بحر مضارع۔ غزل اصلاح کے لئے.۔۔

کاشف اسرار احمد — اکتوبر 9، 2014 8:13 شام
مری ایک اور تازہ غزل اصلاح کے لئے حاضر ہے
بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف لی ہے یعنی وزن ہے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
اساتذہ سے اصلاح، رہنمائی اور ضعف بیان کی نشاندہی کی درخواست ہے ...
--------------------------------
ساتھی بھلے نہ کوئ ہو, یکتائی ہے بہت
رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت
چپ رہ کے بھی فسانہ بیاں اس نے کر دیا
آنکھوں سے گرتے آنسو میں گویائی ہے بہت
سب سن کے داستان کہا منہ بنا کے یوں
باتوں میں تیری حاشیہ آرائی ہے بہت
اِس نقدِ جاں کے بدلے میں چاہو وفا کے پھول
کیا ہاتھ آئینگیں میاں مہنگائی ہے بہت
دیکھے نظر ملا کے جو وہ, ڈوبتا ہے دل
رشکِِ غزال آنکھ میں, گہرائی ہے بہت
پھولوں بھری لچکتی ہوئی ڈال کو صنم
شرمندہ کرنے کو تری انگڑائی ہے بہت
سرعت سے حل سوال, ذہانت سے جرح کچھ
بچوں میں اس زمانہ کے دانائی ہے بہت
اساتذہ اکرام جناب
الف عین
محمد یعقوب آسی
اسامہ سرسری
صاحبان سے اصلاح کی گزارش ہے.۔۔۔۔ناچیز کو قیمتی مشوروں سے نواز کر ممنون فرمائیں.۔۔
جزاک اللّہ۔۔
شکریہ.۔۔۔
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 12، 2014 7:46 شام
غزل کی اصلاح کے لیے اساتذہ کی توجہ کا منتظر ہوں۔:-(
الف عین — اکتوبر 13، 2014 7:58 صبح
مطلع میں ’یکتائی‘ کا محل سمجھ میں نہیں آیا۔
سب سن کے داستان کہا منہ بنا کے یوں
یہ مصرع مزید روانی چاہتا ہے۔ مثلاً
جب سن لی داستان /پوری بات تو بولے یہ ۔۔۔۔
اِس نقدِ جاں کے بدلے میں چاہو وفا کے پھول
یہاں ’خریدنا چاہتے ہو‘ آ سکے تو۔
اس نقد جاں میں مول ملیں گے وفا کے پھول؟؟
کے بارے میں کیا خیال ہے؟
پھولوں بھری لچکتی ہوئی ڈال کو صنم
۔۔’صنم‘ کے عامیانہ بلکہ بالی ووڈ کے انداز کے باعث پسند نہیں آیا، الفاظ بدل دیں۔
اسی طرح ’ذہانت سے جرح کچھ‘ میں بھی بات نہیں بنتی۔ کچھ الفاظ بدل دو تو دیکھا جائے۔
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 13، 2014 2:35 شام
بہت بہت شکریہ استاد محترم۔۔ نوازش جناب کی ۔
میں تصحیح کے بعد حاضر ہوتا ہوں۔
ان شا اللہ ۔
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 13، 2014 7:57 شام
آپ کی توجہ کا طالب ہوں استادِ محترم الف عین صاحب ۔
آپ کے مشوروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے تصحیح کی ہے ..
ساتھی بھلے نہ کوئ ہو، رسوائی ہے بہت
رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت
چپ رہ کے بھی فسانہ بیاں اس نے کر دیا
آنکھوں سے گرتے آنسو میں گویائی ہے بہت
جب سن لی داستان کہا منہ بنا کے پھر
باتوں میں تیری حاشیہ آرائی ہے بہت
اس نقد جاں میں مول ملیں گے وفا کے پھول؟؟
کیا ہاتھ آئینگے میاں، مہنگائی ہے بہت
دیکھے نظر ملا کے جو وہ, ڈوبتا ہے دل
رشکِِ غزال آنکھ میں, گہرائی ہے بہت
پھولوں بھری لچکتی ہوئی ڈال کو، اے شوخ (آخری رکن کے آگے ایک حرف ساکن کی اضافت کے بعد )
شرمندہ کرنے کو تری انگڑائی ہے بہت
سرعت سے حل سوال, ذہانت سے گفتگو
بچوں میں اس زمانہ کے دانائی ہے بہت
ترمیم کے بعد آپ کی رائے کا منتظر ہوں ....جزاک الله
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 17، 2014 6:20 شام
استاد محترم جناب الف عین صاحب
آپ کی توجہ کا طالب ہوں۔۔:unsure:
الف عین — اکتوبر 18، 2014 2:32 شام
اب بہتر ہے۔
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 18، 2014 5:20 شام
بہت بہت شکریہ جناب :)
جزاک اللہ ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D9%85%D8%B6%D8%A7%D8%B1%D8%B9%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%DB%94%DB%94.78077/