اصلاح اور مرمت وغیرہ کے لیے ایک غزل پیش خدمت ہے۔ بدل کے بھی روش ، اکتا رہی ہے
طبیعت پھر سے پلٹا کھا رہی ہے
شمع دل کی جو بجھتی جا رہی ہے
سیاہی چار سو منڈلا رہی ہے
جہاں میں شور بڑھتا جا رہا ہے
دلوں پر اک خموشی چھا رہی ہے
کوئی رستہ تو روکے آرزو کا!
یہ ناداں اب کدھر کو جا رہی ہے؟
تخیل لے گیا آگے ہی آگے
فراست راہ میں سستا رہی ہے
گزاری عمر یو ں تیرہ شبی میں
تصور میں سدا فردا رہی ہے
لیے ہاتھوں میں ٹکڑے سب، کھڑی ہے
مجھے امید پھر بہلا رہی ہے
ہجوم ِ دوستاں میں روح اپنی
رہی اکثر ہے اور تنہا رہی ہے
تھا دعوا خود شناسی کا ہمیں بھی
اب اپنی طبعہی سہمارہی ہے
کہیں نقصاں نہ ہو جائے دوبارہ
مروت پھر سے آڑے آ رہی ہے
کہاں اتنی جگہ تھی زندگی میں؟
عداوت جو رہی ، بے جا رہی ہے
یہ دنیا فہم کا دھوکا سہی ، پر
بخوبی ہم کو یہ الجھا رہی ہے
دریچہ کھل رہا ہے رفتہ رفتہ
صبا پھر سے قفس میں آ رہی ہے
ہماری برق رفتاری کے آگے
سمے کی نبض بھی پتھرا رہی ہے
واہ واہ
بہت خوب غزل ہے۔
بعض اشعار تو بہت ہی پیارے ہیں۔
فاتح — اکتوبر 1، 2012 7:52 شام
اچھی غزل ہے۔۔۔
چونکہ اصلاح سخن کے زمرے میں "مرمت وَ غیرہْ" کے لیے ارسال کی گئی تھی اور پھر نایاب بھائی نے اپنی محبت کے باعث ہمیں بھی ٹیگ کر دیا تو چند ایک مقامات کی جانب توجہ دلاتے چلیں کہ
لفظ سہمنا ہے نا کہ سہمانا۔ نیز پہلے مصرع کے مضمون کی روشنی میں جو کہنا چاہا ہے دوسرے مصرع میں کا مضمون اتنا خوبی سے ادا بھی نہیں ہوا،مصرع ہی تبدیل کر دیں تو بہتر ہے۔
اردو محاورے کے مطابق نبض ڈوبتی ہے جب کہ آنکھ پتھراتی ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 1، 2012 8:04 شام
زبردست غزل۔
کیا بات ہے۔ واہ واہ۔
الف عین — اکتوبر 2، 2012 5:03 صبح
کاپی کر رہا ہوں۔
شاہد شاہنواز — اکتوبر 3، 2012 12:11 صبح
گزاری عمر یو ں تیرہ شبی میں
تصور میں سدا فردا رہی ہے ÷÷÷÷
فردا مذکر ہے یا مونث؟؟؟
لیے ہاتھوں میں ٹکڑے سب، کھڑی ہے
مجھے امید پھر بہلا رہی ہے۔۔۔ کس چیز کے ٹکڑے؟ کچھ واضح نہیں۔
درج بالا دو سوالوں کے علاوہ مجھے کچھ نہیں سوجھا اور جو کچھ اور سوجھنا تھا وہ اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں۔۔
باقی غزل بلا شبہ اچھی ہے۔۔۔
الف عین — اکتوبر 3، 2012 2:45 صبح
بدل کے بھی روش ، اکتا رہی ہے
طبیعت پھر سے پلٹا کھا رہی ہے
//بہترہو کہ یوں کر دیا جائے
روش بدلی، مگر اکتا رہی ہے
طبیعت پھر سے پلٹا کھا رہی ہے شمع دل کی جو بجھتی جا رہی ہے
سیاہی چار سو منڈلا رہی ہے
// جو دل کی شمع بجھتی جا رہی ہے
سیاہی چار سو منڈلا رہی ہے جہاں میں شور بڑھتا جا رہا ہے
دلوں پر اک خموشی چھا رہی ہے
//درست کوئی رستہ تو روکے آرزو کا!
