بحر کی تبدیلی کے بعد

شیرازخان — اگست 21، 2013 8:31 شام
غزل
صاف ستھرا اسقدر دیکھو وہ مکاں بھی تو نہیں تھا
اس کا اپنے دل پہ کچھ اتنا دھاں بھی تو نہیں تھا
اب زمیں پاؤں تلے سے ہی نکلتی جا رہی تھی
اب مرے سر پہ کھڑاوہ آسماں بھی تونہیں تھا
قافلہ لٹنے کا دکھ تو اک طرف تھا ہی مگر اب
وہ جو ہمراہ تھا مرے وہ کارواں بھی تو نہیں تھا
لے تو آیا ہوں میں یہ صدمہ اٹھا کرساتھ اپنے
پر جلا تھا جو ، مرا وہ آشیاں بھی تو نہیں تھا
ٹوٹ کے برسی ہیں کیوں شیرؔ از یہ آنکھیں یکایک
آج بارش کا کہیں نام و نِشاں بھی تو نہیں تھا
شیرازخان — اگست 21، 2013 8:45 شام
الف عین @مزمل شیخ بسمل@
مہدی نقوی حجاز — اگست 22، 2013 10:23 صبح
ہنوز کسی ایک بحر میں نہ آ سکی میاں یہ غزل۔ مختلف بحروں کی جھلک نظر آ رہی ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 22، 2013 4:25 شام
صرف وزن کی بات کرتا ہوں:
صاف ستھرا اسقدر دیکھو وہ مکاں بھی تو نہیں تھا
اس کا اپنے دل پہ کچھ اتنا دھاں بھی تو نہیں تھا
//پہلے مصرعے میں ”وہ“ وزن سے زائد ہے۔ شاید ٹائپو ہوگا۔
دوسرے مصرعے میں دھیان غلط باندھا ہے۔
اب زمیں پاؤں تلے سے ہی نکلتی جا رہی تھی
اب مرے سر پہ کھڑاوہ آسماں بھی تونہیں تھا
//پہ کی جگہ ”پر“ لکھو۔
قافلہ لٹنے کا دکھ تو اک طرف تھا ہی مگر اب
وہ جو ہمراہ تھا مرے وہ کارواں بھی تو نہیں تھا
//ہمراہ کا تلفظ ”مفعول“ یا ”فاعیل“ یا ”شیراز“ کے برابر ہے۔ اس سے آخری ”ہ“ گرانا جائز نہیں۔
لے تو آیا ہوں میں یہ صدمہ اٹھا کرساتھ اپنے
پر جلا تھا جو ، مرا وہ آشیاں بھی تو نہیں تھا
//درست ہے۔
ٹوٹ کے برسی ہیں کیوں شیرؔ از یہ آنکھیں یکایک
آج بارش کا کہیں نام و نِشاں بھی تو نہیں تھا
//درست۔
شیرازخان — اگست 22، 2013 5:24 شام
ہنوز کسی ایک بحر میں نہ آ سکی میاں یہ غزل۔ مختلف بحروں کی جھلک نظر آ رہی ہے۔
جناب اوپر اوزان کی نشان دہی کے بعد یہ بحر رمل میں آتی ہے کہ نہیں؟؟؟؟؟
شیرازخان — اگست 22، 2013 5:35 شام
صرف وزن کی بات کرتا ہوں:
صاف ستھرا اسقدر دیکھو وہ مکاں بھی تو نہیں تھا
اس کا اپنے دل پہ کچھ اتنا دھاں بھی تو نہیں تھا
//پہلے مصرعے میں ”وہ“ وزن سے زائد ہے۔ شاید ٹائپو ہوگا۔
دوسرے مصرعے میں دھیان غلط باندھا ہے۔
اب زمیں پاؤں تلے سے ہی نکلتی جا رہی تھی
اب مرے سر پہ کھڑاوہ آسماں بھی تونہیں تھا
//پہ کی جگہ ”پر“ لکھو۔
قافلہ لٹنے کا دکھ تو اک طرف تھا ہی مگر اب
وہ جو ہمراہ تھا مرے وہ کارواں بھی تو نہیں تھا
//ہمراہ کا تلفظ ”مفعول“ یا ”فاعیل“ یا ”شیراز“ کے برابر ہے۔ اس سے آخری ”ہ“ گرانا جائز نہیں۔
لے تو آیا ہوں میں یہ صدمہ اٹھا کرساتھ اپنے
پر جلا تھا جو ، مرا وہ آشیاں بھی تو نہیں تھا
