلن فعلن‘ کو ’فعل فعولن‘ سے بھی بدلا جا سکتا ہے۔
وارث نے جن اشعار کی نشان دہی کی ہے، وہ واقعی اچھے ہیں۔ لیکن باقی بہت سے اشعار کمزور ہیں۔ خاص کر آکری چاروں اشعار۔ کچھ مزید بھی کہو، تو بعد میں دیکھا جائے کہ کن شعروں کو رکھا جائے اور کن کی چھٹی کر دی جائے!
صبیح الدین شعیبی — اپریل 23، 2009 6:09 صبح
جونہی مزید اشعار واردہوئے،،، اصلاح کیلئے پیش کروںگا،،،،
محمداحمد — اپریل 23، 2009 6:30 صبح
صبیح الدین شعیبی صاحب،
اچھی غزل ہے، چھوٹی بحر میں غزل کہنا کمالِ مہارت کا متقاضی ہوتا ہے کہ بہت ہی کم الفاظ میں‌ شعر مکمل ہوجاتا ہے اور آپ کو نفسِ مضمون کے بیان کے لئے بہت ہی کم گنجائش ملتی ہے۔ پھر اسی میں اگر قوافی اور ردیف کا ٹنٹا :) بھی ہو تو یہ کام جوئے شیر لانے کے مُترادف ہو جاتا ہے۔
آپ کی غزل میں کچھ اشعار بہت خوب ہیں۔ خاکسار کی جانب سے نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے۔
ایم اے راجا — مئی 6، 2009 4:56 شام
بہت خوب شعیبی صاحب داد قبول ہو
دوست — مئی 6، 2009 6:06 شام
واہ جی واہ۔
بہت اچھی لگی۔
صبیح الدین شعیبی — اپریل 17، 2012 10:02 شام
یونہی پرانی چیزیں دیکھ رہاتھا،،،،یہ نامکمل غزل دیکھی،،،،ریکارڈ کو درست کررہاہوں،،،،احباب سے توجہ کی گذارش ہے،،خصوصآ اعجاز صاحب اور وارث بھائی رہنمائی کریں۔۔۔
راہ بہت مشکل
دوربہت منزل
میرے پاگل دل
پیار میں کیا حاصل
چاند نہیں نکلا
ڈوب چلا یہ دل
جھیل سی گہری آنکھ
آنکھ میں بھوراتل
میں اورتیری یاد
خوب جمی محفل
مجھ سا تنہا چاند
اورپیاساسا حل
راحیل فاروق — اپریل 17، 2012 10:18 شام
السلامُ علیکم۔
صبیح صاحب۔ عمدہ غزل ہے۔
"دیکھ لے میراحال
آکے مجھ سے مل"
خوبصورت شعر ہے۔
صبیح الدین شعیبی — اپریل 17، 2012 10:32 شام
شکریہ راحیل صاحب،۔،،،،مگر یہ شعر تو نکال دیاتھا مشورے کے بعد۔۔۔،،،،،،،اب تو پاگل دل،تیری یاد اور تنہا چاند والے شعر شامل کیے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کا بہرحال شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:) آپکو پسند آیا آپ کی نذر
الف عین — اپریل 19، 2012 3:37 شام
واقعی بہتر ہو گئی ہے غزل، اپنی ہی تخلیقات کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا اور کتر بیونت کرنا قابل تحسین ہے۔ اساتذہ کو بھی ’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘ سے بچنا چاہئے۔
راحیل فاروق — اپریل 19، 2012 9:10 شام
شکریہ راحیل صاحب،۔،،،،مگر یہ شعر تو نکال دیاتھا مشورے کے بعد۔۔۔ ،،،،،،،اب تو پاگل دل،تیری یاد اور تنہا چاند والے شعر شامل کیے ہیں۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔آپ کا بہرحال شکریہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔:) آپکو پسند آیا آپ کی نذر
تو گویا آپ نے اس شعر میں جس ہستی کو دعوتِ معائنہ دی ہے، اس کی جگہ میں قدم بوسی کو حاضر ہو سکتا ہوں؟:-P:-P
صبیح الدین شعیبی — اپریل 19، 2012 9:36 شام
ان کے حسن و جمال کی دعوت:::میرے خواب و خیال کی دعوت
آپ جس کو معائنہ سمجھے::: دراصل ہے وصال کی دعوت
آپ چاہیں تو آبھی سکتے ہیں:::کرسکوں گا میں دال کی دعوت
کیاکروں ہاتھ تنگ ہے میرا:::بس یہی ہےحلال کی دعوت
راحیل فاروق — اپریل 20، 2012 12:00 صبح
سبحان اللہ، شعیبی صاحب۔ قادر الکلامی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے؟ ہم آئیں نہ آئیں، ہمارا دل اب آپ پر آ گیا ہے۔
اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو دوسرے شعر کے مصرعِ ثانی کو یوں کر لیجیے:
اصل میں ہے وصال کی دعوت
لفظ "اصل" وتدِ مفروق ہے اور سادہ لفظوں میں "کار" کے عروضی وزن پر آتا ہے۔ "دراصل" کے معنیٰ "اصل میں" ہی ہیں۔ بات آپ سمجھتے ہیں۔ بس ہمارا اردو دان کیڑا اس واہی تباہی سے پر سکون ہو جائے گا۔
قوتِ اظہار کی ایک دفعہ پھر داد۔ جی خوش کر دیا آپ نے!
صبیح الدین شعیبی — اپریل 20، 2012 5:47 شام
سبحان اللہ، شعیبی صاحب۔ قادر الکلامی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے؟ ہم آئیں نہ آئیں، ہمارا دل اب آپ پر آ گیا ہے۔
اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو دوسرے شعر کے مصرعِ ثانی کو یوں کر لیجیے:
اصل میں ہے وصال کی دعوت
لفظ "اصل" وتدِ مفروق ہے اور سادہ لفظوں میں "کار" کے عروضی وزن پر آتا ہے۔ "دراصل" کے معنیٰ "اصل میں" ہی ہیں۔ بات آپ سمجھتے ہیں۔ بس ہمارا اردو دان کیڑا اس واہی تباہی سے پر سکون ہو جائے گا۔
قوتِ اظہار کی ایک دفعہ پھر داد۔ جی خوش کر دیا آپ نے!
آپ نے صحیح نشاندہی کی۔۔۔میں جانے کس رو میں یہ غلطی کربیٹھا۔۔۔۔شکریہ اب تو آپ کہیے میں کب آون قدم بوسی کو:)
راحیل فاروق — اپریل 20، 2012 6:13 شام
جب ہمارے قدم کہیں جم جائیں تو ضرور تشریف لائیے گا۔ غبارِ راہ کے پیچھے کاہے دوڑتے پھریں گے؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%AE%D9%81%DB%8C%D9%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4%D8%8C%D8%8C%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.21158/