یہ ناداں اب کدھر کو جا رہی ہے؟
//’کدھر کو‘ ذرا نا گوار گزرتا ہے
یہ ناداں کس طرف اب جا رہی ہے؟ تخیل لے گیا آگے ہی آگے
فراست راہ میں سستا رہی ہے
////درست گزاری عمر یو ں تیرہ شبی میں
تصور میں سدا فردا رہی ہے
//’یوں ‘ کی بجائے ’یوں تو‘ کا محل ہے۔ یا اس طرح کر دو۔ فردا واقعی مذکر ہے۔ اس لئے اس شعر کو بدلنے کی ہی ضرورت ہے۔ پہلا مصرع یوں درست ہو گا۔
گزاری عمر گو تیرہ شبی میں لیے ہاتھوں میں ٹکڑے سب، کھڑی ہے
مجھے امید پھر بہلا رہی ہے
//ٹکڑے کس شے کے، یہ کہیں واضح نہیں۔ اسے پھر سے کہو۔ ساتھ ہی پہلے مصرع میں ایسا کچھ نہ ہو کہ ردیف قافیے کا احساس ہو۔ جیسے اس مصرع کو بھی۔
کھڑی ہے ہاتھ میں ٹکرے لئے سب
تاکہ ’کھڑی ہے‘ اور ’رہی ہے‘ زمین ہے، یہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ ہجوم ِ دوستاں میں روح اپنی
رہی اکثر ہے اور تنہا رہی ہے
//درست تھا دعوا خود شناسی کا ہمیں بھی
اب اپنی طبعہی سہمارہی ہے
//سہما پر بات ہو چکی ہے۔ یہ قافیہ بدلا جائے تو کچھ مشورہ دوں کہیں نقصاں نہ ہو جائے دوبارہ
مروت پھر سے آڑے آ رہی ہے
//کہیں نقصان ہو جائے دوبارہ!!‘ کیا جا سکتا ہے؟؟؟ کہاں اتنی جگہ تھی زندگی میں؟
عداوت جو رہی ، بے جا رہی ہے
//درست یہ دنیا فہم کا دھوکا سہی ، پر
بخوبی ہم کو یہ الجھا رہی ہے
//مفہوم؟ دھوکا بھی تو الجھا سکتا ہے۔ لیکن ’پر‘ کچھ اور سجھا رہا ہے۔ دریچہ کھل رہا ہے رفتہ رفتہ
صبا پھر سے قفس میں آ رہی ہے
//درست، ویسے’پھر سے‘ کی جگہ محض پھر آ سکے تو بہتر ہے۔ ہماری برق رفتاری کے آگے
سمے کی نبض بھی پتھرا رہی ہے
//نبض پتھرانے کی بات ہو چکی ہے۔ اس کو بدلا جائے تو کچھ سوچیں
مجموعی طور پر کاوش تو اچھی ہے لیکن غزل میں کوئی خاص بات کہنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس کو مشق کے طور پر لے لو۔ اور مزید کہو، تم اس سے بہتر کہہ سکتی ہو۔
شمع بر وزن فاع ہوتا ہے جب کہ یہاں بر وزن فعو باندھا گیا ہے۔
لفظ سہمنا ہے نا کہ سہمانا۔ نیز پہلے مصرع کے مضمون کی روشنی میں جو کہنا چاہا ہے دوسرے مصرع میں کا مضمون اتنا خوبی سے ادا بھی نہیں ہوا،مصرع ہی تبدیل کر دیں تو بہتر ہے۔ اردو محاورے کے مطابق نبض ڈوبتی ہے جب کہ آنکھ پتھراتی ہے۔
پڑھنے اور اصلاح وغیرہ (سپیس کے بغیر) کرنے کے لیے بہت شکرگزار ہوں۔ شمع کے بارے میں یہیں کہیں پڑھا تھا کہ اسے اس طرح بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اب تبدیل کر لیتی ہوں، شکریہ۔
گزاری عمر یو ں تیرہ شبی میں
