مغزل — اکتوبر 24، 2008 9:51 صبح
بحر کا نام اور تقطیع کیا ہوگی ؟؟
حکیم مومن کا مصرع ہے :
لادے اک جنگل مجھے بازار سے
اس کی تقطیع کیا ہوگی اور بحر کیا ہے ۔
فاعلاتن ، فاعلاتن ، فاعلن
لادے اک جن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گل مجھے با ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زار سے
۔۔۔۔ فاعلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعلن ۔۔۔
بحرِ رمل مسدس محذوف ؟؟
کیا یہ درست ہے ۔۔ ؟؟
الف عین ، نوید صادق اور وارث صاحب کرم کیجئے !!
محمد وارث — اکتوبر 24، 2008 10:35 صبح
مغل صاحب، آپ نے بحر کا نام اور تقطیع سبھی کچھ صحیح لکھا ہے
مغزل — اکتوبر 25، 2008 6:42 صبح
باباجانی ۔۔ وارث صاحب اور نظامی صاحب بہت شکریہ
در اصل ایک موصوف ( وہی جنہوں نے اقبال پر بحر کے معاملے پر انگشت نمائی کی ہے )
بضد تھے کہ اس کی بحر کا نام ’’بحرِ رمل محذوب ‘‘ ہے اور
اس کی تقطیع ۔۔
لادے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک جن ۔۔۔۔۔ گل مجھے با ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زار سے
۔۔۔۔ فعلن ۔۔۔۔۔۔۔۔ فعلن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعلان ۔
ہے ۔۔ میں نے اس لیے آپ کو زحمت دی ۔۔ کہ موصوف سن رسیدہ ہیں ۔۔
اور ایک فورم پر استاد کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
کرم فرمائی کیلئے تہہِ دل سے ممنون و متشکّر ہوں ۔
والسلام
محمد وارث — اکتوبر 25، 2008 6:50 صبح
اجی واہ!
ان موصوف کو مولانا روم کی مثنوی اور اقبال کی مثنویاں اسرارِ خودی، رموزِ بیخودی، اور جاوید نامہ پڑھائیں، ہزاروں اشعار ہیں اور بحر رمل مسدس محذوف (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن/فاعلان) میں۔ رمل میں نہ تو کوی بحر 'محذوب' نامی ہے اور نہ ہی فعلن فعلن فاعلاتن فاعلان کوئی وزن ہے۔
مغزل — اکتوبر 25، 2008 7:01 صبح
ارے توبہ ۔۔ بھئی میں کیوں پڑھواؤں ۔۔ موصوف میری طرح اپنی جہالت پر انا کا حصار کھینچے بیٹھے ہیں ۔
میں نے چھیڑ دیا تو ۔۔ انا للہ و ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھنا پڑھ جائے گا آپ کو ۔۔
مغزل — اکتوبر 25، 2008 8:47 صبح
شکریہ وارث صاحب۔۔
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 28، 2008 7:08 صبح
اس طرح میرے ساتھ بھی ایک مسئلہ ہوا تھا میں نے کسی کتاب میں پڑھاتھا اس میں وزن یہ بتایا گیا تھا فاعلن فاعلن مفاعلین جو کہ اس کے برابر بنتا ہےفاعلاتن مفاعلن فعلن میں نے بھی وارث صاحب کو ایس ایم ایس کیا تھا کچھ لوگ اس طرح تقطع کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں
مغزل — اکتوبر 28، 2008 7:22 صبح
بحور و عروض سے مذاق ۔۔
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 28، 2008 9:57 صبح
میرے خیال میں نئے سیکھنے والوں کو غلط راستہ بتاتے ہیں
مغزل — اکتوبر 28، 2008 10:51 صبح
صحیح کہا آپ نے ۔۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی جہالت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہوں۔۔!
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 28، 2008 10:53 صبح
جی ہاں یہ بات بھی ٹھیک ہے
محمد وارث — اکتوبر 29، 2008 4:44 صبح
ایسی تقطیع کو غیر حقیقی تقطیع کہتے ہیں جسکا علم عروض میں کوئی اعتبار نہیں ہے، حقیقی تقطیع وہی ہے جو علم عروض کے قواعد و ضوابط و متعین بحور کے مطابق ہو۔