جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
ج ہا تے رَ نق شے ق دم دے ک تے ہے
خ یا با خ یا با ا رم دے ک تے ہے
غالب نے " تیرا " کا الف گرا کر " ر " پر " زبر " کی اضافت ( اشباع ) کر کے وزن پورا کیا ہے، کیا میری تقطیع درست ہے؟
تیرا میں الف لفظ کے آخر میں ہے جبکہ جو الف میں نے گرائے ہیں وہ الفاظ کے درمیاں میں تھے، شاید یہی میری غلتی ہے ؟
کیا ہم نہایت ضرورت کے وقت بھی درمیان میں سے لفظ نہیں گرا سکتے ؟
کیا ہم بوقتِ ضرورت واولز کے علاوہ بھی کسی لفظ کو گرا سکتے ہیں ؟
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
َ
حضرت غالب نے اس غزل کے مقطعہ کے آخری مصرعہ میں اہلِ کو اہلے ( ے ) کی اضافت کیساتھ تقطیع کر کے اشباع سے کام لیا ہے، کیا میں درست ہوں؟