بحر کی نا سمجھی

دانشات — ستمبر 29، 2019 8:46 صبح
حاضرین آداب عرض ہے
میں کافی عرصے سے اس تگ و دو میں ہوں کہ کسی طرح اردو شاعری کی بحور کی کچھ سمجھ آ جائے مگر جس بھی ویب سائٹ پہ جاتا ہوں کبھی کوئی قابلِ ذکر مواد نہیں مل سکا۔ میں اصل میں کافی عرصے سے اردو شاعری لکھ رہا ہوں مگر بحر کی سمجھ کے بغیر۔ جسکا مجھے بہت نقصان ہو رہا ہے۔ مہربانی فرما کہ رہنمائی کریں۔
سید عاطف علی — ستمبر 29، 2019 9:04 صبح
حاضرین آداب عرض ہے
میں کافی عرصے سے اس تگ و دو میں ہوں کہ کسی طرح اردو شاعری کی بحور کی کچھ سمجھ آ جائے مگر جس بھی ویب سائٹ پہ جاتا ہوں کبھی کوئی قابلِ ذکر مواد نہیں مل سکا۔ میں اصل میں کافی عرصے سے اردو شاعری لکھ رہا ہوں مگر بحر کی سمجھ کے بغیر۔ جسکا مجھے بہت نقصان ہو رہا ہے۔ مہربانی فرما کہ رہنمائی کریں۔
بحر کی سمجھ کے بغیر کیسے وہ کام کر رہے ہیں جسے آپ نے شاعری سمجھ رکھا ہے ، اوپر سے وہ بھی کافی عرصے سے ؟ گویا کافی عرصے سے گائے پر بیٹھ کر گھڑسواری کر رہے ہیں ۔ :)
(براہ مہربانی اسے مزاحیہ اور دوستانہ انداز میں لیجیئے گا :) ورنہ صدہا معذرت )
بہر حال عروض ڈاٹ کام سے اور یہاں فورم ہر شعری اوزان سے متعلقہ مواد سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔
اور ہاں اپنا تعارف پیش کریں تو آپ سے ہم بھی استفادہ کر سکیں
دانشات — ستمبر 29، 2019 9:10 صبح
بحر کی سمجھ کے بغیر کیسے وہ کام کر رہے ہیں جسے آپ نے شاعری سمجھ رکھا ہے ، اوپر سے وہ بھی کافی عرصے سے ؟ گویا کافی عرصے سے گائے پر بیٹھ کر گھڑسواری کر رہے ہیں ۔ :)
(براہ مہربانی اسے مزاحیہ اور دوستانہ انداز میں لیجیئے گا :) ورنہ صدہا معذرت )
بہر حال عروض ڈاٹ کام سے اور یہاں فورم ہر شعری اوزان سے متعلقہ مواد سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔
اور ہاں اپنا تعارف پیش کریں تو آپ سے ہم بھی استفادہ کر سکیں
جی حضرت آپکا طنز بالکل جائز ہے۔ مگر میرے علم میں تو آزاد شاعری بھی ایک طرز ہے۔ خیر۔ جناب۔ عروض سے میں نے استفادہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر کچھ خاص سمجھ نہیں آئی۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 29، 2019 9:17 صبح
مگر میرے علم میں تو آزاد شاعری بھی ایک طرز ہے۔
آزاد شاعری بھی بحور سے آزاد نہیں۔ :)
آپ کا اشارہ نثری "شاعری" کی طرف ہے غالباً۔
اس ربط پر جائیے اور قسط وار اسباق دیکھتے جائیے:)
دانشات — ستمبر 29، 2019 9:24 صبح
آزاد شاعری بھی بحور سے آزاد نہیں۔ :)
آپ کا اشارہ نثری "شاعری" کی طرف ہے غالباً۔
اس ربط پر جائیے اور قسط وار اسباق دیکھتے جائیے:)
بہت شکریہ۔ مگر یہ چوتھی قسط سے شروع ہو رہا ہے۔ کیا آپ پہلی قسط کا ربط دے سکتے ہیں
سید عاطف علی — ستمبر 29، 2019 9:28 صبح
جی حضرت آپکا طنز بالکل جائز ہے۔ مگر میرے علم میں تو آزاد شاعری بھی ایک طرز ہے۔ خیر۔ جناب۔ عروض سے میں نے استفادہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر کچھ خاص سمجھ نہیں آئی۔
ارے بھئی یہ طنز نہیں مزاح تھا ۔ دوبارہ معذرت ۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 29، 2019 9:29 صبح
بہت شکریہ۔ مگر یہ چوتھی قسط سے شروع ہو رہا ہے۔ کیا آپ پہلی قسط کا ربط دے سکتے ہیں
ابتدائی تین اقساط ایک ہی سبق میں ہیں۔
فاخر — ستمبر 29، 2019 12:27 شام
جی حضرت آپکا طنز بالکل جائز ہے۔ مگر میرے علم میں تو آزاد شاعری بھی ایک طرز ہے۔ خیر۔ جناب۔ عروض سے میں نے استفادہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر کچھ خاص سمجھ نہیں آئی۔
ارے بھائی آپ اسے دل پر نہ لیں۔ ہمارے عاطف صاحب کا یہی ہنسوڑمزاج اوران كے مزاح کا یہی انداز ہے۔
فاخر — ستمبر 29، 2019 1:28 شام
احباب کے مشورہ کے بھی مفید ہیں ، اس کو بھی ملحوظ رکھیں ۔تاہم ،میری ادنیٰ سے رائے تھی کہ :’ اگر آپ عروض کے سمجھنے اور اسے اپنے کلام میں پرکھنے کی کوشش کررہے ہیں اور ابھی تک اس کی سمجھ نہیں آسکی ہے ،تو علامہ سیماب ؔ اکبر آبادی کی کتاب ’’رازِ عروض‘‘ اور اخلاق دہلوی کی کتاب ’’فن شاعری‘‘ کا بالکل یکسوئی سے مطالعہ کریں۔ اخلاقؔ دہلوی نے بحروں کی تفہیم کا نیاطریقہ ایجاد کیا ہے، انہوں نے ٹیبل بنا کر اس کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ یقیناً آپ کے لیے مفید ثابت ہوگا ۔ یہ دونوں کتاب ریختہ ڈاٹ کام پر دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ ’’راز عروض‘‘ مؤلفہ سیماب اکبرآبادی کا لنک ہے : سیماب اکبرآبادی | ریختہ
اور یہ
’’فن شاعری ‘‘ مؤلفہ اخلاق دہلوی کا لنک ہے : اخلاق حسین دہلوی | ریختہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%A7-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%8C.108609/