بحر کا تعین

منصور محبوب چوہدری — جنوری 11، 2017 3:40 شام
مہربانی فرما کے اس مطلع کی بحر تعین کر دیجئے(مطلع کو توڑ کر) - بحر سمجھنے کی کوشش کر دہا ہوں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
راحیل فاروق — جنوری 11، 2017 4:08 شام
بحر کا نام ہے ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف۔ اس کے افاعیل ہیں:
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
ان میں سے مفعول اخرب ہے، مفاعیل مکفوف اور فعولن محذوف۔ تقطیع کچھ یوں ہو گی:
رنجش ہِ - سہی دل ہِ - دکھانے کِ - لیے آ
مفعول - مفاعیل - مفاعیل - فعولن
آ پھر سِ - مجھے چھوڑ - کِجانے کِ - لیے آ
مفعول - مفاعیل - مفاعیل - فعولن
منصور محبوب چوہدری — جنوری 11، 2017 4:22 شام
شکریہ - "مجھے چھوڑ" مفاعیل میں بیٹھتا نظر آتا ہے پر 'سہی دل ہِ' مفاعیلن لگ رہا ہے۔ روشنی ڈال دیجئے
راحیل فاروق — جنوری 11، 2017 4:26 شام
جی، "مجھے چھوڑ" تو خود بیٹھ جاتا ہے باقیوں کو ذرا زدوکوب کرنا پڑتا ہے۔ :)
منصور محبوب چوہدری — جنوری 11، 2017 4:35 شام
جی، "مجھے چھوڑ" تو خود بیٹھ جاتا ہے باقیوں کو ذرا زدوکوب کرنا پڑتا ہے۔ :)
سر ابھی ابھی پڑھنا شروع کیا ہے - اس کو مزاح سمجھوں یہ واقعہ ہی زد و کوب ؟میری نااہلی پہ معذرت
عاطف ملک — جنوری 13، 2017 7:52 شام
جی، "مجھے چھوڑ" تو خود بیٹھ جاتا ہے باقیوں کو ذرا زدوکوب کرنا پڑتا ہے۔ :)
آپ کی لاجواب غزلوں اور طبیعت کی روانی کا راز شاید یہی "زدوکوب" ہے.
"Just kidding"
الف عین — جنوری 15، 2017 6:07 صبح
راحیل کا مطلب تھا کہ باقی میں حروف علت کو گرانا پڑتا ہے۔ اور کسی کو زبردستی گرانا ہو تو مار پیٹ ہی کرنی پڑے گی نا!!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86.94103/