//درست ہے۔
ٹوٹ کے برسی ہیں کیوں شیرؔ از یہ آنکھیں یکایک
آج بارش کا کہیں نام و نِشاں بھی تو نہیں تھا
//درست۔
بہت شکریہ جناب۔۔۔۔۔۔”وہ“ وزنٹائپوہے۔۔اوردوسرے مصرعے میں دھیان کی سمجھ نہیں آئی؟؟
2۔نیز "پہ" بھی ٹاہپو ہی ہے۔۔۔۔
3۔ساتھ جو میرے چلا، وہ کارواں بھی تو نہیں تھا۔۔۔۔۔کیسا ہے؟؟؟
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 22، 2013 5:55 شام
دوسرے مصرعے میں دھیان کی سمجھ نہیں آئی؟؟
”دھیان“ کے بارے میں مجھے استاد محترم جناب یعقوب آسی صاحب نے بڑے اچھے انداز سے سمجھایا تھا:
اللہ نے ہی اس کا ، ایسا دھیاں بنایا
اس ’’دھیان‘‘ میں دو باتوں پر دھیان دیجئے گا۔
اول یہ کہ اس کی یاے شعر میں نہیں بولتی جیسے کیا (سوالیہ)، پیارا، پیاس، کیوں میں نہیں بولتی۔
دوسرے اس کا نون غنہ نہیں ہو سکتا۔
الف عین — اگست 22، 2013 6:50 شام
ساتھ جو میرے چلا وہ کارواں
درست وزن میں ہے
شیرازخان — اگست 23، 2013 1:18 شام
”دھیان“ کے بارے میں مجھے استاد محترم جناب یعقوب آسی صاحب نے بڑے اچھے انداز سے سمجھایا تھا:
بہت شکریہ جناب۔۔۔۔۔۔۔
شیرازخان — اگست 23، 2013 1:20 شام
ساتھ جو میرے چلا وہ کارواں
درست وزن میں ہے
بہت شکریہ جناب۔۔۔ ۔۔۔ ۔
شیرازخان — ستمبر 2، 2013 8:24 شام
صرف وزن کی بات کرتا ہوں:
صاف ستھرا اسقدر دیکھو وہ مکاں بھی تو نہیں تھا
اس کا اپنے دل پہ کچھ اتنا دھاں بھی تو نہیں تھا
//پہلے مصرعے میں ”وہ“ وزن سے زائد ہے۔ شاید ٹائپو ہوگا۔
دوسرے مصرعے میں دھیان غلط باندھا ہے۔
اب زمیں پاؤں تلے سے ہی نکلتی جا رہی تھی
اب مرے سر پہ کھڑاوہ آسماں بھی تونہیں تھا
//پہ کی جگہ ”پر“ لکھو۔
قافلہ لٹنے کا دکھ تو اک طرف تھا ہی مگر اب
وہ جو ہمراہ تھا مرے وہ کارواں بھی تو نہیں تھا
//ہمراہ کا تلفظ ”مفعول“ یا ”فاعیل“ یا ”شیراز“ کے برابر ہے۔ اس سے آخری ”ہ“ گرانا جائز نہیں۔
لے تو آیا ہوں میں یہ صدمہ اٹھا کرساتھ اپنے
پر جلا تھا جو ، مرا وہ آشیاں بھی تو نہیں تھا
//درست ہے۔
ٹوٹ کے برسی ہیں کیوں شیرؔ از یہ آنکھیں یکایک
آج بارش کا کہیں نام و نِشاں بھی تو نہیں تھا
//درست۔
برائے مہربانی مطلعے پہ ایک ڈال دیجیئے؟؟؟
صاف ستھرا اسقدر دیکھو وہ مکاں بھی تو نہیں تھا
اس کا چہرہ اس کے دل کا ترجماں بھی تو نہیں تھا
شیرازخان — ستمبر 3، 2013 9:51 شام
اور ایک شعر کا اضافہ بھی کیا ہے
کچھ تجربہ تو ہوا رختِ سفرکا یوں ہمیں بھی
ہاں سکوں واں پہ نہیں تھا پر یہاں بھی تو نہیں تھا
مزمل شیخ بسمل@
الف عین — ستمبر 4، 2013 4:49 صبح
مطلع مین وہ زائد ہے
نئے شعر میں تجربہ کا تلفظ توجہ چاہتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF.66982/