تصور میں سدا فردا رہی ہے ÷÷÷÷
فردا مذکر ہے یا مونث؟؟؟
لیے ہاتھوں میں ٹکڑے سب، کھڑی ہے
مجھے امید پھر بہلا رہی ہے۔۔۔ کس چیز کے ٹکڑے؟ کچھ واضح نہیں۔
درج بالا دو سوالوں کے علاوہ مجھے کچھ نہیں سوجھا اور جو کچھ اور سوجھنا تھا وہ اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں۔۔
باقی غزل بلا شبہ اچھی ہے۔۔۔
گزاری عمر یو ں تیرہ شبی میں
تصور میں سدا فردا رہی ہے
//’یوں ‘ کی بجائے ’یوں تو‘ کا محل ہے۔ یا اس طرح کر دو۔ فردا واقعی مذکر ہے۔ اس لئے اس شعر کو بدلنے کی ہی ضرورت ہے۔
لیے ہاتھوں میں ٹکڑے سب، کھڑی ہے
مجھے امید پھر بہلا رہی ہے
//ٹکڑے کس شے کے، یہ کہیں واضح نہیں۔ اسے پھر سے کہو۔ ساتھ ہی پہلے مصرع میں ایسا کچھ نہ ہو کہ ردیف قافیے کا احساس ہو۔ جیسے اس مصرع کو بھی۔
کھڑی ہے ہاتھ میں ٹکرے لئے سب
تاکہ ’کھڑی ہے‘ اور ’رہی ہے‘ زمین ہے، یہ غلط فہمی دور ہو جائے۔
میرا خیال تھا کہ پتھرانے کو شاید رک جانے کے معنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہو ، کیا یہاں 'سمے کی نبض تھمتی جا رہی ہے' درست ہو گا؟
ویسے اتنی زیادہ اصلاح کی ہے آپ نے، بہت شکریہ استاد محترم۔ مشق ہو گئی میری۔
شاہد شاہنواز — اکتوبر 3، 2012 11:09 صبح
گزاری عمر یو ں تیرہ شبی میں
تصور میں سدا فردا رہی ہے ۔۔۔ دوسرا مصرع اسی تصور سے ضروری نہیں۔۔۔ تصو ر بدلا جاسکتا ہے، موضوع کچھ اور ہوسکتا ہے۔۔ جیسے
گزاری عمر جب تیرہ شبی میں۔۔
تصور میں سحر کیوں آرہی ہے؟؟ گزاری عمر بھی تیرہ شبی میں۔۔۔
سحر بھی ذہن میں مسکا رہی ہے (مسکرا کو مختصر کر کے لکھا ہے۔ اس کی جگہ کوئی اور فعل استعمال ہوسکتا ہے)
شاہد شاہنواز — اکتوبر 3، 2012 11:11 صبح
ہماری برق رفتاری کے آگے، سمے کی نبض بھی پتھرا رہی ہے۔۔۔
سمے کی نبض تھمتی جا رہی ہے۔۔۔ شاید یہ آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔
پڑھنے اور اصلاح وغیرہ (سپیس کے بغیر) کرنے کے لیے بہت شکرگزار ہوں۔ شمع کے بارے میں یہیں کہیں پڑھا تھا کہ اسے اس طرح بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اب تبدیل کر لیتی ہوں، شکریہ۔
اعتراض نہیں، سوال ہے اور استاد محترم جناب اعجاز (الف عین)صاحب نے اسے مذکر کہا ہے۔۔۔ اس کا مطلب مستقبل ہے اور مستقبل تو مذکر ہوتا ہے، اسی بنیاد پر میرا سوال تھا۔۔۔
اعتراض نہیں، سوال ہے اور استاد محترم جناب اعجاز (الف عین)صاحب نے اسے مذکر کہا ہے۔۔۔ اس کا مطلب مستقبل ہے اور مستقبل تو مذکر ہوتا ہے، اسی بنیاد پر میرا سوال تھا۔۔۔